مریم نواز نے بھکر میں دانش اسکول کا افتتاح کردیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2026 GMT
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے بھکر میں دانش اسکول منکیرہ کا افتتاح اور گورنمنٹ پرائمری سکول کیسانوالہ میں سکول میل پروگرام کا آغاز کردیا۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ نے طالبات میں لنچ بکس تقسیم کیں اور کلاس روم کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ملک پیک ری سائیکلنگ سے بننے والے ڈیسک کو دیکھا اور اس پر خوشی کا اظہار کیا۔
انہوں نے منکیرہ کے3 سکولوں کے اپ گریڈیشن کا اعلان کیا جس پر، فوری عملدرآمد کرتے ہوئے نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول کیسا نوالہ کو پرائمری سے ایلیمنٹری،کری اور نورپورشاہ کے گورنمنٹ ایلیمنٹری سکولوں کو ہائی گریڈ کا درجہ دے دیاگیا
اس موقع پروزیراعلیٰ نے طالبات سے بات چیت کی، ان کی محنت اور عزم کو سراہا اور نصیحت کی کہ "دودھ پئیں، اچھی غذا کھائیں اور مضبوط بنیں۔" انہوں نے طالبات کے ساتھ دوپہر کا کھانا بھی کھایا اور دانش سکول گرلز کیمپس کے ہاسٹل میں بلوچستان کی تین طالبات کی سالگرہ منائی۔
وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا کہ طلبہ محنت کریں، کبھی ڈریں نہیں، اور علم حاصل کریں کیونکہ علم اور تعلیم سے عزت بڑھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیٹیاں ہر فیلڈ میں آگے بڑھیں تو بہت خوشی ہوتی ہے اور ماں کے طور پر پنجاب بھر میں اپنی بیٹیوں کے لیے جو ممکن ہو کرے گی۔
وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے سکول میل پروگرام اور دانش سکولوں پر بریفنگ دی۔ بتایا گیا کہ سکول میل پروگرام کے تحت 4309 بوائز اور 4010 گرلز سکولوں میں صحت بخش لنچ فراہم کیا جا رہا ہے، اور پروگرام کے اجراء کے بعد طلبہ کی انرولمنٹ میں 28 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
دانش سکول منکیرہ پراجیکٹ 2017 میں شروع ہوا اور آج 250 ایکڑ پر قائم اسکول میں 770 طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ صوبے کے 13 اضلاع کے 8319 سکولوں میں سکول میل پروگرام جاری ہے، جس کے تحت اب تک 3 کروڑ 37 لاکھ ملک پیک اور ایک کروڑ 22 لاکھ بسکٹ فراہم کیے جا چکے ہیں۔
بھکر میں علم و دانش کے چراغ روشن وزیراعلی مریم نواز شریف نے دانش سکول منکیرہ کا افتتاح اور 'سکول میل پروگرام' کے دوسرے مرحلے کا آغاز کر دیا@MaryamNSharif pic.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سکول میل پروگرام مریم نواز دانش سکول
پڑھیں:
عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش آنے والے واقعے پر اب تک معافی نہیں مانگی جبکہ وزیراعظم کو اپنے وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لینا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اگلے وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری، سینیٹر سحر کامران نے دعویٰ کیوں کیا؟
وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے سحر کامران نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران انہوں نے وزارت اور متعلقہ سیکریٹری سے سوال کیا تھا کہ کمیٹی کے اجلاس میں تقریباً 12 ارب روپے مالیت کے 14 منصوبوں کی منظوری لی گئی تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ بجٹ میں 14 ارب روپے سے زائد مالیت کے 17 منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کا صرف یہ سوال تھا کہ وہ 3 اضافی منصوبے کون سے تھے جو قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔ ان کے بقول انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) سے متعلق بھی ایجنڈے کے مطابق چند سوالات کیے لیکن اسی دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اونچی آواز میں گفتگو کرنے لگے جس سے انہیں شدید تضحیک کا احساس ہوا۔
سحر کامران کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس صورتحال پر واک آؤٹ کرنے کا فیصلہ کیا تاہم ان کے مطابق عطا اللہ تارڑ نے دوبارہ بلند آواز میں کہا کہ ’یہ ممبر کمیٹی کو ہائی جیک کرنا چاہتی ہیں‘، حالانکہ ان کے بقول انہوں نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا تھا۔
مزید پڑھیے: امریکا ایران مذاکرات، پیپلز پارٹی کا کردار پسِ منظر میں کیوں؟
رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ عطا اللہ تارڑ کے رویے پر انہیں اعتراض ہوا ہو۔ ان کے مطابق اس سے قبل بھی ایک پارلیمانی سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے ان کے سوال کا متعلقہ جواب نہیں دیا تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے قومی اسمبلی میں اس معاملے کی نشاندہی کی تو عطا اللہ تارڑ نے جواب دیا کہ میرا یہی کام ہے کہ سوال جیسا بھی ہو جواب میں اپنی مرضی کا دیتا ہوں۔
سحر کامران نے سپیکر قومی اسمبلی کے رویے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایوان میں جانبداری محسوس ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ایک وفاقی وزیر کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کے ساتھ بھی نامناسب رویہ اختیار کیا گیا تھا۔
سحر کامران نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ وزرا کے رویے کا نوٹس لیں اور پارلیمانی روایات کے مطابق ارکان کے ساتھ احترام پر مبنی طرز عمل یقینی بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کے بقول پارٹی آج بھی جمہوریت کے استحکام کی خاطر وفاقی حکومت کی اتحادی ہے تاہم اسی وجہ سے کابینہ کا حصہ نہیں بنی۔
مزید پڑھیں: عطا تارڑ کا بڑا ایکشن: واجبات کی ادائیگی تک نجی ٹی وی کے اشتہارات بند کا اعلان
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ملک کے تمام صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی نمایاں نمائندگی موجود ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
رکن قومی اسمبلی سحر کامران سحر کامران کو عطا تارڑ سے شکایت وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ