کشمیر ریلی: پاکستان ہمسایوں سے امن چاہتا، جارحیت پر مٹا دینگے: پرویز اشرف
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
لاہور (نامہ نگار) سابق وزیر اعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے صدر راجہ پرویز اشرف نے مال روڈ پر پیپلز پارٹی لاہور کے زیر اہتمام نکلنے والی کشمیر بنے گا پاکستان ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ لاہوریو تم لوگوں نے دل جیت لیے ہیں،پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے تاریخ رقم کر دی ہے پورا پاکستان پیپلز پارٹی کا میدان بنے گا۔ شاندار ریلی پرفیصل میر ڈاکٹر عائشہ اور مجید غوری کی پوری ٹیم کو مبارکباد دیتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمسایوں سے امن چاہتا ہے مگر جارحیت کرنیوالوں کو نیست نابود کر دینگے۔ جنرل سیکرٹری سید حسن مرتضی،شہزاد سعید چیمہ ،فیصل میر،ڈاکٹر عائشہ شوکت اور ذیشان اکبر نے بھی خطاب کیا جبکہ نظامت کے فرائض مجید غوری نے ادا کیے۔ریلی میں رانا جمیل منج،بیگم ناصرہ شوکت،سبط حسن،شاہدہ جبیں،ذیشان شامی،آغا تقی،عارف خان،عدنان گورسی،منظر عباس کھوکھر،فیاض بھٹی،بابا نامہ،چودھری ریاض،عمران ڈوگر،عامر نصیر بٹ،شاہد عباس ایڈوکیٹ،رانا صفدر دلشار،ندیم ملک۔ایڈون سہوتراسمیت ہزاروں جیالے شریک تھے۔ پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے جنرل سیکرٹری سید حسن مرتضی نے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج فیصل میر اورمجید غوری کو شاندار ریلی پر مبارکباد دیتے ہیں،ہماری جنگ کسی حکمران کیخلاف نہیں،دہشتگردی،بیروز گاری کیخلاف ہے۔ریلی سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی لاھور کے صدر فیصل میر نے کہا کہ پیپلز پارٹی لاہور نے گزشتہ روز کشمیر کے حق میں اور نریندر مودی کے خلاف ایسی عوامی قوت دکھائی ہے جو پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پہلے کبھی نظر نہیں آئی۔ ہمیں یقین ہے اگر بھارت پرامن طریقے سے کشمیر آزاد نہیں کرتا تو پاک فوج فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں کشمیر آزاد کرائے گی۔ وزیر اعلی پنجاب اور وزیر اعظم آئندہ پیپلز پارٹی کا ہو گا۔ پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے سیکرٹری اطلاعات شہزاد سعید چیمہ نے کہا کہ تخت لہور آج کانپ رھا ہے،لاھور کے جیالوں اور جیالیوں نے ایک ملین مارچ کر دکھایا ہے۔ پیپلز پارٹی لاہور کی جنرل سیکرٹری ڈاکٹر عائشہ شوکت نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ملک کو دستور اور عام آدمی کو ووٹ کا حق دیا،عوامی رکشہ یونین کے صدر ذیشان اکبر نے کہا کہ عوامی رکشہ یونین آج کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے ریلی میں شریک ہے،کشمیر بلاول بھٹو کی قیادت میں پاکستان بنے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی نے کہا کہ
پڑھیں:
اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔
محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔
جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔
انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔
یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔