سردیوں کی لمبی رات تھی، قہقہوں کی آواز کبھی ایک کبھی دوسرے کونے سے آ رہی تھی، مختلف ٹولیوں میں نوجوان اور بزرگ خوش گپیوں میں مصروف تھے، یوسف خان بھی دوستوں کے ہمراہ اپنے محلے کے کوئٹہ کیفے میں چائے پی رہا تھا، دوست یار ایک دوسرے کے ساتھ گپ شپ میں اچھے روزگار کی تلاش کے منصوبے شیئر کر رہے تھے، اس دوران ایک دوست اکرام نے کہاکہ پاکستان میں تو جو کام کرایا جاتا ہے اس حساب سے اجرت نہیں دی جاتی، البتہ بیرون ملک جیسا کہ یورپ میں آپ کچھ گھنٹے کام کرکے لاکھوں روپے کما لیتے ہیں۔

یوسف خان نے کہاکہ بیرون ملک جانے کے لیے تو لاکھوں روپے درکار ہوتے ہیں اور ہمارے پاس تو اتنے پیسے نہیں ہیں، ہم کیسے بیرون ملک جا سکتے ہیں، جس پر اکرام نے کہاکہ میرا ایک ایجنٹ جاننے والا ہے جو کہ صرف 50 ہزار روپے لے کر بیرون ملک یورپ بیج دیتا ہے لیکن اس کے لیے جو سفر کرنا ہوتا ہے وہ تھوڑا مشکل ہوتا ہے اور اس کے لیے پیدل زیادہ چلنا پڑتا ہے۔

مزید پڑھیں: یورپ کا غیرقانونی سفر مزید 2 جانیں نگل گیا، ایران ترکیہ سرحد پر جاں بحق شہریوں کی لاشیں پاکستان پہنچ گئیں

اکرام نے بتایا کہ ایجنٹ جاننے والا ہے اور وہ ترکیہ میں رہائش، کھانا پینا اور نوکری سب دے گا اور کام کرنے کی اچھی تنخواہ بھی ملے گی۔

بہتر مستقبل کے لیے صرف 50 ہزار روپے سے یورپ کا سفر؟

یوسف خان رات گئے گھر آیا اور ساری رات یہ سوچتا رہا کہ 50 ہزار روپے کا بندوبست ہو سکتا ہے اور میں چونکہ جوان ہوں اور سفر کرنا میرے لیے مشکل نہیں ہے اور بہتر مستقبل کے لیے یہی ایک بہتر طریقہ ہے کہ میں اس ایجنٹ کو 50 ہزار روپے دے کر یورپ چلا جاؤں۔

صبح سویرے یوسف نے اپنے والد سے بات کی اور ان کو کہاکہ محلے میں رہنے والے دوست اکرام کا ایک ایجنٹ سے تعلق ہے اور وہ 50 ہزار روپے لے کر ترکیہ بھیج دیتا ہے اور اس طرح میں وہاں جا کر روزگار شروع کر سکتا ہوں۔

23 سالہ یوسف خان کا تعلق خیبرپختونخوا کے علاقے کرک سے ہے، اس نے 9ویں جماعت تک تعلیم حاصل کی اور پھر روزگار کی تلاش شروع کردی، اس کے والد نور عالم خان ایک ٹھیکیدار ہیں اور وہ گھروں کی تعمیر کا کام کرتے ہیں۔

’انہوں نے سوچا کہ میں نے تو اپنی زندگی اسی کام میں لگا دی ہے لیکن میرا بیٹا اگر بیرون ملک چلا جاتا ہے اور وہاں پر کوئی اچھی ملازمت شروع کر لیتا ہے تو وہ یقیناً ایک بڑا آدمی بن سکتا ہے۔ اس لیے انہوں نے 50 ہزار روپے کا بندوبست کرنا شروع کر دیا اور اپنے بیٹے یوسف سے کہاکہ وہ دوست اکرام کے ساتھ ایجنٹ سے ملے اور ترکیہ میں کیا کام کرنا ہو گا اس کی معلومات لے۔‘

یوسف کے یورپ جانے کی تیاریوں کے دوران 3 دوست اور بھی تیار ہو گئے اور انہوں نے بھی اپنے گھر والوں سے اجازت اور پیسے بھی لیے لیے۔

’سفر زیادہ ہے، اس لیے منزل تک پہنچنے میں زیادہ دن لگ سکتے ہیں‘

اس دوران ایجنٹ نے بتایا کہ سفر چونکہ زیادہ ہے، اس لیے دن لگ سکتے ہیں، پیدل بھی چلنا ہو گا، البتہ کھانا پینا، رہائش سب ملے گا، یوسف اور دوستوں نے سوچا کہ ہر قسم کی سفری مشکلات کا سامنا تو ہم نوجوان باآسانی کر لیں گے اس لیے انہوں نے ایجنٹ کو پیسے جمع کروا کر سفر کی تیاری شروع کردی۔

یوسف خان نے بتایا کہ ہم 4 دوستوں نے اسلام آباد سے اپنے سفر کا آغاز کیا، پہلے کوئٹہ پہنچے تو وہاں سینکڑوں لڑکے موجود تھے جو ہمارے ساتھ سفر کررہے تھے، کوئٹہ سے سفر کرکے بلوچستان کے صحرائوں تک پہنچے اور پیدل سفر کا آغاز ہوگیا، 3 دن تک پیدل سفر کیا، اسی دوران متعدد لڑکے واپس چلے گئے، ہمارے پاس کچھ کھانے اور پینے کی چیزیں دستیاب نہیں تھیں اور گھنٹوں پیدل چلنے کے باوجود ہم پاکستان کی حدود سے باہر نہ نکل سکے۔

اس سفر میں ہمیں دو جگہ چوروں نے پکڑ لیا اور ہمارے پاس جو کوئی رقم تھی وہ انہوں نے ہم سے لے لی، جن کے پاس پیسے نہیں ہوتے تھے ان کو چور مارتے بھی تھے اور ہمارے ساتھ جانے والے 3 لڑکوں کی پیدل سفر، بھوک پیاس اور چوروں کی مار کی وجہ سے موت بھی واقع ہو گئی تھی۔

یوسف خان نے بتایا کہ بھوک اور پیاس کے باوجود متعدد دن پیدل چلنے کے بعد بالآخر ہم پاکستان کی حدود سے نکل کر ایران تک پہنچ گئے اور پاکستان والے ایجنٹ نے ایران والے جس ایجنٹ کے پاس بھیجا تھا وہ ہمیں مل گیا، تو ہم لوگوں نے سکھ کا سانس لیا کہ اب مشکلات ختم ہو گئی ہیں۔

’ایک ایجنٹ سے دوسرے تک پہنچنے پر پھر رقم کا تقاضا‘

’پھر ایک دن تو ہمیں ایجنٹ نے اپنے پاس رکھا اور کھانا وغیرہ دیا، چونکہ ہمارے پاس پیسے ختم ہو گئے تھے تاہم اگلے ہی روز اس نے ہم سے ایک مرتبہ پھر سے پیسوں کا تقاضا شروع کر دیا اور کہاکہ اپنے گھر والوں سے پیسے منگوا کر دو۔‘

انہوں نے بتایا کہ بیشتر دوستوں کے پاس پیسے ختم ہو چکے تھے چوروں نے موبائل فون تک چھین لیے تھے، اس لیے اس موقع پر اور بھی لڑکوں نے واپسی کا سفر شروع کردیا۔

یوسف خان نے کہاکہ چند لڑکوں نے ایران والے ایجنٹ سے فرار اختیار کی اور آگے سفر کرنے کی کوشش کی تاہم پیسوں کے بغیر سفر کرنا ناممکن ہو گیا تھا، اس لیے میں نے بھی اپنے 3 دوستوں کے ہمراہ ایران کے شہر زردان میں موجود ڈیپورٹ سینٹر میں اپنے آپ کو پیش کردیا۔

یوسف خان کے مطابق ڈی پورٹ سینٹر والوں نے کہاکہ چونکہ یہاں پر بہت سے پاکستانی قید ہیں اس لیے ہم آپ کو یہاں پر نہیں رکھ سکتے، پھر ایران میں ہی ہمیں ایک ڈرائیور نے کہاکہ وہ ہم سے 30 ہزار روپے لے گا اور بارڈر کراس کرا دے گا تاہم بارڈر پر ہمیں ایرانی سیکیورٹی اہلکاروں نے پکڑ لیا اور وہاں سے ہمیں اسی ڈی پورٹ سینٹر منتقل کردیا۔

’12 روز تک ایران کے ڈی پورٹ سینٹر میں رکھنے کے بعد بلوچستان جیل بھیج دیا گیا‘

’ایران کے ڈی پورٹ سینٹر میں ہمیں 12 دن رکھا گیا اور پھر ایران سے ہمیں پاکستان میں بلوچستان کی ایک جیل میں بھیج دیا گیا۔ اس جیل میں ہمیں ایف آئی اے نے 7 روز تک رکھا اور پھر یہاں پر بھی ہم سے بھاری رقم کا تقاضا کیا گیا جسے ادا کرنے کے بعد ہمیں بلوچستان کی جیل سے رہائی ملی اور پھر ہم کوئٹہ پہنچے اور وہاں سے بس میں بیٹھ کر اسلام آباد آگئے۔‘

یوسف خان نے بتایا کہ اس سفر میں میرا ساڑھے 3 لاکھ روپے کا خرچ آیا ہے اور اب بھی میرا دوست اکرام مجھ سے پیسوں کا تقاضا کر رہا ہے کہ آپ کے کچھ واجبات ہیں وہ ایجنٹ کو ادا کرو۔

انہوں نے بتایا کہ میں نے پاکستان آ کر موبائل فون کی ریپیئرنگ کا کام شروع کر دیا ہے، سفر کے دوران گھر والوں نے بہت پریشانی کا سامنا کیا ہے تاہم گھر پہنچنے پر شکر ادا کیا ہے۔

غیر قانونی طریقے سے یورپ یا کسی اور ملک کا سفر کرنے والوں کے لیے یوسف خان نے کہاکہ ایسا ہرگز نہ کریں، یہ موت کا کھیل ہے، وہ خوش نصیب تھا کہ وہ زندہ بچ کر واپس آگیا البتہ متعدد لوگ ایسے ہیں کہ جن کی جانیں اس سفر میں چلی گئیں اور جو زندہ بچ بھی گئے انہوں نے شدید ترین مشکلات کا سامنا کیا۔

2009 میں غیرقانونی طریقے سے یورپ کے سفر کا آغاز کرنے والے شہری کی کہانی

ایبٹ آباد سے تعلق رکھنے والے 36 سالہ محمد عمران نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ انہوں نے بھی 2009 میں اپنے 12 دوستوں کے ہمراہ یورپ کے سفر کا آغاز کیا تھا، چونکہ پیسوں کی کمی تھی اس لیے غیر قانونی سفر کا انتخاب کیا، اس سفر کے لیے اس وقت ایک لاکھ روپے تک کا خرچ آیا تھا۔

محمد عمران نے بتایا کہ 12 دوستوں میں سے 4 دوستوں کی طبعیت پاکستان میں ہی خراب ہو گئی تھی، پھر ایران پہنچتے ہی تفتان کے قریب انتہائی بگڑ گئی جس وجہ سے میں ان کے ساتھ ہوٹل میں ہی رہ گیا، زیادہ پیدل سفر کرنے اور بھوک پیاس کے باعث مجھے آگے کا سفر مشکل لگ رہا تھا۔

’غیرقانونی سفر کرنے والوں کو راستے میں مار بھی دیا جاتا ہے‘

’وہاں تفتان میں لوگوں نے بتایا کہ آگے غیر قانونی سفر کرنے والوں کو تشدد کرکے مار دیتے ہیں، یا پھر جسم کے اعضا کان، یا ناک کاٹ دیتے ہیں، یہ باتیں سن کر میں نے بھی واپسی کا فیصلہ کیا اور ہمارے جو 7 لوگ آگے گئے تھے معلوم نہیں کہ وہ اب کہاں ہیں اور کس حال میں ہیں، زندہ بھی ہیں یا نہیں، ان سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔‘

مزید پڑھیں: افغان باشندے غیر قانونی راستوں سے یورپ جانے کے لیے پاکستان کا استعمال کیسے کرتے ہیں؟

محمد عمران نے کہاکہ پاکستان میں نوجوان لالچ کے باعث ایجنٹس کو پیسے دے کر غیر قانونی سفر کا آغاز کرتے ہیں، لیکن یہ سفر انتہائی مشکل ہوتا ہے، نوجوانوں کے ماں باپ، بہن، بھائی ان کے پیچھے بہت پریشان رہتے ہیں کہ پتا نہیں کہاں ہے کہاں جائے گا، سفر بھی مشکل ہوتا ہے اور وہاں پہنچنا بھی مشکل ہوتا ہے، اس لیے اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر ایسا سفر کرنا کوئی عقلمندی نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews ایجنٹ ایران پیدل سفر ترکیہ تشدد غیرقانونی سفر وی نیوز یورپ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایجنٹ ایران پیدل سفر ترکیہ وی نیوز یورپ ڈی پورٹ سینٹر مشکل ہوتا ہے پاکستان میں یوسف خان نے نے بتایا کہ سفر کا آغاز دوست اکرام ہزار روپے ہمارے پاس دوستوں کے اور ہمارے بیرون ملک ہے اور وہ پیدل سفر کا تقاضا ایجنٹ سے نے کہاکہ انہوں نے اور وہاں کا سامنا اور پھر سے یورپ نے بھی ہیں کہ میں ہی کے لیے کا سفر اس لیے

پڑھیں:

بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان

اسلام آباد:

نئے بجٹ میں کرپٹو ٹرانزیکشنز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والے منافع پر کیپیٹل گین ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے اس بارے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مشاورت کے بعد کرپٹو سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے تمام ڈیجیٹل کاروبار سے حاصل ہونے والے گین پر ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ کرپٹو لین دین میں کیپیٹل گین ٹیکس کی وصولی کی بھی تجویز دی گئی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ اس سلسلے میں سیکشن 37 میں شق 37 سی کا اضافہ کر کے کرپٹو لین دین سے کیپیٹل گین وصول کیا جا سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان میں تقریباً 90 لاکھ افراد کرپٹو کرنسی استعمال کرتے ہیں اور حکومت کو کرپٹو ٹرانزیکشنز سے اربوں روپے اضافی ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے اور کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والا منافع جلد ٹیکس کے دائرے میں آ سکتا ہے۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان ورچوئل ایسیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کو کرپٹو صارفین کے لیے ٹیکس اقدامات تجویز کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں، جب کہ کرپٹو صارفین کی تعداد، ٹرانزیکشنز اور ٹیکس میکنزم کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ چند ماہ قبل مرکزی بینک نے ورچوئل اثاثوں کو قانونی حیثیت دینے اور ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس اقدام کے تحت پاکستانی روپے کو ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل کر کے ورچوئل اثاثوں کی خریداری ممکن بنائی جا سکے گی، جب کہ پاکستانی روپے کی شکل میں موجود رقم کو کرپٹو کرنسی میں ایکسچینج بھی کیا جا سکے گا۔

ذرائع کے مطابق ورچوئل اثاثوں کو اشیا، خدمات اور ایکو سسٹم سے باہر خریداری کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا، جب کہ ڈیجیٹل کرنسی صرف ورچوئل اثاثوں کے لیے پاکستان میں قائم دفاتر کو جاری کی جائے گی۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسی کے لیے قانونی فریم ورک بھی تیار کیا جا چکا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان