اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وزیراعظم محمد شہباز شریف سے عالمی بینک گروپ (WBG) کے صدر اجے بنگا نے آج اسلام آباد میں ملاقات کی۔

وزیراعظم نے عالمی بینک گروپ کے صدر کی حیثیت سے اجے بنگا کے پہلے سرکاری دورہ پاکستان پر ان کا خیرمقدم کیا۔
وزیراعظم نے پاکستان کے ساتھ عالمی بینک گروپ کی طویل المدتی شراکت داری اور ملک کی ترقیاتی ترجیحات کے فروغ کے لیے اس کے عزم کو سراہا۔ وزیراعظم نے
بالخصوص 10 سالہ عالمی بینک گروپ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک (CPF) کے تحت تعاون کو قابل تحسین قرار دیا۔
وزیراعظم نے عالمی بینک گروپ کو مزید موثر ترقیاتی شراکت دار بنانے میں اجے بنگا کی قیادت کو بھی سراہا۔

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت پاکستان پائیدار اقتصادی استحکام کے حصول کے لیے ایک جامع، کثیر الجہتی اور ملکی ضروریات کے مطابق تشکیل دیے گئے اصلاحاتی پروگرام پر پوری تندہی سے عمل پیرا ہے۔
وزیراعظم نے مضبوط انفراسٹرکچر، زرعی کاروبار، ڈیجیٹل ترقی، توانائی، انسانی وسائل، مالیاتی اصلاحات، روزگار کے مواقع اور نجی سرمایہ کاری میں اضافے کے لیے عالمی بینک گروپ کی معاونت کو سراہا۔
وزیراعظم اور اجے بنگا نے اس بات پر زور دیا کہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک سے ہم آہنگ ترجیحات پر تیز رفتار عملدرآمد اور موثر نگرانی کو یقینی بنایا جائے تاکہ بروقت اور بڑے پیمانے پر نتائج حاصل کیے جا سکیں۔ یہ اقدامات ترقیاتی منصوبوں میں عملدرآمد کی رکاوٹوں کے خاتمے کے لیے وزیراعظم کے وژن کی تکمیل میں معاون ثابت ہوں گے۔
وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت ایسی جامع انتظامی اصلاحات پر کاربند ہے جو روزگار پر مبنی اقتصادی ترقی کو فروغ دیں اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید مضبوط بنائیں۔

عالمی بینک گروپ کے صدر اجے بنگا نے پاکستان میں پرتپاک استقبال اور مہمان نوازی پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے حکومت پاکستان کی جاری اصلاحاتی کوششوں کو سراہا اور “ون ورلڈ بینک گروپ” کے تحت تعاون کو مزید گہرا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے کے اہداف کے حصول کے لیے ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ قریبی ہم آہنگی کے ساتھ ساتھ نجی وسائل کے موثر استعمال میں اضافہ ناگزیر ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: عالمی بینک گروپ اجے بنگا کے لیے

پڑھیں:

وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا

ویب ڈیسک :وفاقی بجٹ پانچ جون کو پیش نہیں کیا جائے گا، قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس بھی مؤخر کر دیا گیا۔

 ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ اب پانچ جون کو پیش نہیں کیا جائے گا، وفاقی بجٹ 8 یا 12 جون کو پیش کیے جانے کا امکان ہے، حتمی تاریخ کا تعین ابھی نہیں ہو سکا۔

 آئی ایم ایف کے ساتھ پی ایس ڈی پی اور بجٹ مذاکرات ابھی جاری ہیں جس کی وجہ سے بجٹ پیش کرنے کی تاریخ میں تبدیلی کی جا رہی ہے۔ 

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

 ذرائع کے مطابق کل وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والا قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس بھی مؤخر کر دیا گیا ہے جس میں وفاقی اور صوبائی ترقیاتی بجٹ کی منظوری دی جانا تھی۔

 قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں چاروں وزرائے اعلیٰ اور وزرائے خزانہ کی شرکت متوقع تھی، وزیراعظم آزادکشمیر نے بھی اجلاس میں شرکت کرنا تھی۔ 

 وزیراعظم کی ہدایت پر پی ایس ڈی پی میں 200 ارب روپے کا اضافہ بھی کیا جارہا ہے، ترقیاتی بجٹ میں 200 ارب کے اضافے پر آئی ایم ایف کو بھی آگاہ کیا جائے گا، مختلف مالیاتی اقدامات کے ذریعے200 ارب کی ایڈجسٹمنٹ کی کوشش کی جائے گی۔

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

قومی اقتصادی کونسل میں 4715 ارب کا ترقیاتی بجٹ پیش کئے جانے کا امکان ہے، وفاقی ترقیاتی بجٹ 1126کے بجائے 1326 ارب روپے ہونے کا امکان ہے۔

 اجلاس میں صوبوں کیلئے 3138 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ بھی پیش کیا جائے گا، قومی اقتصادی کونسل میں پنجاب کا 1450 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش ہوگا، سندھ کیلئے 816، خیبرپختونخوا کیلئے 564 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش ہوگا، بلوچستان کیلئے 308 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش ہوگا۔
 

 نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ