کراچی میں موسمِ سرما کی شدت کمزور پڑ گئی، 90 فیصد دورانیہ مکمل
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: شہرِ قائد میں موسمِ سرما اپنی آخری سانسیں لیتا دکھائی دے رہا ہے اور سردیوں کا تقریباً نوّے فیصد دورانیہ مکمل ہونے کے بعد سردی کی شدت میں واضح کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے۔
موسمیاتی ماہرین کے مطابق موسم کی اس بدلتی صورتِ حال کے باعث شہریوں نے صبح و شام کی خنکی میں بھی فرق محسوس کرنا شروع کر دیا ہے، آئندہ چند روز کے دوران کراچی کا موسم مجموعی طور پر خوشگوار رہنے کا امکان ہے، تاہم درجہ حرارت میں بتدریج اضافہ متوقع ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سرد ہواؤں کا اثر کمزور پڑ رہا ہے جس کے باعث دن کے اوقات نسبتاً گرم جبکہ راتیں معمولی خنک رہیں گی۔
ادھر محکمہ موسمیات نے اپنی تازہ پیش گوئی میں بتایا ہے کہ اگلے چوبیس گھنٹوں کے دوران شہر کا موسم خشک رہے گا جبکہ رات کے وقت خنکی برقرار رہنے کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق کم سے کم درجہ حرارت 12 سے 14 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہ سکتا ہے جبکہ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 27 سے 29 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کی توقع ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ رات شہر میں کم سے کم درجہ حرارت 14 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ اس وقت ہوا میں نمی کا تناسب 58 فیصد ہے جبکہ شمالی سمت سے ہوائیں 11 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہی موسمی صورتحال آئندہ چند دنوں تک برقرار رہنے کا امکان ہے، جس کے بعد درجہ حرارت میں مزید اضافہ دیکھا جا سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔