یہ گرین لینڈ کا قصہ کیا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
دنیا پر قبضے کی خواہش کوئی نئی نہیں ہے، مختلف طالع آزماؤں نے مختلف ادوار میں یہ کوشش کی لیکن کوئی بھی دنیا کو فتح نہیں کرسکا۔ کئی شخصیات نے دنیا کے بڑے حصے کو فتح کیا جن میں سکندر اعظم، چنگیز خان اور سلطان محمد فاتح شامل ہیں۔
حالیہ تاریخ میں ایسی ہی ایک کوشش ایڈولف ہٹلر نے بھی کی تھی، ہرچند کے ہٹلر کا بنیادی مقصد دنیا کو فتح کرنا نہیں تھا بلکہ ہٹلر کا بنیادی ہدف مشرقی یورپ اور روس کی زمین پر قبضہ کرنا تھا تاکہ جرمن نسل کے لیے ’’رہائش کی جگہ‘‘ بنائی جاسکے۔
آج کل ایسی ہی کچھ خواہشات صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دل میں مچل رہی ہیں اور ان کے اندر کا جائیداد کی خریدوفروخت کا سرمایہ کار وسیع رقبے پر قبضہ چاہتا ہے۔ وینیزویلا پر قبضے کے بعد اب اس کی رال گرین لینڈ پر ٹپک رہی ہے بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ اس کی بری نظر گرین لینڈ پر ہے جوکہ دنیا کا سب سے بڑا جزیرہ ہے مگر براعظم نہیں ہے۔
گرین لینڈ کا نام اسکینڈے نیویا کے آباد کاروں نے متعارف کرایا تھا۔ گرین لینڈ ڈینش زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ’’لوگوں کی سرزمین‘‘ ہے۔ یہ خودمختار ملک ڈنمارک کی مملکت کا حصہ ہے اور بحر منجمد شمالی اور بحراوقیانوس کے درمیان میں واقع ہے۔ اس کا رقبہ اکیس لاکھ چھیاسٹھ ہزار مربع کلومیٹر ہے جس میں سے برفانی تہہ کا رقبہ سترہ لاکھ پچپن ہزار مربع کلومیٹر ہے جو کل رقبے کا اکیاسی فی صد بنتا ہے اور اس کی آبادی تقریباً ستاون ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔
گرین لینڈ کی تاریخ 2500 سال ق م کی ہے کہ جن کے ثبوت اب بھی آثارقدیمہ کی صورت میں موجود ہیں۔ مختلف ادوار سے گزرتے ہوئے 986 عیسوی سے گرین لینڈ کا مغربی ساحل آئس لینڈ اور ناروے کے باشندوں نے آباد کرنا شروع کردیا تھا۔ ان میں سے کچھ آبادیاں صدیوں تک قائم رہیں اور کچھ پندرہویں صدی میں ختم ہوگئیں جس کی ممکنہ وجہ قحط سالی یا لڑائی جھگڑے ہوسکتے ہیں۔ 1721 میں ایک بہت بڑی مہم چلائی گئی جس کے تحت ناروے کے مشنری اور دیگر افراد پر مشتمل لوگ گرین لینڈ گئے۔ جولائی 1931 میں ناروے نے مشرقی گرین لینڈ کو غیرآباد علاقہ کہہ کر اس پر قبضہ کرلیا۔ 1933 میں ڈنمارک اور ناروے یہ مقدمہ بین الاقوامی عدالت میں لے گئے اور جس کا فیصلہ ناروے کے خلاف آیا۔
دوسری جنگ عظیم میں گرین لینڈ کا رابطہ ڈنمارک سے ٹوٹ گیا جب جرمنی نے ڈنمارک پر قبضہ کرلیا۔ اس دوران امریکا نے گرین لینڈ کا دفاعی کنٹرول سنبھال لیا تھا جو جنگ کے بعد دوبارہ ڈنمارک کے حوالے کردیا گیا تھا۔ سرد جنگ کے دوران امریکا نے گرین لینڈ کے شمالی حصے میں فوجی اڈے قائم کیے اور یوں یہ جزیرہ عالمی طاقتوں کے درمیان اسٹریٹیجک محاذ بن گیا۔ برف کے نیچے چھپی معدنیات، آرکٹک کے کھلے سمندری راستے اور عالمی طاقتوں کی جغرافیائی مقابلے نے گرین لینڈ کو جغرافیہ کا حصہ نہیں بلکہ سیاست اور طاقت کا مرکز بھی بنادیا۔
1979 میں ڈنمارک نے گرین لینڈ کو محدود خودمختاری تو دے دی مگر دفاع، خارجہ، کرنسی اور معاشی امور میں اپنا اختیار برقرار رکھا۔ بیسویں صدی کے آخر اور اکیسویں صدی کے آغاز میں گرین لینڈ نے مزید خودمختاری حاصل کی اور مقامی حکومت قائم کی لیکن گرین لینڈ آج بھی مملکت ڈنمارک کا حصہ ہے۔ اب اس پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ گرین لینڈ میں ایسا کیا ہے کہ امریکا گرین لینڈ پر قبضہ کرنا چاہتا ہے؟
سب سے پہلی بات کہ ڈونلڈ ٹرمپ پہلے امریکی صدر نہیں ہے کہ جس نے گرین لینڈ میں دل چسپی کا اظہار کیا ہے، لیکن ہاں اس لحاظ سے پہلے صدر ضرور ہے کہ جس نے گرین لینڈ پر حملہ کرکے قبضے کی بات کی ہے۔ امریکا نے 1867 اور 1946 میں بھی گرین لینڈ خریدنے کے امکانات پر غور کیا تھا لیکن یہ منصوبے عملی شکل اختیار نہ کرسکے۔ اس کے بعد بھی امریکا نے یہ کوششیں ختم نہ کی اور بعد میں آنے والے تمام ہی صدور نے اپنے اپنے دور میں گرین لینڈ پر قبضے کے لیے کوششیں جاری رکھیں۔
گرین لینڈ کا حصول امریکا کے لیے قومی سلامتی کے نقطہ نظر سے نہایت ضروری ہے کیوںکہ آرکٹک خطے میں روس اور چین کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں امریکا کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ ٹرمپ کی دل چسپی میں علاقے کی وسعت اور علامتی طاقت بھی اہم کردار ادا کررہی ہے۔ اس کے علاوہ گرین لینڈ معدنی وسائل کے لحاظ سے بھی غیرمعمولی اہمیت رکھتا ہے۔ یہاں یورینیم، سونا، تیل، اور گیس کے علاوہ نایاب معدنیات (ریئر ارتھ منرلز) کے بڑے ذخائر موجود ہیں۔
جیولوجیکل سروے آف ڈنمارک اینڈ گرین لینڈ کے مطابق یہ ملک نایاب دھاتوں کے ذخائر سے مالامال ہے، جن میں سترہ ایسی نایاب دھاتیں بھی شامل ہیں جو ڈرونز، الیکٹرک گاڑیوں، اور جنگی طیاروں سمیت جدید ٹیکنالوجی اور دفاعی صنعت میں استعمال ہوتی ہیں۔ گرین لینڈ میں گریفائٹ، لیتھیم اور تانبے کے ذخائر بھی موجود ہیں جو عالمی مجموعی ذخائر کا تقریباً 0.
اب آپ کو اس کا جواب مل گیا ہوگا کہ امریکا کیوں گرین لینڈ پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ یہ وسائل اور اس پر قبضے کی جنگ ہے۔ ہر دور کے وسائل مختلف رہے ہیں۔ کبھی غلہ، مویشی اور عورتیں وسائل سمجھیں جاتے تھے لیکن آج کے وسائل کچھ اور ہیں۔ ڈنمارک اور یورپ اتنی آسانی سے گرین لینڈ امریکا کے حوالے نہیں ہونے دے گا۔ ڈنمارک گرین لینڈ میں اپنی فوجی طاقت بڑھا رہا ہے۔ جرمنی، فرانس، سویڈن، فن لینڈ، ناروے، برطانیہ، اور ہالینڈ نے ڈنمارک کی فوجی مشقوں ’’آرکٹک ریزیلینس‘‘ کے تحت اپنے فوجی دستے بھیجے ہیں۔ ان حالات میں تصادم کا خطرہ بڑھ رہا ہے اور دوسری جنگ عظیم کے بعد پہلی دفعہ یورپ اور امریکا کے راستے الگ ہورہے ہیں۔ ایران کے معاملے میں پیچھے ہٹنے کو ٹرمپ کے لیے قبول کرنا مشکل ہوگا اور اب گرین لینڈ/ ڈنمارک آنکھیں دکھا رہا ہے۔ مستقبل میں دنیا بڑی بڑی سلطنتوں اور ان کی طفیلی ریاستوں پر مشتمل ہوگی۔ اس میں ہمارا کیا مستقبل ہوگا؟ اس کا فیصلہ ہماری اشرافیہ کو بہت سمجھ داری سے کرنا ہوگا۔ امریکا اب تک طالع آزماؤں کے خلاف رہا ہے لیکن اس دفعہ ایسا لگ رہا ہے کہ خود امریکا نے یہ کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ امریکی ویسے بھی اس کو اپنا حق سمجھتے ہیں اور جو لوگ مینیفیسٹ ڈیسٹینی (destiny manifest) کے بارے جانتے ہیں وہ یہ جانتے ہیں کہ یہ بیانیہ دنیا پر امریکی سام راج کے قبضے کے حق میں پروپگینڈا ہے۔
پہلے کی طرح امریکی طالع آزمائی کا نتیجہ بھی مختلف نہیں ہوگا اور طالع آزما کو منہ کی کھانی پڑے گی اور آنے والی نسل اس کی شکست کا ذکر تاریخ کے اوراق میں پڑھیں گی لیکن یہ راستہ بہت خونی ہے اور اس کے نتیجے میں یقیناً دنیا کا جغرافیہ بھی تبدیل ہوجائے گا۔ اللّہ ہم سب کو محفوظ رکھے۔ آمین
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: گرین لینڈ میں نے گرین لینڈ گرین لینڈ کا گرین لینڈ پر امریکا کے امریکا نے ہیں اور کے لیے ہے اور طالع ا کے بعد کیا ہے
پڑھیں:
اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔