یورپ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند پاکستانی طلبا کے لیے ایک بڑی اور اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ اٹلی کی وزارتِ خارجہ و بین الاقوامی تعاون نے تعلیمی سال 2026–27 کے لیے اپنی باوقار اور مکمل فنڈڈ اسکالرشپس کا اعلان کر دیا ہے، جن کے تحت پاکستانی طلبہ اٹلی کی ممتاز سرکاری جامعات اور تحقیقی اداروں میں تعلیم حاصل کر سکیں گے۔

یہ اسکالرشپ پروگرام بین الاقوامی طلبا کو اٹلی میں معیاری تعلیم کے مواقع فراہم کرنے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے، جس کا مقصد تعلیمی تعاون کو فروغ دینا اور مختلف ممالک کے طلبا کو اٹلی کے جدید تعلیمی نظام سے روشناس کروانا ہے۔ پاکستانی طلبا بھی اس پروگرام کے لیے اہل ہیں۔

واضح رہے کہ ایم اے ای سی آئی اسکالرشپ کے تحت منتخب ہونے والے طلبا کو ہر ماہ 900 یورو بطور وظیفہ فراہم کیا جائے گا، جس سے رہائش، خوراک اور دیگر بنیادی اخراجات پورے کیے جا سکیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ اٹلی کی سرکاری جامعات میں ٹیوشن فیس اور داخلہ فیس سے مکمل استثنا دیا جائے گا۔

اسکالرشپ میں ہیلتھ اور ایکسیڈنٹ انشورنس بھی شامل ہے، جو دورانِ تعلیم طلبا کو طبی تحفظ فراہم کرے گی۔

اسکالرشپس عام طور پر 3، چھ یا 9 ماہ کے لیے دی جاتی ہیں، تاہم جو طلبا طویل المدتی ڈگری پروگرامز جیسے ماسٹرز یا پی ایچ ڈی میں داخلہ حاصل کریں گے، وہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر اسکالرشپ میں توسیع کے لیے بھی درخواست دے سکتے ہیں۔

کن پروگرامز کے لیے درخواست دی جا سکتی ہے؟

اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے یہ اسکالرشپ مختلف تعلیمی شعبہ جات میں دستیاب ہے، جن میں ماسٹرز ڈگری پروگرامز، پی ایچ ڈی پروگرامز اور تحقیقی منصوبے شامل ہیں۔ ہر پروگرام کے لیے اہلیت کی شرائط الگ مقرر کی گئی ہیں تاکہ اہل اور باصلاحیت طلبہ کو مواقع فراہم کیے جا سکیں۔

اہلیت کے معیار

اسکالرشپ کے لیے درخواست دینے والے پاکستانی امیدواروں کو درج ذیل شرائط پوری کرنا ہوں گی۔

ماسٹرز پروگرامز کے لیے امیدوار کی عمر 28 سال سے کم ہونی چاہیے اور اس کے پاس متعلقہ شعبے میں بیچلر ڈگری ہونی ضروری ہے۔

پی ایچ ڈی پروگرامز کے لیے عمر کی حد 30 سال مقرر کی گئی ہے، جبکہ امیدوار کے پاس ماسٹرز ڈگری کے ساتھ کسی اطالوی یا متعلقہ یونیورسٹی کی جانب سے داخلے یا پیشگی قبولیت (Pre-Acceptance) کا خط ہونا لازمی ہے۔

تحقیقی پروگرامز کے لیے درخواست دینے والے امیدواروں کی زیادہ سے زیادہ عمر 40 سال تک ہو سکتی ہے۔

درخواست دینے کا طریقہ کار

اسکالرشپ کے لیے تمام درخواستیں صرف Study in Italy کے سرکاری آن لائن پورٹل کے ذریعے جمع کروائی جائیں گی۔ امیدواروں کو پہلے ویب سائٹ پر اپنا اکاؤنٹ بنانا ہوگا، اس کے بعد اپنی اہلیت کے مطابق کورس یا پروگرام کا انتخاب کرنا ہوگا اور تمام مطلوبہ دستاویزات آن لائن اپ لوڈ کرنا ہوں گی۔ نامکمل یا تاخیر سے جمع کروائی گئی درخواستوں پر غور نہیں کیا جائے گا۔

درکار دستاویزات

درخواست کے ساتھ درج ذیل کاغذات جمع کروانا لازمی ہیں:

پاسپورٹ کی واضح کاپی

تفصیلی سی وی (یوروپاس فارمیٹ کو ترجیح دی جائے گی)

تعلیمی اسناد اور ٹرانسکرپٹس

ذاتی تعارفی یا حوصلہ افزائی کا خط (Motivation Letter)

زبان کی مہارت کا سرٹیفکیٹ (انگریزی یا اطالوی)

ماسٹرز اور پی ایچ ڈی پروگرامز کے لیے داخلہ یا پری ایکسیپٹنس لیٹر

پی ایچ ڈی اور ریسرچ امیدواروں کے لیے جامع تحقیقی منصوبہ

یاد رہے کہ اسکالرشپ کے لیے درخواست جمع کروانے کی متوقع آخری تاریخ جون 2026 کے وسط تک ہے۔

تعلیمی ماہرین کے مطابق یہ اسکالرشپ پاکستانی طلبا کے لیے ایک سنہری موقع ہے، جس کے ذریعے وہ اٹلی کے جدید تعلیمی اور تحقیقی ماحول میں تعلیم حاصل کر کے نہ صرف اپنے مستقبل کو روشن بنا سکتے ہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی بھی کر سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

Italy Scholarships اٹلی اسکالرشپس طلبا.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اٹلی اسکالرشپس پروگرامز کے لیے کے لیے درخواست پاکستانی طلبا اسکالرشپ کے پی ایچ ڈی اٹلی کی طلبا کو

پڑھیں:

پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
 تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی

یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔
 

مزید :

متعلقہ مضامین

  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ