این آئی سی وی ڈی، غیر قانونی تقرریاں،ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے کردار پر سنگین سوالات
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
گریڈ 17تا 19کے افسران و عملے کی غیر قانونی اور خلافِ ضابطہ تقرریوں پر شدید تحفظات
مشکوک تقرریوں پر کوئی انکوائری شروع کی گئی ، نہ ہی کسی قسم کی تحقیقات ،ڈی جی آڈٹ رپورٹ
نیشنل انسٹیٹیوٹ آف کارڈیو ویسکولر ڈیزیزز (این آئی سی وی ڈی)میں گریڈ 17تا 19کے افسران و عملے کی غیر قانونی اور خلافِ ضابطہ تقرریوں پر شدید تحفظات سامنے آ گئے ہیں۔ڈی جی آڈٹ رپورٹ میں فراہم کردہ معلومات کے مطابق یہ تقرریاں کھلے عام قواعد و ضوابط، سرکاری قوانین اور میرٹ کے اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کی گئیں۔تشویشناک امر یہ ہے کہ اس سنگین معاملے کے باوجود پروفیسر طاہر صغیر، ایگزیکٹو ڈائریکٹر این آئی سی وی ڈی کی جانب سے تاحال نہ تو کوئی انکوائری شروع کی گئی اور نہ ہی کسی قسم کی تحقیقات کا حکم دیا گیا۔مزید برآں، الزامات ہیں کہ اصلاحی اقدامات کرنے کے بجائے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ان غیر قانونی تقرریوں کی سرپرستی اور سہولت کاری کر رہے ہیں، جس سے ادارے میں شفافیت، گورننس اور احتساب پر سنگین سوالات جنم لے رہے ہیں۔ صحت کے شعبے سے وابستہ ماہرین اور مبصرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات نہ صرف میرٹ کے نظام کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ اہل اور مستحق امیدواروں کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں اور ایک اہم سرکاری طبی ادارے پر عوامی اعتماد کو بھی مجروح کرتے ہیں۔این آئی سی وی ڈی انتظامیہ کی خاموشی اور عدم کارروائی نے اسٹیک ہولڈرز اور عوامی حلقوں میں بے چینی اور تشویش کو مزید بڑھا دیا ہے ۔سول سوسائٹی اور متعلقہ حلقوں کی جانب سے پرزور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ:فوری طور پر ایک اعلیٰ سطحی اور آزاد انکوائری کمیٹی تشکیل دی جائے ۔ گریڈ 17تا 19میں کی گئی تمام غیر قانونی اور خلافِ ضابطہ تقرریوں کا مکمل جائزہ لیا جائے ۔ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے ۔ایگزیکٹو ڈائریکٹر، این آئی سی وی ڈی کے کردار کا شفاف اور غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے ۔ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر بروقت اور مؤثر کارروائی نہ کی گئی تو سرکاری صحت کے اداروں میں ادارہ جاتی ساکھ، شفافیت اور گورننس کے نظام کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: ایگزیکٹو ڈائریکٹر آئی سی وی ڈی کی گئی
پڑھیں:
چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
پاکستانی اداکار شہزاد نواز نے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں پاکستانی کرنسی سے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر ہٹا دی جائے۔حال ہی میں شہزاد نواز سے اداکار علی سفینہ نے انٹرویو لیا جس میں ملکی حالات سمیت دیگر اہم موضوعات پر گفتگو کی گئی۔علی سفینہ نے کہا 'جب بھی کوئی حکومت بدلتی ہے تو آپ کو اپنے اردگرد تبدیلیاں نظر آتی ہیں، مثلاً ایک ثقافتی پالیسی کہتی ہے کہ قائداعظم اور علامہ اقبال ہیرو ہیں، ہم ان کے دور حکومت میں ان سب کو دیکھتے ہیں، ان کی تصاویر لگائی جاتی ہیں کہ پھر دوسری آنے والی حکومت ان کی تصویریں ہٹا کر اپنے قائدین کی تصویریں لگادیتے ہیں'۔شہزاد نواز نے سوال کیا کیا ایسا ہوا ہے؟ یہ غالباً کراچی ائیرپورٹ پر ہوا تھا، جواب میں علی نے کہا بالکل۔علی سفینہ سے گفتگو کے دوران شہزاد نواز کا کہنا تھا 'اگر یہ میرے اختیار میں ہوتا تو میں تمام کرنسی نوٹوں سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دوں گا کیونکہ لوگوں میں کوئی شرم نہیں ہے، رشوت لے رہے ہیں اور دے رہے ہیں، فراڈ میں ملوث ہیں جب کہ کرنسی نوٹوں پر ان کی تصویر ہے اور وہ آپ کو یہ سب کرپٹ کام کرتے دیکھ رہے ہیں'۔انہوں نے کہا 'اگر اسی طرح نوٹوں کی سرعام بے عزتی ہوتی رہی تو اس تصویر کا کیا فائدہ، ضیاالحق کے دور میں بڑی اچھی تبدیلی آئی کے نوٹوں پر عبارت درج کی گئی رزقِ حلال عین عبادت ہے'۔شہزاد نواز نے کہا 'بعدازاں مشرف کے دور میں اس عبارت کو چھوٹا کردیا گیا، میرے خیال میں اب اسے نوٹوں پر سے نکال دینا چاہیے'۔