حضرت لعل شہباز قلندرؒ کے عرس پر سیہون میں دفعہ 144 نافذ، نوٹیفکیشن جاری
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
ویب ڈیسک : کمشنر حیدرآباد نے حضرت لعل شہباز قلندرؒ کے عرس پر سیہون میں دفعہ 144 نافذ کردی، اس حوالے سے نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ۔
ڈپٹی کمشنر اور ایس ایس پی جامشورو کی درخواست پر کمشنر حیدرآباد نے دفعہ 144 لگانے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا، جس کے مطابق عرس کے دوران زائد المیعاد ایل پی جی سلنڈرز کے استعمال پر پابندی لگادی گئی ہے۔
بر صغیر پاک و ہند کے مشہور صوفی بزرگ حضرت لعل شہباز قلندرؒ کے عرس کے دوران غیرقانونی ایل پی جی ڈیکینٹنگ پر کریک ڈاؤن کا حکم جاری کردیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ عرس مبارک کے دوران سیہون میں نہروں پر نہانے اور ہیوی ٹریفک کے داخلے پر پابندی ہوگی۔
بھاٹی گیٹ مین ہول حادثہ: ماں بیٹی کی موت کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آ گئی
نوٹیفکیشن کے مطابق سیہون میں 15 شعبان سے 20 شعبان تک نہروں میں نہانے پر دفعہ 144 نافذ ہوگا۔ اِسی طرح سیہون میں ہیوی ٹریفک کے داخلے پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے، دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔
کمشنر حیدرآباد فیاض عباسی کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ سیہون عرس میں زائرین کی سہولت کی خاطر اور ٹریفک پر کنٹرول کے لیے ہیوی ٹریفک پر پابندی لگادی گئی ہے۔
عالمی و مقامی مارکیٹ میں سونے کی تاریخ کی سب سے بڑی کمی ریکارڈ
واضح رہے کہ عرس کے دوران اسلحے کی نمائش پر بھی پابندی عائد ہے، Section 144 کا نفاذ امن امان کی صورتحال کے پیش نظر کیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔
ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔