بھارت سے میچ کے بائیکاٹ کے بعد بھارتی میڈیا نے پاکستان پر ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں پابندی کا پروپیگنڈا شروع کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کے فیصلے نے بین الاقوامی کرکٹ حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے اور بھارتی میڈیا نے اس معاملے کو لے کر پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا شروع کر دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ حکومت پاکستان کی جانب سے قومی ٹیم کو عالمی ٹورنامنٹ میں شرکت کی اجازت کے باوجود بھارت کے خلاف کھیلنے سے متعلق مخصوص حکمتِ عملی کے طور پر کیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پاکستان کی جانب سے بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کی صورت میں آئی سی سی ممکنہ پابندیاں عائد کر سکتی ہے اور یہ اقدام پاکستان کے لیے مالی و کھیلوں کے اعتبار سے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ نے ابھی تک آئی سی سی کو باضابطہ طور پر اپنے فیصلے سے آگاہ نہیں کیا اور آج ہونے والی آئی سی سی کی ورچوئل بورڈ میٹنگ میں پاکستان کے ٹورنامنٹ میں کھیلنے کی اجازت یا ممکنہ پابندی پر فیصلہ متوقع ہے۔
مزید اطلاعات کے مطابق بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ پاکستان کو مالی جرمانے، سپر لیگ میں غیر ملکی کھلاڑیوں کی شرکت پر ممکنہ پابندی، اور براڈکاسٹر کے نقصان کی تلافی جیسے اقدامات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ علاوہ ازیں، آئی سی سی کے بڑے رکن ممالک پاکستان کے ساتھ باہمی سیریز کھیلنے سے بھی انکار کر سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ حکومت پاکستان نے گزشتہ روز قومی کرکٹ ٹیم کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں حصہ لینے کی اجازت دی تھی، تاہم 15 فروری کو بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ حکومت نے مؤخر الذکر وجوہات کی بنا پر کیا ہے۔
اس فیصلے پر پاکستان کے کرکٹ شائقین نے حکومت کی جانب سے بھارت کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کا خیر مقدم کیا ہے اور اسے قومی مفاد اور عزت کے تناظر میں مثبت اقدام قرار دیا ہے۔
واضح رہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 7 فروری سے 8 مارچ تک بھارت اور سری لنکا میں کھیلا جائے گا اور پاکستان کی ٹیم اس ٹورنامنٹ میں شمولیت کے باوجود بھارت کے خلاف میچ نہیں کھیلے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بھارت کے خلاف میچ بھارتی میڈیا پاکستان کے ٹی ٹوئنٹی
پڑھیں:
گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
صدر پی ٹی آئی سندھ نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے آئندہ انتخابات کو متنازع بنانے کی کسی بھی کوشش سے گریز کیا جائے اور انتخابی عمل کو مکمل طور پر شفاف، غیر جانبدار اور منصفانہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو اپنا ووٹ آزادانہ طور پر استعمال کرنے کا مکمل حق حاصل ہے اور کسی قسم کی مداخلت یا دباؤ جمہوری اقدار کے منافی ہوگا۔ حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ملک میں سیاسی استحکام کا راستہ صرف آزاد، شفاف اور غیر جانبدار انتخابات سے ہو کر گزرتا ہے، عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کی روایت نے ماضی میں پاکستان کو سیاسی اور معاشی بحرانوں سے دوچار کیا، اس لیے ضروری ہے کہ عوام کے فیصلے کا مکمل احترام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ 8 فروری 2024ء کے عام انتخابات میں عوام نے اپنا واضح فیصلہ دیا تھا، تاہم عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔
حلیم عادل شیخ نے مطالبہ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کو گلگت بلتستان میں انتخابی مہم چلانے کے مساوی اور آئینی حقوق فراہم کیے جائیں تاکہ تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع میسر آ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کو ہر قسم کے دباؤ، جانبداری اور غیر ضروری مداخلت سے پاک رکھا جائے تاکہ عوام اپنی مرضی کے نمائندوں کا انتخاب کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام باشعور ہیں اور وہ اپنے ووٹ کی طاقت سے حقیقی نمائندوں کا انتخاب کریں گے، عوام کا فیصلہ ہی جمہوریت اور پاکستان کے روشن مستقبل کی بنیاد ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کے انتخابات میں عوامی حمایت کے ساتھ بھرپور کامیابی حاصل کرے گی۔ حلیم عادل شیخ نے مزید کہا کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی ترقی، سرمایہ کاری اور عوامی خوشحالی ممکن نہیں، لہذا تمام متعلقہ حکام اس امر کو یقینی بنائیں کہ انتخابات مکمل طور پر شفاف اور منصفانہ ہوں اور عوام کے مینڈیٹ کا ہر صورت احترام کیا جائے۔