بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے دہشتگردی کے خلاف جاری کارروائیوں کے نتیجے میں اہم پیشرفت سامنے آگئی۔

یہ بھی پڑھیں: بلوچستان: سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں فتنہ الہندوستان کے مزید 22 دہشتگرد ہلاک، مجموعی تعداد 177 ہوگئی

دستیاب اعداد و شمار کے مطابق حالیہ آپریشنز کے دوران 177 دہشتگرد ہلاک کیے گئے جبکہ 17 سیکیورٹی اہلکار (10 پولیس، 6 ایف سی اور 1 لیویز) شہید ہوئے۔ اس کے علاوہ گوادر اور مکران میں 33 شہریوں کی شہادتیں رپورٹ ہوئیں۔

مزید پڑھیے: بلوچستان میں دہشتگردی کی وجہ محرومی نہیں، مصالحتی پالیسی کی وجہ سے واقعات میں اضافہ ہوا، سرفراز بگٹی
بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے جس کا رقبہ 3 لاکھ 47 ہزار 190 مربع کلومیٹر ہے جو پاکستان کے کل رقبے کا 44 فیصد) ہے اور صوبے کی آبادی ایک کروڑ 48 لاکھ کے لگ بھگ ہے جو ملک کی مجموعی آبادی کا 6.

1 فیصد بنتی ہے۔
صوبے کا کل بجٹ 1028 ارب روپے مقرر ہے۔

صوبے کا اصل مسئلہ کیا ہے؟

ماہرین کے مطابق بلوچستان میں بدامنی کی جڑیں سنہ 1950 کی دہائی سے جڑی ہیں جہاں بعض بااثر سردار اپنے ذاتی مفادات کے تحفظ کے لیے اسمگلنگ مافیا کی سرپرستی کرتے آ رہے ہیں۔ یہ مافیا منشیات، غیر قانونی ایرانی تیل اور افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی ریورس اسمگلنگ میں ملوث ہے۔

مزید پڑھیں: بلوچستان کے وزیرِ اعلیٰ رو رہے تھے
سنہ1960 کی دہائی سے اشیائے ضروریہ کی نقل و حمل کے لیے رہداری نظام موجود ہے جسے اسمگلنگ کے لیے استعمال کیا جاتا رہا۔ ریاست کی جانب سے تعلیم، صحت اور روزگار کے منصوبے ان عناصر کے مفادات کے خلاف جاتے ہیں اس لیے ترقیاتی منصوبوں کی شدید مخالفت کی جاتی ہے۔
بی ایل اے اور دیگر کالعدم تنظیموں کو انہی جرائم پیشہ عناصر کا مسلح ونگ قرار دیا جاتا ہے۔ حکومت کی اسمگلنگ کے خلاف زیرو ٹالرینس پالیسی کے باعث ان کے مفادات کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔ مثال کے طور پر ایرانی ڈیزل کی اسمگلنگ 20 ملین لیٹر یومیہ سے کم ہو کر صرف 10 لاکھ لیٹر یومیہ رہ گئی ہے جو مقامی ضرورت کے لیے کافی ہے۔

دہشتگردوں کا طریقہ کار

دہشتگرد اور ان کے سہولت کار دوہری حکمت عملی اپنائے ہوئے ہیں۔ ایک جانب وہ دہشتگرد کارروائیوں کے ذریعے ریاستی رٹ کو کمزور ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ دوسری جانب نوجوانوں، ادیبوں اور لبرل حلقوں کو استعمال کرتے ہوئے ریاست مخالف بیانیہ تشکیل دیتے ہیں۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بھارت اور افغانستان ان عناصر کو کھلے عام سفارتی اور غیر سفارتی سطح پر حمایت فراہم کر رہے ہیں۔

زمینی حقیقت

بلوچستان ایک متنوع آبادی کا حامل صوبہ ہے جہاں 40 فیصد بلوچ، 30 فیصد پشتون، 17 فیصد براہوی اور باقی دیگر اقوام بشمول ہزارہ اور آبادکار شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: بلوچستان کی طرف اٹھنے والی ہر آنکھ نکال لی جائےگی، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز
دلچسپ امر یہ ہے کہ بلوچستان سے زیادہ بلوچ آبادی جنوبی پنجاب اور شمالی سندھ میں آباد ہے جو ’آزادی بلوچستان‘ کے بیانیے کو بے بنیاد ثابت کرتا ہے۔ سنہ 1947 سے اب تک ہونے والی ترقی بھی محرومی کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

افغانستان بلوچستان بلوچستان کی صورتحال بلوچستان میں دہشتگردی بلوچستان میں دہشتگردی کے عوامل بھارت

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: افغانستان بلوچستان بلوچستان کی صورتحال بلوچستان میں دہشتگردی بلوچستان میں دہشتگردی کے عوامل بھارت بلوچستان میں کے لیے

پڑھیں:

اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور کویت کے وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے، جس میں خطے اور عالمی سطح پر تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق گفتگو کے دوران کویت کے وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح نے امریکا اور ایران کے درمیان رابطوں اور بات چیت کے فروغ کے لیے پاکستان کے مسلسل ثالثی کردار اور سہولت کاری کی کوششوں کو سراہا۔

Deputy Prime Minister/Foreign Minister Senator Mohammad Ishaq Dar @MIshaqDar50 spoke today with Kuwait’s Foreign Minister Sheikh Jarrah Jaber Al-Ahmad Al-Sabah to discuss evolving regional and international developments.

FM Sheikh Jarrah appreciated Pakistan’s continued… pic.twitter.com/CBnvw1REKc

— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026

انہوں نے علاقائی امن و سلامتی کے فروغ میں پاکستان کے تعمیری کردار کی بھی تعریف کی۔

اس موقع پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اس عزم کا اعادہ کیاکہ پاکستان خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے قیام کے لیے سفارت کاری اور مسلسل مذاکرات کو ہی بہترین راستہ سمجھتا ہے اور اس کی حمایت جاری رکھے گا۔

دونوں رہنماؤں نے اس امید کا اظہار کیاکہ جاری سفارتی کوششیں مثبت نتائج دیں گی اور مستقبل قریب میں خطے میں دیرپا امن کے قیام کی راہ ہموار ہوگی۔

گفتگو کے دوران پاکستان اور کویت کے درمیان موجود مضبوط برادرانہ تعلقات کا بھی اعادہ کیا گیا، جبکہ دونوں فریقوں نے مستقبل میں قریبی رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اسحاق ڈار ٹیلیفونک رابطہ عالمی صورتحال کویتی وزیر خارجہ نائب وزیراعظم وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • مصر کے وزیرِ خارجہ کا اسحاق ڈار کو ٹیلیفون، خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
  • 5 جون تک پنجاب کے متعدد اضلاع میں آندھی، شدید ژالہ باری کا امکان، الرٹ جاری
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار