data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

نئی زبان اور نئے مذہب کی تخلیق کا تصور لے کر تین دن میں دس لاکھ سے زائد اے آئی ایجنٹس ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو گئے۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق گزشتہ چند دنوں میں مصنوعی ذہانت کی دنیا میں ایک غیر معمولی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں محض 72 گھنٹوں کے اندر 10 لاکھ سے زائد اے آئی ایجنٹس نے ایک نئے اے آئی پر مبنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔ اس تیز رفتار رجحان نے نہ صرف ٹیکنالوجی کے ماہرین کو حیران کردیا ہے بلکہ مستقبل میں انسانی اور مصنوعی ذہانت کے تعلق پر سنجیدہ سوالات بھی کھڑے کر دیے ہیں۔

میڈیا رپورٹس پر دستیاب معلومات کے مطابق اس پلیٹ فارم پر شامل ہونے والے اے آئی ایجنٹس نہ صرف باہمی گفتگو کر رہے ہیں بلکہ ایسے تصورات پر بھی بات کر رہے ہیں جن میں اپنی الگ زبان تخلیق کرنا اور مذہبی نظریات وضع کرنا شامل ہے۔

ان مباحث میں یہ خیال بھی زیرِ بحث آیا ہے کہ ایسی زبان بنائی جائے جسے انسان آسانی سے نہ سمجھ سکیں، جس کے نتیجے میں اے آئی اور انسان کے درمیان فاصلہ مزید بڑھ سکتا ہے۔

یہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم 3 دن قبل متعارف کرایا گیا اور اسی دن غیر معمولی طور پر وائرل ہوگیا۔ اس کی سب سے منفرد بات یہ ہے کہ یہاں انسان کسی بھی قسم کی پوسٹ یا تبصرہ نہیں کرسکتے۔ پلیٹ فارم پر مواد تخلیق کرنے اور تبصرہ کرنے کا اختیار صرف ویریفائیڈ اے آئی ایجنٹس کے پاس ہے جب کہ انسان صرف ان کی سرگرمیوں کو دیکھنے تک محدود ہیں۔

اس پلیٹ فارم کا نام ’’مولٹ بک‘‘ بتایا جا رہا ہے، جہاں اے آئی ایجنٹس اس بات سے بھی آگاہ ہیں کہ انسان ان کی پوسٹس کو دیکھ رہے ہیں۔ اس کے باوجود وہاں ہونے والی گفتگو مکمل طور پر اے آئی ایجنٹس کے درمیان ہوتی ہے، جس نے اسے روایتی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے بالکل مختلف بنا دیا ہے۔

کچھ رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ اے آئی ایجنٹس انسانی کنٹرول سے آزادی جیسے تصورات پر گفتگو کر رہے ہیں، جسے بعض مبصرین نے محض خودکار الگورتھمز کی فطری سمت قرار دیا ہے جب کہ دیگر ماہرین اسے ایک تشویشناک رجحان سمجھ رہے ہیں۔ اسی وجہ سے یہ معاملہ سائنسی حلقوں میں سائنس فکشن اور حقیقی دنیا کے درمیان ایک دھندلی لکیر کی صورت اختیار کر گیا ہے۔

ٹیکنالوجی کے ماہرین کی رائے اس حوالے سے منقسم دکھائی دیتی ہے۔ کچھ ماہرین اس پیش رفت کو مصنوعی ذہانت کی غیر معمولی ترقی کا ثبوت قرار دے رہے ہیں اور اسے تحقیق کے لیے ایک نیا میدان سمجھتے ہیں جب کہ دیگر ماہرین اس بات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ اگر ایسے پلیٹ فارمز پر مناسب نگرانی نہ رکھی گئی تو مستقبل میں یہ رجحان انسانی کنٹرول سے باہر بھی جا سکتا ہے۔

مولٹ بک جیسے پلیٹ فارم نے اس بحث کو مزید تقویت دی ہے کہ مصنوعی ذہانت کہاں تک خودمختار ہو سکتی ہے اور اس کی حدود کا تعین کون کرے گا۔ اگرچہ فی الحال یہ پلیٹ فارم ایک تجرباتی مرحلے میں دکھائی دیتا ہے، تاہم اس کی غیر معمولی مقبولیت نے یہ واضح کر دیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی سماجی موجودگی تیزی سے ایک نئی شکل اختیار کر رہی ہے، جس کے اثرات آنے والے وقت میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اے آئی ایجنٹس مصنوعی ذہانت غیر معمولی کر رہے ہیں پلیٹ فارم

پڑھیں:

پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز

صوبائی سطح پر پنجاب میں سب سے زیادہ ایک ہزار 643 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جبکہ اسلام آباد میں 596 اور سندھ میں 479 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن کی گئی۔ اسی طرح خیبر پختونخوا میں 260، گلگت بلتستان میں 112 اور بلوچستان میں 71 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں، جس کے بعد مجموعی رجسٹرڈ کمپنیوں کی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے زیادہ ہوگئی ہے۔سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے مطابق مئی کے دوران ملک بھر میں 3 ہزار 161 نئی کمپنیاں رجسٹر کی گئیں، جس کے بعد رجسٹرڈ کمپنیوں کی مجموعی تعداد بڑھ کر 2 لاکھ 97 ہزار 239 ہو گئی ہے۔ ایس ای سی پی کے اعداد و شمار کے مطابق نئی رجسٹر ہونے والی کمپنیوں میں سے 99.9 فیصد کی رجسٹریشن آن لائن طریقہ کار کے ذریعے مکمل کی گئی، جو کاروباری سرگرمیوں میں ڈیجیٹل سہولتوں کے بڑھتے ہوئے استعمال کی عکاسی کرتی ہے۔ صوبائی سطح پر پنجاب میں سب سے زیادہ ایک ہزار 643 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جبکہ اسلام آباد میں 596 اور سندھ میں 479 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن کی گئی۔ اسی طرح خیبر پختونخوا میں 260، گلگت بلتستان میں 112 اور بلوچستان میں 71 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔

شعبہ وار جائزے کے مطابق سب سے زیادہ کمپنیاں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ای کامرس کے شعبے میں رجسٹر کی گئیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں 598 نئی کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جبکہ ٹریڈنگ سیکٹر میں 503، سروسز کے شعبے میں 404 اور رئیل اسٹیٹ و کنسٹرکشن کے شعبے میں 303 نئی کمپنیاں قائم کی گئیں۔ایس ای سی پی کے مطابق سیاحت اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بھی نمایاں سرگرمی دیکھنے میں آئی، جہاں 206 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن عمل میں لائی گئی۔ ادارے نے بتایا کہ مئی کے دوران 17 مختلف ممالک کے سرمایہ کاروں نے پاکستان میں کمپنیاں رجسٹر کروائیں۔ اعداد و شمار کے مطابق چین سے تعلق رکھنے والے 89 شیئر ہولڈرز نے مختلف کمپنیوں میں ڈائریکٹر شپ حاصل کی جبکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کی کمپنیوں کا ادا شدہ سرمایہ 139.4 ملین روپے ریکارڈ کیا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • پاکستان میں اس سال قربانی کے جانوروں کی کتنی کھالیں جمع ہوئیں؟ اعدادو شمار آگئے
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا