ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان کا بھارت کے خلاف بائیکاٹ پر بھارتی کرکٹ بورڈ کا رد عمل سامنے آیا گیا۔
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 سے متعلق اتوار کے روز پاکستان نے اعلان کیا کہ وہ بھارت کے خلاف میچ کا بائیکاٹ کرے گا، تاہم ٹیم ٹورنامنٹ میں اپنی مجموعی شرکت برقرار رکھے گی۔ تاہم بھارت کے خلاف بائیکاٹ کے فیصلے کے بعد بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کا رد عمل سامنے آیا ہے۔ بھارتی نیوز ویب سائٹ این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بی سی سی آئی کے ایک رکن نے بھارتی خبر ایجنسی کو بتایا کہ انڈین ٹیم آئی سی سی پروٹوکول کے مطابق سری لنکا کا سفر کرے گی۔ ترجمان بی سی سی آئی کے مطابق ٹیم انڈیا سری لنکا جائے گی اور اٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے ضابطوں پر عمل کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیم شیڈول کے مطابق پریکٹس کرے گی، پریس کانفرنس میں بھی شرکت کرے گی، مقررہ وقت پر اسٹیڈیم پہنچے گی اور میچ ریفری کی جانب سے میچ منسوخ کیے جانے کا انتظار کرے گی۔ بی سی سی آئی ذرائع کا کہنا تھا کہ اگرچہ پاکستان نے 15 فروری کو ہونے والے گروپ اسٹیج کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میچ کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا ہے، اس کے باوجود بھارتی ٹیم آئی سی سی کے طے شدہ پروٹوکول کے مطابق سری لنکا جائے گی اور میچ ریفری کے فیصلے تک میدان میں موجود رہے گی۔ واضح رہے کہ اتوار کو پاکستان نے تمام ترتحفظات کے باوجود ٹی20 ورلڈ کپ میں شرکت کا اعلان کردیا ہے تاہم بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ کیا۔ حکومت پاکستان کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا گیا کہ قومی کرکٹ ٹیم ٹی 20 ورلڈ کپ میں شرکت کرے گی لیکن بھارت کے خلاف میچ نہیں کھیلے گی۔ یاد رہے کہ حکومتِ نے بنگلہ دیش کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر احتجاجاً بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: بھارت کے خلاف میچ کے مطابق ورلڈ کپ کرے گی
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔