بنگلہ دیش جماعتِ اسلامی کے امیر شفیق الرحمان نے کہا ہے کہ اگر ان کی جماعت کا حمایت یافتہ انتخابی اتحاد اقتدار میں آیا تو مہیش کھلی کو ’اسمارٹ اکنامک زون‘ میں تبدیل کیا جائے گا، جہاں روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور جامع ترقی پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

 کاکس بازار کے سب ڈسٹرکٹ مہیش کھلی کے بیر مکتی جدھا گراؤنڈ میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے شفیق الرحمان نے کہا کہ مستقبل کے ترقیاتی منصوبوں میں بنگلہ دیش کے سب سے زیادہ پسماندہ علاقوں کو ترجیح دی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش انتخابات: اے بی پارٹی نے مختلف راستہ اختیار کرنے کا عندیہ دے دیا

یہ جلسہ ملک کے 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات سے قبل 11 جماعتی انتخابی اتحاد کے زیرِ اہتمام منعقد کیا گیا تھا۔

انہوں نے مہیش کھلی کو قدرتی وسائل سے مالا مال علاقہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے باوجود یہ خطہ معاشی طور پر پسماندہ رہا ہے۔

জামায়াত ক্ষমতায় এলে পাচার করা টাকা উদ্ধার করা হবে : মহেশখালীতে নির্বাচনি জনসভায় জামায়াত আমির pic.

twitter.com/IbhVyQz8zZ

— Ekhon TV (@ekhon_tv) February 2, 2026

ان کا کہنا تھا کہ مہیش کھلی کو ترقی کا ہدف بنانے کی ضرورت ہے اور ان کا اتحاد اسے ایک معاشی مرکز میں تبدیل کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے گا تاکہ مقامی نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔

شفیق الرحمان نے کہا کہ روزگار کے مواقع بلاامتیاز فراہم کیے جائیں گے اور ہندوؤں، بدھ مت کے پیروکاروں اور عیسائیوں سمیت تمام مذہبی اکائیوں کو سیاسی یا مذہبی شناخت کے بجائے اہلیت، صلاحیت اور حب الوطنی کی بنیاد پر پرکھا جائے گا۔

ملک میں حالیہ سیاسی تبدیلیوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے احتجاجی تحریکوں کے دوران جانیں قربان کرنے والوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا، جن میں ایک مقامی نوجوان تنویر صدیقی بھی شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: بنگلہ دیش میں انتخابات سے قبل مسلح افواج کو ہائی الرٹ رہنے کا حکم

ان کا کہنا تھا کہ ان قربانیوں کی بدولت بنگلہ دیش ایک طویل سیاسی تاریکی کے دور سے نکل سکا۔

ووٹروں سے خطاب کرتے ہوئے جماعتِ اسلامی کے امیر نے کہا کہ آنے والا انتخاب قومی تبدیلی کے لیے ایک ’ریفرنڈم‘ کی حیثیت رکھتا ہے۔

انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ سیاسی اصلاحات کے حق میں متحرک کردار ادا کریں، انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ مجوزہ تبدیلیوں کی مخالفت کو عوام آمرانہ یا موروثی سیاست کی حمایت کے طور پر دیکھیں گے۔

A strong economy needs rules, not political patronage.
We will enforce a rule-based system, fight corruption, reform banks, recover looted money and restore trust in the financial sector.#Jamaat2026 #VoteForDaripalla

— Dr. Shafiqur Rahman (@Drsr_Official) February 2, 2026

نوجوانوں کے مسائل پر بات کرتے ہوئے شفیق الرحمان نے کہا کہ نوجوان خیرات یا وظائف نہیں بلکہ باعزت روزگار چاہتے ہیں۔

انہوں نے بیروزگاری الاؤنس کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پائیدار ملازمتیں ہی اصل حل ہیں۔

انہوں نے مہیش کھلی–کٹوبدیا خطے کی معاشی صلاحیت کو اجاگر کرتے ہوئے خاص طور پر ماتارباری ڈیپ سی پورٹ منصوبے کا ذکر کیا۔

مزید پڑھیں: آئندہ انتخابات بنگلہ دیش میں شفاف اور منصفانہ انتخابات کا معیار قائم کریں گے، محمد یونس

ان کا کہنا تھا کہ اگر اس علاقے کو درست انداز میں منظم کیا جائے تو یہ ایشیا کے بڑے تجارتی مراکز کی طرح ایک اہم علاقائی معاشی حب بن سکتا ہے۔

ماضی کی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے بدعنوانی اور غیرقانونی سرمایہ بیرونِ ملک منتقل کیے جانے کے الزامات عائد کیے۔

بنگلہ دیش بینک کے تخمینوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ کھربوں ٹکا ملک سے باہر منتقل کیے گئے۔

مزید پڑھیں: بنگلہ دیش کے آئندہ عام انتخابات قریب، کس سیاسی جماعت کا پلڑا بھاری ہے؟

انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ لوٹی گئی قومی دولت واپس لا کر اسے ملکی ترقی میں استعمال کیا جائے گا۔

جماعت اسلامی کے سربراہ نے کہا کہ خواتین کے تحفظ اور وقار کو یقینی بنانا بھی ان کی ترجیحات میں شامل ہوگا، انہوں نے خواتین کے حقوق کے تحفظ میں نظام کی ناکامیوں کا اعتراف کیا۔

اپنی تقریر کے اختتام پر شفیق الرحمان نے کہا کہ سیاسی کامیابی بذاتِ خود مقصد نہیں بلکہ اصل ہدف شفاف انتخابات کے ذریعے عوام کا اعتماد حاصل کرنا ہے۔

انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ اتحاد، دیانت داری اور جوابدہ قیادت کے ذریعے انتخابات کے بعد ایک ’نیا بنگلہ دیش‘ وجود میں آ سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسمارٹ اکنامک زون امیر بنگلہ دیش بیروزگاری الاؤنس جماعت اسلامی ڈیپ سی پورٹ روزگار ریفرنڈم شفاف انتخابات شفیق الرحمٰن قومی تبدیلی قومی دولت کاکس بازار معاشی حب مہیش کھلی

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسمارٹ اکنامک زون بنگلہ دیش بیروزگاری الاؤنس جماعت اسلامی ڈیپ سی پورٹ روزگار ریفرنڈم شفاف انتخابات شفیق الرحم ن قومی تبدیلی قومی دولت کاکس بازار مہیش کھلی شفیق الرحمان نے کہا کہ مہیش کھلی کو دیتے ہوئے بنگلہ دیش کرتے ہوئے انہوں نے کے لیے

پڑھیں:

گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ

صدر پی ٹی آئی سندھ نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے آئندہ انتخابات کو متنازع بنانے کی کسی بھی کوشش سے گریز کیا جائے اور انتخابی عمل کو مکمل طور پر شفاف، غیر جانبدار اور منصفانہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو اپنا ووٹ آزادانہ طور پر استعمال کرنے کا مکمل حق حاصل ہے اور کسی قسم کی مداخلت یا دباؤ جمہوری اقدار کے منافی ہوگا۔ حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ملک میں سیاسی استحکام کا راستہ صرف آزاد، شفاف اور غیر جانبدار انتخابات سے ہو کر گزرتا ہے، عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کی روایت نے ماضی میں پاکستان کو سیاسی اور معاشی بحرانوں سے دوچار کیا، اس لیے ضروری ہے کہ عوام کے فیصلے کا مکمل احترام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ 8 فروری 2024ء کے عام انتخابات میں عوام نے اپنا واضح فیصلہ دیا تھا، تاہم عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔

حلیم عادل شیخ نے مطالبہ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کو گلگت بلتستان میں انتخابی مہم چلانے کے مساوی اور آئینی حقوق فراہم کیے جائیں تاکہ تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع میسر آ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کو ہر قسم کے دباؤ، جانبداری اور غیر ضروری مداخلت سے پاک رکھا جائے تاکہ عوام اپنی مرضی کے نمائندوں کا انتخاب کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام باشعور ہیں اور وہ اپنے ووٹ کی طاقت سے حقیقی نمائندوں کا انتخاب کریں گے، عوام کا فیصلہ ہی جمہوریت اور پاکستان کے روشن مستقبل کی بنیاد ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کے انتخابات میں عوامی حمایت کے ساتھ بھرپور کامیابی حاصل کرے گی۔ حلیم عادل شیخ نے مزید کہا کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی ترقی، سرمایہ کاری اور عوامی خوشحالی ممکن نہیں، لہذا تمام متعلقہ حکام اس امر کو یقینی بنائیں کہ انتخابات مکمل طور پر شفاف اور منصفانہ ہوں اور عوام کے مینڈیٹ کا ہر صورت احترام کیا جائے۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • وفاقی جماعتوں کے تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان انتخابات میں متحرک
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا