بلوچستان میں امن کیلیے فوجی تعیناتی ضروری ہے، وفاقی وزیر دفاع
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد:وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بلوچستان کا جغرافیہ اور سرحدی پھیلاؤ اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ وہاں بڑے پیمانے پر فوجی اہلکاروں کی تعیناتی کی جائے تاکہ امن و امان کو یقینی بنایا جا سکے اور غیر قانونی سرگرمیوں کی مؤثر روک تھام ممکن ہو۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر دفاع نے کہا کہ حکومت نے اسمگلنگ کے خلاف سخت اقدامات کیے ہیں، جن کے نتیجے میں چمن بارڈر پر بڑے پیمانے پر احتجاج بھی دیکھنے میں آیا۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ بعض حلقوں کی جانب سے یہ مطالبہ سامنے آتا ہے کہ نام نہاد نیشنلسٹ تحریکوں کے ساتھ مذاکرات کیے جائیں، حقیقت یہ ہے کہ ان عناصر کی نہ کوئی واضح سیاسی شناخت ہے اور نہ ہی انہیں حقیقی معنوں میں قوم پرست کہا جا سکتا ہے، بنیادی طور پر یہ تحریکیں کاروباری نقصانات کے ازالے کے لیے چلائی جا رہی ہیں کیونکہ حکومت کی جانب سے اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں سے ان کے مفادات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
وزیرِ دفاع نے ایوان کو بتایا کہ ماضی میں یہ عناصر یومیہ تیل کی اسمگلنگ کے ذریعے تقریباً چار ارب روپے کماتے رہے ہیں اور جب حکومت نے اس غیر قانونی کاروبار کے خلاف سختی کی تو اس کے ردعمل میں احتجاج اور شور شرابا سامنے آیا۔ ریاست کسی صورت ایسے غیر قانونی دھندوں کو برداشت نہیں کرے گی۔
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ بلوچستان میں بی ایل اے کے نام پر سرگرم جرائم پیشہ لوگ درحقیقت انہی اسمگلرز کو تحفظ فراہم کر رہے ہیں، صوبے میں بعض قبائلی عمائدین، بیوروکریسی کے چند عناصر اور علیحدگی پسند تحریک چلانے والوں کے درمیان گٹھ جوڑ بن چکا ہے، جو امن و استحکام کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، حکومت اور سیکیورٹی ادارے اس گٹھ جوڑ کو توڑنے کے لیے سنجیدہ اور مسلسل اقدامات کر رہے ہیں۔
وزیرِ دفاع نے بلوچستان میں حالیہ سیکیورٹی صورتحال پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ دو روز کے دوران مختلف کارروائیوں میں 177 دہشت گرد مارے گئے ہیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 16 سیکیورٹی فورسز کے اہلکار اور 33 عام شہری شہید ہوئے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ دشمن بے گناہ عوام اور ریاستی اداروں دونوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔
خواجہ آصف نے زور دے کر کہا کہ بلوچستان کے جغرافیے، طویل سرحدوں اور دشوار گزار علاقوں کے باعث سیکیورٹی چیلنجز کہیں زیادہ ہیں، اسی لیے وہاں فوجی اور سیکیورٹی اہلکاروں کی بڑی تعداد میں تعیناتی ناگزیر ہے، حکومت بلوچستان میں امن، ترقی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھاتی رہے گی اور دہشت گردی و اسمگلنگ کے خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بلوچستان میں اسمگلنگ کے خواجہ آصف کے خلاف
پڑھیں:
سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
فائل فوٹوسپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔
پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں، وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔
کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔