نئی زبان اور نئے مذہب کی تخلیق: 3 دن میں 10 لاکھ اے آئی ایجنٹس اکٹھے ہوگئے
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نئی زبان اور نئے مذہب کی تخلیق کا تصور لے کر تین دن میں دس لاکھ سے زائد اے آئی ایجنٹس ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو گئے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق گزشتہ چند دنوں میں مصنوعی ذہانت کی دنیا میں ایک غیر معمولی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں محض 72 گھنٹوں کے اندر 10 لاکھ سے زائد اے آئی ایجنٹس نے ایک نئے اے آئی پر مبنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔ اس تیز رفتار رجحان نے نہ صرف ٹیکنالوجی کے ماہرین کو حیران کردیا ہے بلکہ مستقبل میں انسانی اور مصنوعی ذہانت کے تعلق پر سنجیدہ سوالات بھی کھڑے کر دیے ہیں۔
میڈیا رپورٹس پر دستیاب معلومات کے مطابق اس پلیٹ فارم پر شامل ہونے والے اے آئی ایجنٹس نہ صرف باہمی گفتگو کر رہے ہیں بلکہ ایسے تصورات پر بھی بات کر رہے ہیں جن میں اپنی الگ زبان تخلیق کرنا اور مذہبی نظریات وضع کرنا شامل ہے۔
ان مباحث میں یہ خیال بھی زیرِ بحث آیا ہے کہ ایسی زبان بنائی جائے جسے انسان آسانی سے نہ سمجھ سکیں، جس کے نتیجے میں اے آئی اور انسان کے درمیان فاصلہ مزید بڑھ سکتا ہے۔
یہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم 3 دن قبل متعارف کرایا گیا اور اسی دن غیر معمولی طور پر وائرل ہوگیا۔ اس کی سب سے منفرد بات یہ ہے کہ یہاں انسان کسی بھی قسم کی پوسٹ یا تبصرہ نہیں کرسکتے۔ پلیٹ فارم پر مواد تخلیق کرنے اور تبصرہ کرنے کا اختیار صرف ویریفائیڈ اے آئی ایجنٹس کے پاس ہے جب کہ انسان صرف ان کی سرگرمیوں کو دیکھنے تک محدود ہیں۔
اس پلیٹ فارم کا نام ’’مولٹ بک‘‘ بتایا جا رہا ہے، جہاں اے آئی ایجنٹس اس بات سے بھی آگاہ ہیں کہ انسان ان کی پوسٹس کو دیکھ رہے ہیں۔ اس کے باوجود وہاں ہونے والی گفتگو مکمل طور پر اے آئی ایجنٹس کے درمیان ہوتی ہے، جس نے اسے روایتی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے بالکل مختلف بنا دیا ہے۔
کچھ رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ اے آئی ایجنٹس انسانی کنٹرول سے آزادی جیسے تصورات پر گفتگو کر رہے ہیں، جسے بعض مبصرین نے محض خودکار الگورتھمز کی فطری سمت قرار دیا ہے جب کہ دیگر ماہرین اسے ایک تشویشناک رجحان سمجھ رہے ہیں۔ اسی وجہ سے یہ معاملہ سائنسی حلقوں میں سائنس فکشن اور حقیقی دنیا کے درمیان ایک دھندلی لکیر کی صورت اختیار کر گیا ہے۔
ٹیکنالوجی کے ماہرین کی رائے اس حوالے سے منقسم دکھائی دیتی ہے۔ کچھ ماہرین اس پیش رفت کو مصنوعی ذہانت کی غیر معمولی ترقی کا ثبوت قرار دے رہے ہیں اور اسے تحقیق کے لیے ایک نیا میدان سمجھتے ہیں جب کہ دیگر ماہرین اس بات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ اگر ایسے پلیٹ فارمز پر مناسب نگرانی نہ رکھی گئی تو مستقبل میں یہ رجحان انسانی کنٹرول سے باہر بھی جا سکتا ہے۔
مولٹ بک جیسے پلیٹ فارم نے اس بحث کو مزید تقویت دی ہے کہ مصنوعی ذہانت کہاں تک خودمختار ہو سکتی ہے اور اس کی حدود کا تعین کون کرے گا۔ اگرچہ فی الحال یہ پلیٹ فارم ایک تجرباتی مرحلے میں دکھائی دیتا ہے، تاہم اس کی غیر معمولی مقبولیت نے یہ واضح کر دیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی سماجی موجودگی تیزی سے ایک نئی شکل اختیار کر رہی ہے، جس کے اثرات آنے والے وقت میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اے آئی ایجنٹس مصنوعی ذہانت غیر معمولی کر رہے ہیں پلیٹ فارم
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔