شیخ زاید گرینڈ مسجد ابوظبی میں لاکھوں زائرین کی آمد کا تاریخی ریکارڈ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ابوظبی کی شیخ زاید گرینڈ مسجد نے سال 2025 میں سیاحت اور عبادت کے میدان میں ایک نئی مثال قائم کر دی۔
مسجد انتظامیہ کے مطابق سال بھر میں تقریباً 70 لاکھ زائرین نے مسجد کا رخ کیا، جو 2024 کے مقابلے میں 4 فیصد اضافہ اور ادارے کی تاریخ کی سب سے زیادہ سالانہ تعداد ہے۔
اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ 15 لاکھ 31 ہزار سے زائد افراد نے مسجد میں نماز ادا کی، جبکہ 24 لاکھ سے زیادہ افراد افطار اور دیگر عبادات میں شریک ہوئے۔
زائرین میں 82 فیصد غیر ملکی جبکہ 18 فیصد متحدہ عرب امارات کے شہری اور رہائشی تھے۔ علاقائی اعتبار سے ایشیا سرفہرست رہا جہاں سے 49 فیصد زائرین آئے، اس کے بعد یورپ سے 33 فیصد اور شمالی امریکا سے 11 فیصد مہمان مسجد پہنچے۔
رمضان اور عیدالفطر کے موقع پر 18 لاکھ 90 ہزار سے زائد افراد نے مسجد کا دورہ کیا، جبکہ اس دوران 26 لاکھ سے زیادہ افطار اور سحری کے پیکٹس تقسیم کیے گئے۔
سال 2025 کے دوران شیخ زاید گرینڈ مسجد میں 4 ہزار سے زائد ثقافتی سرگرمیوں اور رہنمائی دوروں کا انعقاد کیا گیا، جبکہ 335 اعلیٰ سطحی وفود کی میزبانی بھی کی گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔