بیروت ایئرپورٹ پر خلیل الحیه کی ٹارگٹ کلنگ کا صیہونی مشن آخری لمحات میں منسوخ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
قابض و سفاک اسرائیلی ریجیم کے سرکاری ٹیلیویژن نے انکشاف کیا ہے کہ قابض صیہونی ریجیم نے جنگ غزہ کے ابتدائی دنوں میں ہی حماس کے اس سینئر رہنما کو قتل کر ڈالنے کا منصوبہ بنا رکھا تھا جس پر وقتا فوقتا عملدرآمد کی کوششیں کیجاتی رہی ہیں اسلام ٹائمز۔ قابض و سفاک اسرائیلی ریجیم کے سرکاری عسکری ٹیلیویژن چینل کان نے پہلی مرتبہ انکشاف کیا ہے کہ تل ابیب نے کیسے جنگ غزہ کے ابتدائی دنوں کے دوران، فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کے سینیئر رہنما خلیل الحیہ کی ٹارگٹ کلنگ کے اپنے مشن کو منسوخ کیا۔ عبری زبان کے اس صیہونی چینل نے اعلان کیا کہ خلیل الحیہ کو بیروت ایئرپورٹ پر پہنچنے کے فوراً بعدد اسرائیل کی جانب سے فضائی حملے کا نشانہ بنایا جانا طے تھا.
واضح رہے کہ 9 ستمبر 2025 کے روز قابض صہیونی رژیم نے دوحہ میں بھی حماس کے اس سینئر رہنما کو قتل کرنے کی کوشش کی تھی، جب اسرائیلی جنگی طیاروں نے دوحہ میں ایک ایسے مقام پر حملہ کیا کہ جہاں جنگ بندی تجاویز پر گفتگو کے لئے حماس کے رہنماؤں کا اجلاس منعقد ہو رہا تھا۔ خلیل الحیہ اس حملے میں بھی بچ گئے تھے لیکن اس حملے میں ان کے آفس سیکرٹری جہاد لبد، ان کا بیٹا ہمام الحیہ اور ان کے 3 ساتھی شہید ہوئے تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: خلیل الحیہ حماس کے
پڑھیں:
نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
تل ابیب: اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے لبنان میں فوجی کارروائیوں کو مزید وسعت دینے کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کو اپنی موجودگی اور آپریشنز بڑھانے کی ہدایت جاری کر دی۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ بیوفورٹ قلعے پر قبضہ ایک “ڈرامائی قدم” اور اسرائیلی پالیسی میں بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل غزہ، مصر اور لبنان سمیت مختلف محاذوں پر سرگرم ہے۔ اور سرحدوں سے باہر سیکیورٹی زونز قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ اسرائیلی آبادی کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی فوج کو ہدایت دی گئی ہے کہ لبنان میں اپنی موجودگی کو مزید مضبوط اور وسیع کیا جائے۔ خصوصاً ان علاقوں میں جہاں ماضی میں حزب اللہ کا اثر و رسوخ رہا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے دعویٰ کیا ہے کہ اکتوبر 2023 سے اب تک حزب اللہ کے 8 ہزار جنگجو مارے جا چکے ہیں۔
دوسری جانب رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک متعدد اسرائیلی ہلاکتیں بھی سامنے آئی ہیں، جن میں حالیہ ڈرون حملے میں مارا گیا ایک فوجی بھی شامل ہے۔