برطانوی سیاست میں ہلچل، جیفری ایپسٹین سے تعلقات پر وزیراعظم کیئر اسٹارمر کے قریبی ساتھی مستعفی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
برطانیہ کے سابق وزیر اور وزیراعظم کیئر اسٹارمر کے قریبی ساتھی پیٹر مینڈلسن نے امریکی مالیاتی مجرم جیفری ایپسٹین سے تعلقات پر سامنے آنے والی نئی رپورٹس کے بعد لیبر پارٹی کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق مینڈلسن نے کہا ہے کہ وہ پارٹی کو مزید شرمندگی سے بچانا چاہتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق پیٹر مینڈلسن کو حالیہ دنوں میں ایک بار پھر ایپسٹین سے منسلک کیا گیا، جس پر انہوں نے لیبر پارٹی کو لکھے گئے خط میں افسوس اور معذرت کا اظہار کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے جاری کی گئی فائلز میں ان پر مالی لین دین کے جو الزامات لگائے گئے ہیں وہ غلط ہیں، اور وہ ان کی تحقیقات کریں گے۔
مزید پڑھیںایپسٹین فائلز میں نریندر مودی کا نام بھی آگیا، بھارت میں سیاسی ہلچل
مینڈلسن نے اپنے خط میں لکھا کہ جب تک وہ ان الزامات کی چھان بین کر رہے ہیں، وہ لیبر پارٹی کو مزید نقصان نہیں پہنچانا چاہتے، اسی لیے پارٹی کی رکنیت چھوڑ رہے ہیں۔
پیٹر مینڈلسن کو گزشتہ سال بھی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے امریکا میں برطانیہ کے سفیر کے عہدے سے ہٹا دیا تھا، جب ان کے ایپسٹین سے تعلقات سے متعلق دستاویزات منظرِ عام پر آئی تھیں۔
پیٹر مینڈلسن 1990 کی دہائی میں سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر کے دور میں لیبر پارٹی کی انتخابی کامیابیوں میں اہم کردار ادا کر چکے ہیں، تاہم ان کا سیاسی کیریئر مختلف تنازعات سے بھی گھرا رہا ہے۔
دوسری جانب وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے کہا ہے کہ برطانیہ کے سابق شہزادے اینڈریو کو بھی ایپسٹین سے تعلقات پر امریکی کانگریس کی کمیٹی کے سامنے گواہی دینی چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: وزیراعظم کیئر اسٹارمر ایپسٹین سے تعلقات لیبر پارٹی
پڑھیں:
پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ تحریک انصاف کے بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے۔
جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں بات کرتے ہوئے بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے تحریک انصاف کے فارم 47 والے بیانیے کو مانا ہے اس کے بعد پیپلز پارٹی کو چاہیے کہ وہ تمام عہدوں سے استعفے دے اور ہمارے ساتھ اپوزیشن میں بیٹھے۔
پروگرام میں شریک پیپلز پارٹی کے رہنما سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ ہم مسلم لیگ ن کے ساتھ پاکستان کی خاطر حکومت میں بیٹھے ہیں۔
ن لیگ کے بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا کہ پیپلز پارٹی ان کے ساتھ ہی رہے گی اور اسی تنخواہ پر دونوں ایک دوسرے کے ساتھ چلتے رہيں گے۔