بلوچستان میں تیل اسمگلنگ سے دہشتگرد روزانہ 4 ارب روپے کمارہے ہیں: خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
اسمگلنگ کی روک تھام کےلیے حکومت سخت اقدامات کر رہی ہے، خواجہ آصف - فوٹو: فائل
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بلوچستان میں تیل اسمگلنگ سے دہشتگرد روزانہ 4 ارب روپے کمارہے ہیں۔
قومی اسمبلی اجلاس کے دوران خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں تیل سمیت مختلف اشیا کی اسمگلنگ ہوتی ہے۔ اسمگلنگ کی روک تھام کےلیے حکومت سخت اقدامات کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے وزیرداخلہ، وزیراعلیٰ اور کور کمانڈر بلوچستان کی سی ایم ایچ کوئٹہ آمد۔ آپ نے شیروں کی طرح حملوں کا مقابلہ کیا، محسن نقوی بلوچستان کے اپنوں کی یہ خاموشی!انہوں نے یہ بھی کہا کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے، سیکیورٹی فورسز کی دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں 177 دہشتگرد مارے گئے ہیں۔ دہشتگردوں کے خلاف کارروائیوں میں سیکیورٹی فورسز کے 17 جوان شہید ہوئے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ دہشتگردوں کے حملوں میں 33 شہری بھی شہید ہوئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: بلوچستان میں خواجہ ا صف
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔