انٹرنیٹ کی بڑھتی ہوئی طلب، حکومت کا 200 فیصد سے زائد اضافی اسپیکٹرمز کی نیلامی کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
انٹرنیٹ کی بڑھتی ہوئی طلب اور صارفین کو بہتر سروس فراہم کرنے کے لیے وفاقی حکومت نے 200 فیصد سے زائد اضافی اسپیکٹرم نیلام کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ وزیر مملکت برائے آئی ٹی و ٹیلی کام شزہ فاطمہ خواجہ نے قومی اسمبلی کو تحریری جواب میں اس فیصلے سے آگاہ کیا۔
شزہ فاطمہ خواجہ نے بتایا کہ اس وقت پاکستان میں مجموعی طور پر 274 میگا ہرٹز اسپیکٹرم دستیاب ہے جو موجودہ انٹرنیٹ طلب کے لیے ناکافی ثابت ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اسپیکٹرم الاٹمنٹ خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کم ترین سطح پر ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ایلون مسک کا وینزویلا کے لیے مفت اسٹارلنک انٹرنیٹ فراہم کرنے کا اعلان
وزیر آئی ٹی کے مطابق حکومت سیلولر موبائل آپریٹرز کے لیے تقریباً 600 میگا ہرٹز اضافی اسپیکٹرم جاری کرے گی، جس کی نیلامی 700، 1800، 2100، 2300، 2600 اور 3500 میگا ہرٹز بینڈز میں کی جائے گی۔ اضافی اسپیکٹرم کی نیلامی ریگولیٹری اور پالیسی تقاضے مکمل ہونے کے بعد عمل میں لائی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ ملک میں سست انٹرنیٹ کی بنیادی وجوہات میں رش کے اوقات، فائبر کی کمی اور بیک ہال کے مسائل شامل ہیں۔ اس حوالے سے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) موبائل سروسز کے معیار کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان میں ’ڈیجیٹل ڈیٹا ایکسچینج‘ بنا رہے ہیں، وفاقی وزیر شزہ فاطمہ
شزہ فاطمہ خواجہ کا کہنا تھا کہ اضافی اسپیکٹرم کی فراہمی سے نیٹ ورک کنجیشن میں نمایاں کمی متوقع ہے جبکہ صارفین کو بہتر کوالٹی آف ایکسپیرینس فراہم کی جا سکے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈیجیٹل نیشن وژن کے تحت 3G اور 4G سروسز کے معیار کو مزید بہتر بنایا جا رہا ہے، جبکہ اضافی اسپیکٹرم اور فائبر نیٹ ورک کی توسیع مستقبل میں 5G ٹیکنالوجی کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
4جی 5جی اسپیکٹرم انٹرنیٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسپیکٹرم انٹرنیٹ شزہ فاطمہ کے لیے
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔