آئی ایم ایف پروگرام سے معاشی استحکام ناممکن، ترقی مشکل
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
BRUSSELS:
پاکستان اس وقت آئی ایم ایف کے 7 ارب ڈالرز کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (EFF) پروگرام کے نصف مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، تاہم یہ پروگرام ملک بھر میں سیاسی، معاشی اور میڈیا حلقوں میں شدید بے چینی کاباعث بن رہا ہے۔
سابق و موجودہ وزرا اور ماہرین معاشیات کھل کر آئی ایم ایف کی سخت پالیسیوں کو ترقی مخالف قرار دے رہے ہیں، جن کے باعث معاشی مشکلات اور سماجی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔
سپلائی سائیڈ ماہرین کے مطابق آئی ایم ایف پروگرام ٹیکسوں میں اضافے، بلند شرح سود، کرنسی کی قدر میں کمی اور سخت مالیاتی اہداف پر مبنی ہوتا ہے، جو معیشت کوسست روی کی طرف دھکیل دیتا ہے۔
مزید پڑھیںوفاق سے کم فنڈز کے باعث آئی ایم ایف کیش سرپلس کا ہدف پورا نہ ہونے کا خطرہ
آئی ایم ایف، بجلی سبسڈی میں 143 ارب روپے کی کٹوتی
ان کا کہنا ہے کہ پائیدار ترقی کے لیے کم ٹیکس، وسیع ٹیکس نیٹ، سرکاری اخراجات میں کمی، مستحکم کرنسی، ضوابط میں نرمی، آزاد تجارت اورسرکاری اداروں کی نجکاری ناگزیر ہے۔
حکومت کی جانب سے ٹیکس اورشرح سودمیں کمی پر مبنی مجوزہ ترقیاتی منصوبہ امید تو دلاتا ہے، تاہم اصل سوال یہ ہے کہ کیاآئی ایم ایف اس پر لچک دکھائے گا یا پاکستان 2027 تک سست رفتار معیشت اور مشکلات کے ساتھ پروگرام جاری رکھنے پر مجبوررہے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ا ئی ایم ایف
پڑھیں:
استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
سٹی 42 : آزاد جموں و کشمیر کے عام انتخابات میں استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق ہو گیا۔
استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر کے صدر و سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر و سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان کے درمیان طویل ملاقات کے بعد مختلف انتخابی حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے اصولی فارمولے کی منظوری دے دی گئی۔ دونوں جماعتوں نے انتخابات کے بعد بھی باہمی سیاسی تعاون، مشاورت اور مشترکہ حکمت عملی کے تحت آگے بڑھنے پر اتفاق کیا ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
کن انتخابی حلقوں میں کس جماعت کے امیدوار کی حمایت کی جائے گی، اس کا حتمی فیصلہ دونوں جماعتوں کی مشترکہ رابطہ کمیٹی جلد اعلان کرے گی۔
دونوں قائدین نے مسلح افواج پاکستان اور قومی سلامتی کے اداروں کو ملک میں امن کے قیام، مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کیلئے کی جانے والی کوششوں کی تعریف کی، مسئلہ کشمیر سمیت اہم امور پر جاندار موقف دنیا کے سامنے ٹھوس طریقے سے سامنے لانے پر خراج تحسین پیش کیا.