غیرت کے نام پر قتل خلاف اسلام قرار، اسلامی نظریاتی کونسل نے اہم قانونی معاملات پر رائے دیدی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
اسلامی نظریاتی کونسل نے اہم قانونی معاملات پر رائے دینے کے ساتھ ساتھ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے واقعات کی مذمت کی ہے۔
اسلامی نظریاتی کونسل کا 244 واں اجلاس چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل علامہ ڈاکٹر محمد راغب حسین کی زیرِ صدارت منعقد ہوا۔
مزید پڑھیں: انجینیئر محمد علی مرزا کے خلاف اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے معطل کرنے کی درخواست پر سماعت ملتوی
اجلاس میں بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کی جانب سے ہونے والے دہشتگردانہ واقعات کی شدید مذمت کی گئی۔
چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل نے کہاکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم افواجِ پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
اجلاس کے آغاز پر شہدا اور حال ہی میں وفات پانے والے سابق اراکین کونسل مولانا فضل الرحیم اور محمد جلال الدین ایڈوکیٹ کے لیے فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔
اجلاس میں قانونِ انفساخِ نکاح مسلمانان 1939 کے تحت اسبابِ فسخِ نکاح کا جائزہ لیا گیا۔
کونسل نے خصوصی پارلیمانی سب کمیٹی برائے جنسی شمولیت (اسپیشل کمیٹی برائے جینڈر مین اسٹریمینگ) کی تجاویز سے اصولی طور پر اتفاق کرتے ہوئے قرار دیا کہ اگر خاوند مفقود الخبر ہو اور بیوی کو عفت و عصمت کا مسئلہ درپیش ہو تو وہ 2 سال انتظار کے بعد عدالت سے فسخِ نکاح کے لیے رجوع کر سکتی ہے۔
اسی طرح نفقے کی عدم ادائیگی کی صورت میں ایک سال، خاوند کے قید ہونے کی صورت میں 3 سال بعد فسخِ نکاح کے لیے عدالت سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔
نامردی، فرائضِ زوجیت کی ادائیگی پر قدرت نہ ہونا، ذہنی امراض یا دیگر امراضِ خبیثہ کی صورت میں ایک سال انتظار کے بعد فسخِ نکاح کیا جا سکتا ہے۔ باپ دادا کی جانب سے بچپن میں کیے گئے نکاح میں اگر سو اختیار ثابت ہو جائے تو بھی فسخِ نکاح ممکن ہوگا۔
کونسل نے رحم کی پیوندکاری سے متعلق استفسار پر قرار دیا کہ ایسی خاتون جو تولید کی طبعی عمر گزار چکی ہو، چند شرائط کے ساتھ اس کے رحم کو بطور پیوندکاری منتقل کیا جا سکتا ہے۔ نیو ڈورا پروڈکٹ (Dural Repair Patch) کے استعمال کے بارے میں کونسل نے قرار دیا کہ اس کا استعمال درست نہیں۔
مقدس اوراق کی ری سائیکلنگ سے متعلق کونسل نے منظوری دیتے ہوئے قرار دیا کہ احتیاط کا تقاضا ہے کہ قرآنی اور مقدس اوراق کو دیگر عام اوراق سے الگ ری سائیکلنگ کے مراحل سے گزارا جائے۔
مزید پڑھیں: شوگر کے مریض خنزیر کے اجزا والی انسولین سے اجتناب کریں، اسلامی نظریاتی کونسل
وزارتِ قانون و انصاف کے استفسار پر کونسل نے واضح کیاکہ غیرت کے نام پر قتل خلافِ اسلام ہے اور کسی بھی شخص کو کسی بھی حالت میں قانون کو ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں۔
اجلاس میں صاحبزادہ حسان حسیب الرحمان، طاہر محمود اشرفی، رانا شفیق پسروری، ڈاکٹر عزیر محمود الازہری، مفتی محمد زبیر، سید سعید الحسن، پیر شمس الرحمان مشہدی، بیرسٹر عتیق الرحمان بخاری، حافظ محمد امجد، علامہ یوسف اعوان سمیت دیگر اراکین نے شرکت کی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اسلامی نظریاتی کونسل رائے دیدی غیرت کے نام پر قتل قانونی معاملات وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلامی نظریاتی کونسل غیرت کے نام پر قتل قانونی معاملات وی نیوز اسلامی نظریاتی کونسل قرار دیا کہ کونسل نے کے لیے
پڑھیں:
بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
اسلام ٹائمز: یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مذکورہ تنظیم عملاً ہر قسم کی سیاسی یا جماعتی سرگرمیوں سے دور رہی ہے۔ تاہم اس اقدام کو بحرین میں شیعہ اداروں کے خلاف جاری دباؤ اور کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اپنے قیام کے آغاز سے ہی یہ تنظیم ایک ثقافتی، سماجی اور دینی پلیٹ فارم کے طور پر معروف رہی ہے، جو بنیادی طور پر سماجی اور تربیتی امور پر توجہ دیتی رہی ہے۔ خصوصی رپورٹ:
بحرینی حکام نے سنہ 2026 کے حکم نامہ نمبر (19) کے تحت جمعیۃ التوعیۃ الاسلامیۃ (اسلامی آگاہی سوسائٹی) کو تحلیل کرنے کا فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ یہ ادارہ بحرین میں شیعہ آبادی کی سب سے نمایاں ثقافتی اور سماجی تنظیم سمجھا جاتا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مذکورہ تنظیم عملاً ہر قسم کی سیاسی یا جماعتی سرگرمیوں سے دور رہی ہے۔ تاہم اس اقدام کو بحرین میں شیعہ اداروں کے خلاف جاری دباؤ اور کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اپنے قیام کے آغاز سے ہی یہ تنظیم ایک ثقافتی، سماجی اور دینی پلیٹ فارم کے طور پر معروف رہی ہے، جو بنیادی طور پر سماجی اور تربیتی امور پر توجہ دیتی رہی ہے۔
یہ فیصلہ محض ایک انتظامی اقدام نہیں بلکہ اس کے سیاسی اور سماجی اثرات بھی ہیں۔ بحرین کے شیعہ معاشرے میں اس تنظیم کی اہمیت کے پیش نظر، اسے نشانہ بنانا وسیع حلقوں کی نظر میں شیعہ برادری کے خلاف محدودیت پسند پالیسیوں کا تسلسل سمجھا جا رہا ہے، خصوصاً گزشتہ برسوں میں اس طبقے کے خلاف کیے جانے والے متعدد اقدامات کے تناظر میں۔ یہ تنظیم، جو اس سے قبل بھی مختلف سخت اور غیر منصفانہ کارروائیوں کا نشانہ بن چکی ہے، 1972ء میں بحرین کے ممتاز دینی علماء کے ایک گروہ نے آیت اللہ شیخ عیسیٰ قاسم کی قیادت میں قائم کی تھی۔ بعد ازاں یہ بحرین اور خطے کی سب سے بڑی ثقافتی اور سماجی تنظیموں میں شمار ہونے لگی۔
اس تنظیم کی تحلیل کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ بحرینی حکام نے پہلی مرتبہ فروری 1984ء میں اس تنظیم کو بند کیا تھا اور یہ پابندی 2001ء تک برقرار رہی۔ بعد ازاں قومی منشور پر ہونے والے ریفرنڈم اور ملک میں نسبتاً سیاسی کشادگی کے دور میں اسے دوبارہ سرگرمیوں کی اجازت دی گئی۔ اس کے بعد جون 2016ء میں، شیعہ مذہبی شخصیات اور اداروں کے خلاف وسیع کارروائیوں کے دوران، حکام نے ایک مرتبہ پھر اس تنظیم کو تحلیل کرنے کا حکم جاری کیا۔ 9 جون 2022ء کو تحلیل کا فیصلہ منسوخ کر دیا گیا اور تنظیم نے اپنی سرگرمیاں دوبارہ شروع کر دیں، تاہم اس کی سرگرمیاں مسلسل مختلف پابندیوں کے حصار میں رہیں۔
ان پابندیوں میں قانونی و انتظامی کارروائیاں، تنظیم سے وابستہ ذمہ داران کے خلاف مقدمات، بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تحلیل اور بعض سرگرمیوں کی جبری معطلی شامل تھیں۔ بالآخر تنظیم کے سربراہ اور تین دیگر کارکنان کو بھی اسی ادارے میں اپنی سرگرمیوں کی بنیاد پر گرفتار کر لیا گیا، جسے اپوزیشن اور مخالف حلقوں کے ساتھ سکیورٹی طرزِ عمل کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے۔ سنہ 2026 کے حکم نامہ نمبر (19) کے اجرا کے ساتھ اسلامی آگاہی سوسائٹی ایک بار پھر اپنی مسلسل بندشوں اور پابندیوں کی تاریخ کے نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ اس پیش رفت نے بحرین میں مذہبی آزادیوں کے بارے میں مزید سوالات کو جنم دیا ہے، حالانکہ حکومت خود کو رواداری اور پرامن بقائے باہمی کا داعی قرار دیتی ہے۔
اس تنظیم کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کی تاریخی ترتیب کا جائزہ لیا جائے تو حالیہ تحلیل کو محض ایک انتظامی یا قانونی اختلاف قرار دینا مشکل دکھائی دیتا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ 54 برس قبل اپنے قیام سے لے کر آج تک یہ ادارہ اپنی ثقافتی، سماجی اور دینی شناخت کے حوالے سے جانا جاتا رہا ہے۔ دوسری جانب، تنظیم کو بند کرنے کے اقدامات کو ملک کے سب سے بڑے سماجی طبقے کے حوالے سے حکومتی تنگ نظری کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ پالیسیاں معاشرے کو قابو میں رکھنے اور محدود کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں، جو باہمی اعتماد کو کمزور کرتی ہیں اور بحرین کے وسیع ترین عوامی طبقے کو سیاسی و سماجی طور پر حاشیے پر دھکیلنے کے رجحان کو مزید تقویت دیتی ہیں۔