اسرائیل کے خلاف 8 عرب اور اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان جاری
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
غزہ میں جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اسرائیل کے اقدامات کشیدگی میں اضافے اور امن و استحکام کے قیام کی کوششوں کو نقصان پہنچانے کا باعث بن رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ آٹھ عرب اور اسلامی ممالک نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے، جس میں اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کی گئی۔ بیان اسرائیل کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اسرائیل کے اقدامات کشیدگی میں اضافے اور امن و استحکام کے قیام کی کوششوں کو نقصان پہنچانے کا باعث بن رہے ہیں۔ الجزیرہ نے اپنی ایک بریکنگ نیوز رپورٹ میں بتایا ہے کہ ان ممالک نے اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزیوں کو سیاسی عمل کے لیے براہ راست خطرہ قرار دیا اور کہا کہ حکومت کے اقدامات غزہ میں مزید مستحکم مرحلے میں منتقلی کے لیے صحیح حالات پیدا کرنے کی کوششوں کو روک رہے ہیں۔ بیان میں ٹرمپ کے مجوزہ امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کی کامیابی کے لیے مکمل عزم کی ضرورت پر زور دیا گیا اور تمام فریقین سے اس نازک دور میں اپنی ذمہ داریاں پوری طرح نبھانے کا مطالبہ کیا گیا۔ غزہ کی پٹی میں اسٹیٹ انفارمیشن آفس نے کل اعلان کیا کہ صیہونی حکومت نے 10 اکتوبر 2025 سے 31 جنوری 2026 تک جنگ بندی معاہدے کے نفاذ کے بعد سے اب تک 1,450 جنگ بندی کی خلاف ورزیاں کی ہیں جس کے نتیجے میں 524 فلسطینی شہید اور 1,360 دیگر زخمی ہوئے ہیں۔ صرف گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران قابض فوج نے غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں پر فضائی اور توپخانے کے حملے تیز کر کے خواتین اور بچوں سمیت 32 فلسطینیوں کو شہید کر دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزیوں
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔