جس مسافر بس میں ڈیش کیم نہیں ہوگا وہ بس روڈ پر نہیں آئے گی، ہر بس میں 2 ڈرائیوروں کا ہونا لازمی ہوگا، موٹروے پولیس
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
کراچی(آئی این پی )ڈی آئی جی موٹر وے پولیس سید فرید علی نے کہا ہے کہ موٹروے پولیس نے مسافر بسوں میں سیفٹی اور مانیٹرنگ کو بہتر بنانے کیلئے ڈیش کیمرے لگانے کا باقاعدہ آغاز کردیا ہے۔اس اقدام کا مقصد ڈرائیوروں کی نگرانی، حادثات کی روک تھام اور ٹریفک قوانین کی پاسداری کو یقینی بنانا ہے، جس سے سفر کو مزید محفوظ بنایا جا سکے گا۔
ایک انٹرویو میں سید فرید علی نے بتایا کہ اس سلسلے میں پہلے بھی بہت سے اقدامات کئے گئے تھے، اب ہم نے مسافر بسوں میں ڈیش کیمرے لگائے ہیں جن سے ڈرائیوروں کی کارکردگی پر نظر رکھی جائے گی اس کیلئے ایک خصوصی سافٹ ویئر بنایا ہے جس میں ڈرائیوروں کا سارا ڈیٹا شامل ہے۔
جنگ کا ماحول بن چکا،امریکا ایران پر ایک سے دو دن میں حملہ کرسکتا ہے، سابق سفیرمسعود خان
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ان تمام بسوں کے مالکان کو پابند کردیا گیا ہے کہ جس مسافر بس میں ڈیش کیم نہیں ہوگا وہ بس روڈ پر نہیں آئے گی اور ہر بس میں دو ڈرائیوروں کا ہونا لازمی ہے۔ اس کے علاوہ ہر وہ گاڑی جس کا فٹنس سرٹیفیکٹ نہیں ہوگا وہ ہائی وے یا موٹر وے پر نہیں آسکتی۔ان کا کہنا تھا کہ ڈرائیوروں کی اہلیت کی بات کی جائے تو ہمارے ڈرائیور حضرات کی اکثریت ناخواندہ اور غیر تربیت یافتہ ہے، جس کی وجہ سے ان کی بہت بڑی تعداد جدید دور کے تقاضوں اور ٹریفک کے اصولوں کو سمجھنے سے قاصر ہوتی ہے۔
پاکستان سے شکست،بھارت کے دفاعی بجٹ میں بڑا اضافہ ،مجموعی دفاعی بجٹ سات ہزار 850 ارب بھارتی روپے مقرر
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: مسافر بس
پڑھیں:
کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
فائل فوٹوکوہستان مالیاتی کرپشن کیس میں قومی احتساب بیورو (نیب) نے 6 ارب روپے کے اثاثے ریکور کرکے خیبر پختونخوا حکومت کے حوالے کردیے جبکہ مزید ریکوری کا عمل جاری ہے۔
چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے پشاور میں اثاثے چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ کے حوالے کیے۔
نیب حکام کے مطابق پہلے مرحلے میں 6 ارب روپے سے زائد مالیت کے اثاثے صوبائی حکومت کے حوالے کیے گئے ہیں، جن میں نقد رقم، سونا، قیمتی جائیدادیں اور لگژری گاڑیاں شامل ہیں، اثاثوں کی واپسی منظم اور جامع تحقیقات کے نتیجے میں عمل میں آئی۔
نیب حکام کے مطابق کوہستان مالیاتی کرپشن میں سرکاری فنڈز سے 37 ارب روپے سے زائد کا غبن ہوا ہے، پیچیدہ مالیاتی غبن کو مؤثر تحقیقات کے ذریعے بے نقاب کیا گیا۔
چیئرمین نیب نے کہا کہ ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) نیب خیبر پختونخوا فرمان اللہ اور تحقیقاتی ٹیم کی کارکردگی قابل ستائش ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کوہستان مالیاتی کرپشن میں مزید ریکوری کا عمل جاری ہے، قانونی کارروائی مکمل ہونے پر مزید اثاثے خیبر پختونخوا حکومت کو منتقل کیے جائیں گے، عوامی وسائل قومی امانت ہیں، ان کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔