قابض و سفاک اسرائیلی ریجیم کے سرکاری ٹیلیویژن نے انکشاف کیا ہے کہ قابض صیہونی ریجیم نے جنگ غزہ کے ابتدائی دنوں میں ہی حماس کے اس سینئر رہنما کو قتل کر ڈالنے کا منصوبہ بنا رکھا تھا جس پر وقتا فوقتا عملدرآمد کی کوششیں کیجاتی رہی ہیں اسلام ٹائمز۔ قابض و سفاک اسرائیلی ریجیم کے سرکاری عسکری ٹیلیویژن چینل کان نے پہلی مرتبہ انکشاف کیا ہے کہ تل ابیب نے کیسے جنگ غزہ کے ابتدائی دنوں کے دوران، فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کے سینیئر رہنما خلیل الحیہ کی ٹارگٹ کلنگ کے اپنے مشن کو منسوخ کیا۔ عبری زبان کے اس صیہونی چینل نے اعلان کیا کہ خلیل الحیہ کو بیروت ایئرپورٹ پر پہنچنے کے فوراً بعدد اسرائیل کی جانب سے فضائی حملے کا نشانہ بنایا جانا طے تھا.

. جس کے بعد اسرائیلی انٹیلیجنس ایجنسیوں نے خلیل الحیہ کا سراغ لگا لیا اور وہ تمام بموں کو گرا دینے کے لئے تیار تھے.. لیکن پھر یہ حملہ آخری لمحات میں منسوخ کر دیا گیا کیونکہ اس وقت تک خلیل الحیہ کے درست مقام کی تصدیق نہیں ہو پائی تھی! صیہونی رپورٹ کے مطابق خلیل الحیہ کا نام شروع سے ہی اسرائیلی ٹارگٹ کلنگ کی فہرست میں شامل رہا ہے جبکہ یہ بات، گذشتہ ستمبر میں قطری دارالحکومت دوحہ میں اس فلسطینی مزاحمتی تحریک کے رہنماؤں کے خلاف ہونے والے اسرائیلی حملے میں کھل کر سامنے آئی تھی۔ 

واضح رہے کہ 9 ستمبر 2025 کے روز قابض صہیونی رژیم نے دوحہ میں بھی حماس کے اس سینئر رہنما کو قتل کرنے کی کوشش کی تھی، جب اسرائیلی جنگی طیاروں نے دوحہ میں ایک ایسے مقام پر حملہ کیا کہ جہاں جنگ بندی تجاویز پر گفتگو کے لئے حماس کے رہنماؤں کا اجلاس منعقد ہو رہا تھا۔ خلیل الحیہ اس حملے میں بھی بچ گئے تھے لیکن اس حملے میں ان کے آفس سیکرٹری جہاد لبد، ان کا بیٹا ہمام الحیہ اور ان کے 3 ساتھی شہید ہوئے تھے۔

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: خلیل الحیہ حماس کے

پڑھیں:

نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان

تل ابیب: اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے لبنان میں فوجی کارروائیوں کو مزید وسعت دینے کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کو اپنی موجودگی اور آپریشنز بڑھانے کی ہدایت جاری کر دی۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ بیوفورٹ قلعے پر قبضہ ایک “ڈرامائی قدم” اور اسرائیلی پالیسی میں بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل غزہ، مصر اور لبنان سمیت مختلف محاذوں پر سرگرم ہے۔ اور سرحدوں سے باہر سیکیورٹی زونز قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ اسرائیلی آبادی کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی فوج کو ہدایت دی گئی ہے کہ لبنان میں اپنی موجودگی کو مزید مضبوط اور وسیع کیا جائے۔ خصوصاً ان علاقوں میں جہاں ماضی میں حزب اللہ کا اثر و رسوخ رہا ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم نے دعویٰ کیا ہے کہ اکتوبر 2023 سے اب تک حزب اللہ کے 8 ہزار جنگجو مارے جا چکے ہیں۔

دوسری جانب رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک متعدد اسرائیلی ہلاکتیں بھی سامنے آئی ہیں، جن میں حالیہ ڈرون حملے میں مارا گیا ایک فوجی بھی شامل ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • بحرین میں اہل تشیع سے امتیازی سلوک
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان