لاہور :کائٹ فلائنگ ایکٹ 2025 پر عملدرآمد، بسنت پورٹل فعال
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
طاہر جمیل : وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے وژن کے تحت کائٹ فلائنگ ایکٹ 2025 پر عملدرآمد کا سلسلہ لاہور میں جاری ہے, اسی سلسلے میں ڈپٹی کمشنر لاہور کی ہدایت پر رجسٹرڈ تاجروں کے لیے “بسنت پورٹل” مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے، جس کے ذریعے پتنگ بازی کے سامان کی ترسیل کے لیے ٹرانسپورٹ پرمٹ جاری کیے جا رہے ہیں۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق رجسٹرڈ تاجر بسنت پورٹل پر درخواست دے کر ٹرانسپورٹ پرمٹ حاصل کر سکتے ہیں، تاہم اس کے لیے گودام، آمد و رفت کے ذرائع اور پتنگ بازی کے سامان کی مکمل تفصیلات فراہم کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اب تک موصول ہونے والی 241 درخواستوں میں سے 81 تاجروں کو ٹرانسپورٹ پرمٹ جاری کر دیے گئے ہیں، جبکہ 82 درخواستیں عدم تصدیق کی بنیاد پر مسترد کر دی گئی ہیں۔
چور شادی پر جانے والی فیملی کے گھر کا صفایا کر گئے
ڈپٹی کمشنر لاہور کیپٹن (ر) محمد علی اعجاز نے ہدایت کی ہے کہ رجسٹرڈ تاجر دوسرے اضلاع سے سامان کی نقل و حمل کے لیے فوری طور پر بسنت پورٹل پر درخواست جمع کرائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پرمٹ کے حصول کے لیے ممنوعہ ڈور نہ بیچنے کا باقاعدہ حلفیہ اقرارنامہ جمع کروانا لازم ہوگا۔
ڈی سی لاہور کا کہنا ہے کہ پتنگوں پر مذہبی، سیاسی یا ملکی پرچم کی تصاویر ہرگز پرنٹ نہ کی جائیں، جبکہ ضلعی افسران کی جانب سے ٹرانسپورٹ گاڑیوں اور جاری شدہ پرمٹس کی سخت جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔ ضلع سے باہر سے سامان لانے کے لیے ڈی سی آفس سے پیشگی اجازت نامہ حاصل کرنا بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔
آزاد کشمیر کے طلبا نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی جدوجہد آزادی کو مشترکہ ذمہ داری قرار دے دیا
ڈپٹی کمشنر لاہور نے اس عزم کا اظہار کیا کہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ اور محفوظ بسنت کا انعقاد ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے، اور اس مقصد کے لیے قانون کی خلاف ورزی پر کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: بسنت پورٹل کے لیے
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔