وفاقی سرکاری تعلیمی اداروں میں سائیکلنگ کے فروغ کیلیے بڑا اقدام
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
وفاقی سرکاری تعلیمی اداروں میں سائیکلنگ کے فروغ کے لیے بڑا قدم اٹھالیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی سرکاری تعلیمی اداروں کے طلباء و طالبات کے لیے 300 سائیکلیں فراہم کردی گئیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ سائیکلنگ کے اقدام کا مقصد نوجوانوں میں صحت مند طرزِ زندگی کو فروغ دینا اور ماحول دوست سفری ذرائع کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔
منصوبے کی نگرانی پاکستان اسپورٹس بورڈ (پی ایس بی) کرے گا جبکہ سرکاری اسکولوں میں اس کی عملی مینجمنٹ اسلام آباد سائیکلنگ ایسوسی ایشن کے سپرد ہوگی۔
حکام کا کہنا ہے کہ سائیکلنگ کا اقدام طلبہ کی جسمانی صحت بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوگا اور طلبہ کا کھیلوں اور مثبت سرگرمیوں کی طرف رجحان بھی بڑھائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔
سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔
حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔
اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔