برطانیہ کے سابق وزیر اور وزیراعظم کیئر اسٹارمر کے قریبی ساتھی پیٹر مینڈلسن نے امریکی مالیاتی مجرم جیفری ایپسٹین سے تعلقات پر سامنے آنے والی نئی رپورٹس کے بعد لیبر پارٹی کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

برطانوی میڈیا کے مطابق مینڈلسن نے کہا ہے کہ وہ پارٹی کو مزید شرمندگی سے بچانا چاہتے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق پیٹر مینڈلسن کو حالیہ دنوں میں ایک بار پھر ایپسٹین سے منسلک کیا گیا، جس پر انہوں نے لیبر پارٹی کو لکھے گئے خط میں افسوس اور معذرت کا اظہار کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے جاری کی گئی فائلز میں ان پر مالی لین دین کے جو الزامات لگائے گئے ہیں وہ غلط ہیں، اور وہ ان کی تحقیقات کریں گے۔

مزید پڑھیں

ایپسٹین فائلز میں نریندر مودی کا نام بھی آگیا، بھارت میں سیاسی ہلچل

مینڈلسن نے اپنے خط میں لکھا کہ جب تک وہ ان الزامات کی چھان بین کر رہے ہیں، وہ لیبر پارٹی کو مزید نقصان نہیں پہنچانا چاہتے، اسی لیے پارٹی کی رکنیت چھوڑ رہے ہیں۔

پیٹر مینڈلسن کو گزشتہ سال بھی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے امریکا میں برطانیہ کے سفیر کے عہدے سے ہٹا دیا تھا، جب ان کے ایپسٹین سے تعلقات سے متعلق دستاویزات منظرِ عام پر آئی تھیں۔

پیٹر مینڈلسن 1990 کی دہائی میں سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر کے دور میں لیبر پارٹی کی انتخابی کامیابیوں میں اہم کردار ادا کر چکے ہیں، تاہم ان کا سیاسی کیریئر مختلف تنازعات سے بھی گھرا رہا ہے۔

دوسری جانب وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے کہا ہے کہ برطانیہ کے سابق شہزادے اینڈریو کو بھی ایپسٹین سے تعلقات پر امریکی کانگریس کی کمیٹی کے سامنے گواہی دینی چاہیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: وزیراعظم کیئر اسٹارمر ایپسٹین سے تعلقات لیبر پارٹی

پڑھیں:

وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ

وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈی

وزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔ 

دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔

اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔

پاک چین سرمایہ کاری، زراعت اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کیلئے مفاہمت کی 15 یادداشتوں پر دستخط

اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...

انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔

اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • اٹلی میں 10500 پاکستانیوں کو لیبر موبیلیٹی معاہدے کے تحت روزگار مواقع ملیں گے, اطالوی سفیر
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ