Juraat:
2026-07-24@03:55:57 GMT

ٹرمپ،نیتن،مودی،شہباز

اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT

ٹرمپ،نیتن،مودی،شہباز

بے لگام / ستار چوہدری

1931 کی ایک دھند آلود صبح، لندن کے شاہی کلب کے میدانوں پر سورج کی روشنی ایسے پڑ رہی تھی جیسے سونے کے ذرات سبز گھاس پر بکھررہے ہوں، سرخ کوٹ پہنے انگریزلارڈ، ڈیوک اور دولت مند امریکی مہمان گھوڑوں پر سوار تھے ۔ شکاری کتّوں کی آوازیں فضا میں تیررہی تھیں۔ یہ محض کھیل نہیں تھا، یہ برطانوی اشرافیہ کی تہذیب، طاقت اورغرور کا مظاہرہ تھا۔ اسی منظر میں ایک خاتون کی آمد ہوئی، لمبے قد، نفیس لباس، مگر شاہی تکلف سے آزاد چال ،اس کی آنکھوں میں خوف نہیں، تجسس تھا، اس کے چہرے پرحُسن نہیں ،کشش تھی، وہ کشش جو خوبصورتی سے کہیں زیادہ خطرناک ہوتی ہے ۔ اس کا نام والِس سمپسن تھا۔ امریکہ سے آئی ہوئی ایک طلاق یافتہ خاتون، جس کی آزادی اس کی سب سے بڑی دولت تھی۔۔۔ شہزادہ ایڈورڈ، جو اس وقت برطانیہ کا ولی عہد تھا، اس محفل میں موجود تھا۔ اس نے اس عورت کو دیکھا تو وہ لمحہ اس کی یاد میں ہمیشہ کیلئے ٹھہرگیا۔ وہ خاتون دوسرے مہمانوں کی طرح جھکی ہوئی نہیں تھی، وہ ایسے کھڑی تھی جیسے یہ دنیا اس کی اپنی ہو۔ وہ شکار کھیلنے آئی تھی، مگر تاریخ نے طے کر لیا تھا، کہ اس دن شکارخود بادشاہ ہوگا۔والِس کو شہزادے سے متعارف کرایا گیا۔ وہ نہ گھبرائی، نہ مرعوب ہوئی۔ اس نے اس سے ایسے مصافحہ کیا جیسے کسی عام شخص سے ۔۔۔” تو آپ وہ شہزادہ ہیں جس کی تصویریں ہراخبار میں ہوتی ہیں ۔۔۔”؟ اس نے مسکرا کر کہا۔ایڈورڈ چونک گیا۔ لوگ اس سے بات نہیں کرتے تھے ، لوگ اس کے گرد سانس لیتے تھے ۔ وہ ہنس پڑا۔ اسی لمحے ، کچھ ٹوٹ گیا۔والِس کی باتوں میں ایک جادو تھا۔ وہ شاہی زندگی کا مذاق اڑاتی، آداب پرطنز کرتی، اورپھرایک دم اتنی سنجیدہ ہو جاتی کہ سامنے والا اس کی آنکھوں میں کھو جاتا،وہ اس سے کہتی۔۔۔ ” اقتدار ایک سنہری پنجرہ ہے ،مگر پرندے پھربھی قید رہتے ہیں” ۔۔۔
ایڈورڈ پہلی بارمحسوس کررہا تھا کہ کوئی اس کے دل کی زبان بول رہا ہے ۔شاہی محل میں ایڈورڈ ہرچیزرکھتا تھا، سوائے سکون کے ۔ جب وہ والِس سے ملتا، محل کی دیواریں پیچھے ہٹنے لگتیں۔ وہ اس کے ساتھ قہقہے لگاتا، اس کے ساتھ خاموشی بانٹتا۔۔۔ اور پہلی بار اسے محسوس ہوا کہ وہ ”زندہ ”ہے ۔ والِس اس کی محبوب نہیں بنی تھی، وہ اس کی ضرورت بن گئی تھی۔۔۔ اور جب کسی بادشاہ کو کسی عورت کی ضرورت پڑ جائے ، تو سلطنتیں لرزنے لگتی ہیں۔جب شہزادہ ایڈورڈ کے محل میں والِس سمپسن کا ذکرعام ہونے لگا تو دربار کی فضا بدل گئی۔ پہلے سرگوشیاں ہوئیں، پھر فکرمندی، اورآخرکارخوف۔ برطانوی شاہی خاندان کے لیے یہ محض ایک عورت نہیں تھی، بلکہ ایک امریکی، مطلقہ، آزاد خیال عورت تھی ۔۔۔اور یہی تین لفظ انہیں سب سے زیادہ خوفناک لگتے تھے ۔ وزیراعظم، بشپ، درباری، سب ایک بات پرمتفق تھے یہ عورت تخت کیلئے زہر ہے ۔چرچ آف انگلینڈ نے اعلان کر دیا کہ ایک مطلقہ عورت سے شادی ایک اخلاقی گناہ ہے ۔ حکومت نے خبردار کیا کہ قوم اس رشتے کو قبول نہیں کرے گی۔ اخبارات نے والِس کو سازشی، خطرناک اور موقع پرست قرار دینا شروع کر دیا۔ لیکن ان سب شوروں کے درمیان، ایک آدمی تھا جو خاموشی سے ایک عورت کی آواز سن رہا تھا۔ ایڈورڈ جانتا تھا کہ وہ والِس کو نہیں چھوڑسکتا۔ وہ اس کی عادت نہیں تھی، وہ اس کی زندگی بن چکی تھی۔والِس ایڈورڈ کو کبھی تخت چھوڑنے کیلئے نہیں کہتی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ محبت زبردستی نہیں مانگی جاتی، وہ صرف اتنا کہتی، میں اس بادشاہ سے نہیں، اس مرد سے محبت کرتی ہوں جو تاج کے نیچے سانس لیتا ہے ۔ اگر وہ مرگیا تو میں بھی تمہیں نہیں چاہوں گی، یہ جملہ ایڈورڈ کے دل میں تیر کی طرح پیوست ہو گیا۔ کیا کوئی عورت ایک سلطنت سے زیادہ قیمتی ہو سکتی ہے ۔۔۔؟۔۔۔ کیا کوئی محبت ایک تاج سے بھاری ہو سکتی ہے ۔۔۔؟ ایڈورڈ کے لیے اس کا جواب ہاں تھا۔
دسمبر 1936ء کی ایک سرد رات۔ لندن کے شاہی محل میں چراغ جل رہے تھے ، مگرایڈورڈ کے دل میں اندھیرا تھا۔ ایک طرف صدیوں کی روایت، دوسری طرف ایک عورت جس کی آنکھوں میں اس کی روح رہتی تھی۔ وہ کھڑکی کے پاس کھڑا برف گرتا دیکھ رہا تھا، اورسوچ رہا تھا، کیا بادشاہ ہونا واقعی زندگی ہے یا صرف ایک خوبصورت قید۔۔۔؟ اسی رات، اس نے فیصلہ کر لیا۔10دسمبر1936، ایڈورڈ نے قوم سے خطاب میں کہا، میں وہ ذمہ داریاں ادا نہیں کرسکتا جو مجھ پرہیں، اگر میرے ساتھ وہ عورت نہ ہو جس سے میں محبت کرتا ہوں۔ یہ جملہ، تاریخ میں گونج بن گیا۔ اگلے دن اس نے تخت چھوڑ دیا۔ ایک بادشاہ ایک عورت کیلئے اپنی سلطنت سے دستبردارہوگیا۔اگلے دن وہ اپنا سب کچھ چھوڑ کراپنی محبوبہ کے ساتھ بحری جہاز پرفرانس روانہ ہوگیا۔وہ دنیا کی نظروں میں ” مرگیا” لیکن تاریخ میں زندہ ہوگیا،ایک تاریخ رقم کردی،وہ سلطنت جس کی سرزمین پر سورج نہیں ڈوبتا تھا،وہ ایک انسان کی محبت میں ٹھکرا دی،تاریخ یہی کہتی ہے ،انسانوں سے محبت کرنے والے تخت وتاج ٹھکرا دیتے ہیں، وہ شہزادہ ایڈورڈ ہویا شہزادی مکو، تخت وتاج سے محبت کرنیوالے انسانوں کوٹھکرا دیتے ہیں،وہ ٹرمپ ہویا نیتن،مودی ہویاپیوٹن،شہبازہویا اس کا باس ۔۔۔
٭٭٭

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: ایڈورڈ کے ایک عورت رہا تھا

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری