بڑی شاہراہوں پر دھرنوں اور احتجاج کیخلاف سختی کریں گے: وزیر اعلیٰ سندھ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گزشتہ روز کراچی میں ہونے والے جماعت اسلامی کے احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا یہ لوگ جس کو قابض ٹولہ کہتے ہیں وہ عوام کے ووٹوں سے آیا ہے، شہر کی بڑی شاہراہوں پر دھرنوں اور احتجاج کیخلاف سختی کریں گے۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا تھا حیرت ہوتی ہے کہ سانحہ گل پلازہ کی تشہیر کی جا رہی ہے، اعتراض ان پر ہے جو اس سانحے کو سیاست کے لیے استعمال کر رہے ہیں، حکومت سانحہ کے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہے۔
وزیراعظم شہبازشریف اوروزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی ملاقات کا اعلامیہ جاری
ان کا کہنا تھا سانحے کے بعد حکومت سندھ نے متاثرہ افراد کے لواحقین کے لیے ایک کروڑ روپے فی کس امداد کا اعلان کیا تھا، ہم نے 26 گھروں میں جاکر لوگوں چیک دیے لیکن میڈیا کو ساتھ لیکر نہیں گئے۔
جماعت اسلامی کے گزشتہ روز کے دھرنے اور حافظ نعیم الرحمان کی سندھ حکومت پر تنقید سے متعلق سوال پر مراد علی شاہ کا کہنا تھا یہ لوگ جس کو قابض ٹولہ کہتے ہیں وہ عوام کے ووٹوں سے آیا ہے، عوام نے پیپیلز پارٹی پر اعتماد کیا ہے, حافظ نعیم سے کہتا ہوں کہ صوبائی اسمبلی میں آئیں یا اپنی سیٹ خالی کریں۔
مراد علی شاہ کا کہنا تھا کل تین چار گھنٹے شارع فیصل بلاک رہا جو نہیں ہونا چاہیے، سڑکیں بلاک ہونے سے عوام کو مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اب ہم بڑی شاہراہوں پر دھرنوں اور احتجاج کے خلاف سختی کریں گے۔
علیزے شاہ کی تنازعات کو ہائی لائٹ کر کے توجہ حاصل کرنے کے الزام کی تردید
ان کا کہنا تھا میں نے بھی حافظ نعیم الرحمان کا دھرنا دینے کا بیان سنا ہے، حافظ نعیم الرحمان کو سندھ اسمبلی کی سیٹ ملی ہے، وہ اپنے حلقے کی عوام کا خیال کریں، یا پھر سیٹ چھوڑ دیں تاکہ حلقے کے عوام نمائندگی سے محروم نہ رہیں۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: مراد علی شاہ کا کہنا تھا حافظ نعیم
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔