بین الاقوامی تعلقات کے اصول شدید دباؤ کا شکار ہیں، چینی وزیر خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
بین الاقوامی تعلقات کے اصول شدید دباؤ کا شکار ہیں، چینی وزیر خارجہ WhatsAppFacebookTwitter 0 2 February, 2026 سب نیوز
بیجنگ : چین کے وزیر خارجہ وانگ ای نے بیجنگ میں روسی فیڈریشن کی سلامتی کونسل کے سیکرٹری سرگئی شوئیگو سے ملاقات کی۔پیر کے روز وانگ ای نے کہا کہ اس وقت دوسری جنگِ عظیم کے بعد قائم ہونے والا بین الاقوامی نظام اور بین الاقوامی تعلقات کے اصول شدید دباؤ کا شکار ہیں، اور دنیا کو دوبارہ”جنگل کے قانون” کی طرف پلٹنے کا حقیقی خطرہ درپیش ہے۔
بڑی عالمی طاقتوں اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کے طور پر، چین اور روس کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی مرکزیت پر مبنی بین الاقوامی نظام کو برقرار رکھیں اور ایک زیادہ منصفانہ اور مساوی عالمی گورننس سسٹم کی تعمیر کو فروغ دیں۔ وانگ ای نے کہا کہ چین اور روس کو دوطرفہ تعلقات سے متعلق اہم امور پر قریبی رابطہ برقرار رکھنا چاہئے اور ایک دوسرے کے بنیادی مفادات سے متعلق امور پر باہمی تعاون کو بڑھانا چاہئے۔ چین روس کے ساتھ مل کر دونوں سربراہان مملکت کے درمیان طے پانے والے اہم اتفاق رائے کو عملی جامہ پہنانے اور نئے سال میں چین اور روس کے تعلقات میں ایک نئے دور کو فروغ دینے کے لیے تیار ہے۔
شوئیگو نے کہا کہ روس ہمیشہ ایک چین کے اصول پر کاربند رہا ہے، آبنائے تائیوان میں استحکام کو نقصان پہنچانے والی دشمن قوتوں کی کارروائیوں پر کڑی نظر رکھتا ہے، اور جاپان کی جانب سے “دوبارہ عسکریت پسندی” کو تیز کرنے کی کوششوں کی سختی سے مخالفت کرتا ہے۔ روس چین کی مضبوطی سے حمایت جاری رکھنے، دوطرفہ تعاون کو مضبوط بنانے، روس اور چین کے تعلقات کی اعلیٰ سطحی ترقی کی رفتار کو مشترکہ طور پر برقرار رکھنے اور ایک زیادہ منصفانہ اور مساوی کثیر قطبی دنیا کی تعمیر اور یوریشیا میں ایک ناقابل تقسیم سلامتی کے ڈھانچے کی تشکیل کے لیے تیار ہے۔ فریقین نے مشترکہ تشویش کے مختلف بین الاقوامی اور علاقائی مسائل پر بھی گہرائی سے اسٹریٹجک بات چیت کی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچین اور دنیا کے تعاون سے وافرثمرات برآمد ہو سکتے ہیں، چینی میڈیا اگلی خبرخامنہ ای کی دھمکی کے بعد ٹرمپ نے ایران سے ممکنہ معاہدے کیلئے امید ظاہر کردی خامنہ ای کی دھمکی کے بعد ٹرمپ نے ایران سے ممکنہ معاہدے کیلئے امید ظاہر کردی ایرانی پارلیمنٹ نے یورپی یونین کے ممالک کی افواج کو دہشتگرد گروہ قرار دیدیا جنگ بندی کی خلاف ورزی، اسرائیلی حملوں میں غزہ میں 32 فلسطینی شہید آسٹریلیا نے افغان سفارتخانہ بند کرنے کا اعلان کردیا جنگی فضا کے برخلاف امریکا کیساتھ بات چیت کے فریم ورک پر کام ہو رہا ہے، ایران امریکا کی بلوچستان میں دہشت گردی کی مذمت، پاکستان سے یکجہتی کا اظہارCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: بین الاقوامی کے اصول
پڑھیں:
فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔