محکمہ ایکسائز نےشہریوں کو بڑی سہولت فراہم کردی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
علی ساہی: محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن نے شہریوں کو بڑی سہولت فراہم کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ کل سے لاہور سمیت پنجاب بھر میں دوسرے صوبوں کی گاڑیوں کی ری رجسٹریشن کا آغاز کر دیا جائے گا۔
محکمہ ایکسائز کے مطابق دوسرے صوبوں کی گاڑیوں کی ری رجسٹریشن کے لیے این او سی، اصل کوائف اور نمبر پلیٹس پنجاب کے متعلقہ دفاتر میں جمع کروانا ہوں گے۔ تمام دستاویزات کی جانچ اور منظوری کے بعد گاڑی کو پنجاب کا نیا رجسٹریشن نمبر جاری کیا جائے گا۔
بھاٹی گیٹ مین ہول حادثہ: ماں بیٹی کی موت کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آ گئی
ایڈیشنل ڈی جی ایکسائز رضوان شیروانی نے بتایا کہ اوورسیز اور مقامی شہریوں کے لیے گاڑی کی ٹرانسفر اور رجسٹریشن کی بائیومیٹرک تصدیق کے لیے پاک آئی ڈی ایپ بھی حتمی مراحل میں ہے۔ نادرا کے ساتھ ڈیٹا انٹیگریشن مکمل ہو چکی ہے، جبکہ ایپ میں مکمل انضمام اور اسٹاف کی تربیت کے بعد اس سہولت کا باقاعدہ آغاز کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاک آئی ڈی ایپ کے ذریعے شہری گھر بیٹھے بائیومیٹرک تصدیق کر کے گاڑی کی رجسٹریشن اور ٹرانسفر کی سہولت حاصل کر سکیں گے۔
عالمی و مقامی مارکیٹ میں سونے کی تاریخ کی سب سے بڑی کمی ریکارڈ
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
کراچی:ایڈیشنل سیشن جج جنوبی نے بی ایم ڈبلیو تحویل میں لے کر پانچ لاکھ روپے جرمانہ وصولی پر ڈی ایچ اے ویجلنس، ایس ایس پی جنوبی اور ایس ایچ او ساحل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق درخواست گزار نے ڈی ایچ اے ویجلنس پر گاڑی غیر قانونی طور پر قبضے میں لینے کا الزام عائد کیا ہے۔
درخواست گزار ارسلان خواجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈی ایچ اے ویجلنس اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوز کیا، بغیر شواہد درخواست گزار پر ڈرفٹنگ اور ڈونٹس کا الزام لگایا گیا، 25 سے 30 اہلکاروں نے گاڑی کو گھیر کر تحویل میں لیا، بی ایم ڈبلیو گاڑی ضبط کرکے ڈی ایچ اے ویجلنس دفتر منتقل کی گئی اور 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔
درخواست گزار نے وکیل کے توسط سے کہا کہ گاڑی کی رہائی کے لیے 5 لاکھ روپے طلب کیے گئے، ڈی ایچ اے ویجلنس کو گاڑیاں ضبط کرنے کا اختیار حاصل نہیں، شہریوں کو روکنے اور جرمانہ عائد کرنے کا اختیار صرف پولیس کے پاس ہے، ڈی ایچ اے ویجلنس پولیس فورس نہیں، ویجلنس حکام کے اقدامات اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہیں، درخواست میں بھتہ خوری، غیر قانونی حراست اور دھمکیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
درخواست پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 جون کو جواب طلب کرلیا۔