بھٹو کی پھانسی سے متعلق صدارتی ریفرنس پر جسٹس محمد علی مظہر نے اضافی رائے جاری کردی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260202-08-22
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی سے متعلق صدارتی ریفرنس پر جسٹس محمد علی مظہر نے اضافی رائے جاری کردی۔ عدالت عظمیٰ نے 6 مارچ 2024ء کو بھٹو ریفرنس پر رائے دی تھی، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ بھٹو ریفرنس پر سپریم کورٹ نے13سال بعد فیصلہ دیا، دیر آید درست آید، ذوالفقار علی بھٹو کا ٹرائل آئین کے آرٹیکل 4 اور 9 کے تحت منصفانہ ٹرائل کے معیار پر پورا نہیں اترتا تھا۔ انہوں نے لکھا کہ ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف ٹرائل میں شفافیت اور قانون کے مقررہ طریقہ کار کے تقاضے پورے نہیں کیے گئے، محض ایک وعدہ معاف گواہ کے بیان پر سزائے موت سنانا قانون اور انصاف کے بنیادی اصولوں کے منافی تھا۔ جسٹس محمد علی مظہر نے لکھا کہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ ٹرائل کے دوران ججوں کی ذاتی جانبداری اور پہلے سے قائم شدہ ذہن نے منصفانہ فیصلے کی بنیاد کو متاثر کیا، پولیس کی جانب سے بند کیے گئے کیس کو مارشل لا دور میں بغیر کسی قانونی جواز کے دوبارہ کھولا گیا، کیس کو سیشن کورٹ سے ہائی کورٹ منتقل کرنے کا فیصلہ ملزمان کو نوٹس دیے بغیر اور قانونی تقاضے پورے کیے بغیر سرسری انداز میں کیا گیا۔جسٹس محمد علی مظہر نے رائے دی کہ ذوالفقار علی بھٹو نے ٹرائل کے دوران بینچ کے سربراہ پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا جسے تسلیم نہ کرنا انصاف کے تقاضوں کے خلاف تھا، سپریم کورٹ کا مشاورتی دائرہ اختیار ریاست کے تمام اداروں کے لیے ایک وزنی اور اہم قانونی حیثیت رکھتا ہے، ٹرائل کے دوران استعمال کیے گئے سخت جملوں اور طنزیہ ریمارکس سے عدالتی وقار اور غیر جانبداری متاثر ہوئی‘ ججز کی جانبداری نے انہیں اس قابل نہیں چھوڑا تھا کہ وہ اس اہم کیس میں آزادانہ اور منصفانہ فیصلہ کر سکیں ۔ جسٹس محمد علی مظہر نے اپنی رائے کا اختتام مرزا غالب کے اشعار پر کیا۔ کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ۔ ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جسٹس محمد علی مظہر نے ذوالفقار علی بھٹو ریفرنس پر ٹرائل کے
پڑھیں:
مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
ولی خان کے علاقے میں نامعلوم افراد نے سیشن جج کی گاڑی پر فائرنگ کردی۔ڈی پی او اللہ بخش بلوچ کے مطابق فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کا گن مین جاں بحق ہوگئے جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت 2 افراد شدید زخمی ہیں۔ڈی پی او کا بتانا ہے کہ سیشن جج اور ایڈیشنل سیشن جج کوئٹہ سے سیشن کورٹ مستونگ آرہے تھے، واقعے کے بعد علاقے کی ناکہ بندی کردی گئی ہے۔