Juraat:
2026-07-24@06:26:50 GMT

ٹرمپ،نیتن،مودی،شہباز

اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT

ٹرمپ،نیتن،مودی،شہباز

بے لگام / ستار چوہدری

1931 کی ایک دھند آلود صبح، لندن کے شاہی کلب کے میدانوں پر سورج کی روشنی ایسے پڑ رہی تھی جیسے سونے کے ذرات سبز گھاس پر بکھررہے ہوں، سرخ کوٹ پہنے انگریزلارڈ، ڈیوک اور دولت مند امریکی مہمان گھوڑوں پر سوار تھے ۔ شکاری کتّوں کی آوازیں فضا میں تیررہی تھیں۔ یہ محض کھیل نہیں تھا، یہ برطانوی اشرافیہ کی تہذیب، طاقت اورغرور کا مظاہرہ تھا۔ اسی منظر میں ایک خاتون کی آمد ہوئی، لمبے قد، نفیس لباس، مگر شاہی تکلف سے آزاد چال ،اس کی آنکھوں میں خوف نہیں، تجسس تھا، اس کے چہرے پرحُسن نہیں ،کشش تھی، وہ کشش جو خوبصورتی سے کہیں زیادہ خطرناک ہوتی ہے ۔ اس کا نام والِس سمپسن تھا۔ امریکہ سے آئی ہوئی ایک طلاق یافتہ خاتون، جس کی آزادی اس کی سب سے بڑی دولت تھی۔۔۔ شہزادہ ایڈورڈ، جو اس وقت برطانیہ کا ولی عہد تھا، اس محفل میں موجود تھا۔ اس نے اس عورت کو دیکھا تو وہ لمحہ اس کی یاد میں ہمیشہ کیلئے ٹھہرگیا۔ وہ خاتون دوسرے مہمانوں کی طرح جھکی ہوئی نہیں تھی، وہ ایسے کھڑی تھی جیسے یہ دنیا اس کی اپنی ہو۔ وہ شکار کھیلنے آئی تھی، مگر تاریخ نے طے کر لیا تھا، کہ اس دن شکارخود بادشاہ ہوگا۔والِس کو شہزادے سے متعارف کرایا گیا۔ وہ نہ گھبرائی، نہ مرعوب ہوئی۔ اس نے اس سے ایسے مصافحہ کیا جیسے کسی عام شخص سے ۔۔۔” تو آپ وہ شہزادہ ہیں جس کی تصویریں ہراخبار میں ہوتی ہیں ۔۔۔”؟ اس نے مسکرا کر کہا۔ایڈورڈ چونک گیا۔ لوگ اس سے بات نہیں کرتے تھے ، لوگ اس کے گرد سانس لیتے تھے ۔ وہ ہنس پڑا۔ اسی لمحے ، کچھ ٹوٹ گیا۔والِس کی باتوں میں ایک جادو تھا۔ وہ شاہی زندگی کا مذاق اڑاتی، آداب پرطنز کرتی، اورپھرایک دم اتنی سنجیدہ ہو جاتی کہ سامنے والا اس کی آنکھوں میں کھو جاتا،وہ اس سے کہتی۔۔۔ ” اقتدار ایک سنہری پنجرہ ہے ،مگر پرندے پھربھی قید رہتے ہیں” ۔۔۔
ایڈورڈ پہلی بارمحسوس کررہا تھا کہ کوئی اس کے دل کی زبان بول رہا ہے ۔شاہی محل میں ایڈورڈ ہرچیزرکھتا تھا، سوائے سکون کے ۔ جب وہ والِس سے ملتا، محل کی دیواریں پیچھے ہٹنے لگتیں۔ وہ اس کے ساتھ قہقہے لگاتا، اس کے ساتھ خاموشی بانٹتا۔۔۔ اور پہلی بار اسے محسوس ہوا کہ وہ ”زندہ ”ہے ۔ والِس اس کی محبوب نہیں بنی تھی، وہ اس کی ضرورت بن گئی تھی۔۔۔ اور جب کسی بادشاہ کو کسی عورت کی ضرورت پڑ جائے ، تو سلطنتیں لرزنے لگتی ہیں۔جب شہزادہ ایڈورڈ کے محل میں والِس سمپسن کا ذکرعام ہونے لگا تو دربار کی فضا بدل گئی۔ پہلے سرگوشیاں ہوئیں، پھر فکرمندی، اورآخرکارخوف۔ برطانوی شاہی خاندان کے لیے یہ محض ایک عورت نہیں تھی، بلکہ ایک امریکی، مطلقہ، آزاد خیال عورت تھی ۔۔۔اور یہی تین لفظ انہیں سب سے زیادہ خوفناک لگتے تھے ۔ وزیراعظم، بشپ، درباری، سب ایک بات پرمتفق تھے یہ عورت تخت کیلئے زہر ہے ۔چرچ آف انگلینڈ نے اعلان کر دیا کہ ایک مطلقہ عورت سے شادی ایک اخلاقی گناہ ہے ۔ حکومت نے خبردار کیا کہ قوم اس رشتے کو قبول نہیں کرے گی۔ اخبارات نے والِس کو سازشی، خطرناک اور موقع پرست قرار دینا شروع کر دیا۔ لیکن ان سب شوروں کے درمیان، ایک آدمی تھا جو خاموشی سے ایک عورت کی آواز سن رہا تھا۔ ایڈورڈ جانتا تھا کہ وہ والِس کو نہیں چھوڑسکتا۔ وہ اس کی عادت نہیں تھی، وہ اس کی زندگی بن چکی تھی۔والِس ایڈورڈ کو کبھی تخت چھوڑنے کیلئے نہیں کہتی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ محبت زبردستی نہیں مانگی جاتی، وہ صرف اتنا کہتی، میں اس بادشاہ سے نہیں، اس مرد سے محبت کرتی ہوں جو تاج کے نیچے سانس لیتا ہے ۔ اگر وہ مرگیا تو میں بھی تمہیں نہیں چاہوں گی، یہ جملہ ایڈورڈ کے دل میں تیر کی طرح پیوست ہو گیا۔ کیا کوئی عورت ایک سلطنت سے زیادہ قیمتی ہو سکتی ہے ۔۔۔؟۔۔۔ کیا کوئی محبت ایک تاج سے بھاری ہو سکتی ہے ۔۔۔؟ ایڈورڈ کے لیے اس کا جواب ہاں تھا۔
دسمبر 1936ء کی ایک سرد رات۔ لندن کے شاہی محل میں چراغ جل رہے تھے ، مگرایڈورڈ کے دل میں اندھیرا تھا۔ ایک طرف صدیوں کی روایت، دوسری طرف ایک عورت جس کی آنکھوں میں اس کی روح رہتی تھی۔ وہ کھڑکی کے پاس کھڑا برف گرتا دیکھ رہا تھا، اورسوچ رہا تھا، کیا بادشاہ ہونا واقعی زندگی ہے یا صرف ایک خوبصورت قید۔۔۔؟ اسی رات، اس نے فیصلہ کر لیا۔10دسمبر1936، ایڈورڈ نے قوم سے خطاب میں کہا، میں وہ ذمہ داریاں ادا نہیں کرسکتا جو مجھ پرہیں، اگر میرے ساتھ وہ عورت نہ ہو جس سے میں محبت کرتا ہوں۔ یہ جملہ، تاریخ میں گونج بن گیا۔ اگلے دن اس نے تخت چھوڑ دیا۔ ایک بادشاہ ایک عورت کیلئے اپنی سلطنت سے دستبردارہوگیا۔اگلے دن وہ اپنا سب کچھ چھوڑ کراپنی محبوبہ کے ساتھ بحری جہاز پرفرانس روانہ ہوگیا۔وہ دنیا کی نظروں میں ” مرگیا” لیکن تاریخ میں زندہ ہوگیا،ایک تاریخ رقم کردی،وہ سلطنت جس کی سرزمین پر سورج نہیں ڈوبتا تھا،وہ ایک انسان کی محبت میں ٹھکرا دی،تاریخ یہی کہتی ہے ،انسانوں سے محبت کرنے والے تخت وتاج ٹھکرا دیتے ہیں، وہ شہزادہ ایڈورڈ ہویا شہزادی مکو، تخت وتاج سے محبت کرنیوالے انسانوں کوٹھکرا دیتے ہیں،وہ ٹرمپ ہویا نیتن،مودی ہویاپیوٹن،شہبازہویا اس کا باس ۔۔۔
٭٭٭

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: ایڈورڈ کے ایک عورت رہا تھا

پڑھیں:

’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔

انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔

قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔

دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔

بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔

ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری