پاکستان کی اقتصادی ترقی اور اصلاحات میں عالمی بینک گروپ کی اہم معاونت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں: وزیراعظم WhatsAppFacebookTwitter 0 2 February, 2026 سب نیوز

وزیراعظم محمد شہباز شریف سے عالمی بینک گروپ (ڈبلیو بی جی) کے صدر اجے بنگا نے آج اسلام آباد میں ملاقات کی۔

وزیراعظم نے عالمی بینک گروپ کے صدر کی حیثیت سے اجے بنگا کے پہلے سرکاری دورہ پاکستان پر ان کا خیرمقدم کیا۔
وزیراعظم نے پاکستان کے ساتھ عالمی بینک گروپ کی طویل المدتی شراکت داری اور ملک کی ترقیاتی ترجیحات کے فروغ کے لیے اس کے عزم کو سراہا۔ وزیراعظم نے
بالخصوص 10 سالہ عالمی بینک گروپ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک (CPF) کے تحت تعاون کو قابل تحسین قرار دیا۔
وزیراعظم نے عالمی بینک گروپ کو مزید موثر ترقیاتی شراکت دار بنانے میں اجے بنگا کی قیادت کو بھی سراہا۔

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت پاکستان پائیدار اقتصادی استحکام کے حصول کے لیے ایک جامع، کثیر الجہتی اور ملکی ضروریات کے مطابق تشکیل دیے گئے اصلاحاتی پروگرام پر پوری تندہی سے عمل پیرا ہے۔
وزیراعظم نے مضبوط انفراسٹرکچر، زرعی کاروبار، ڈیجیٹل ترقی، توانائی، انسانی وسائل، مالیاتی اصلاحات، روزگار کے مواقع اور نجی سرمایہ کاری میں اضافے کے لیے عالمی بینک گروپ کی معاونت کو سراہا۔
وزیراعظم اور اجے بنگا نے اس بات پر زور دیا کہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک سے ہم آہنگ ترجیحات پر تیز رفتار عملدرآمد اور موثر نگرانی کو یقینی بنایا جائے تاکہ بروقت اور بڑے پیمانے پر نتائج حاصل کیے جا سکیں۔ یہ اقدامات ترقیاتی منصوبوں میں عملدرآمد کی رکاوٹوں کے خاتمے کے لیے وزیراعظم کے وژن کی تکمیل میں معاون ثابت ہوں گے۔
وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت ایسی جامع انتظامی اصلاحات پر کاربند ہے جو روزگار پر مبنی اقتصادی ترقی کو فروغ دیں اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید مضبوط بنائیں۔

عالمی بینک گروپ کے صدر اجے بنگا نے پاکستان میں پرتپاک استقبال اور مہمان نوازی پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے حکومت پاکستان کی جاری اصلاحاتی کوششوں کو سراہا اور “ون ورلڈ بینک گروپ” کے تحت تعاون کو مزید گہرا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے کے اہداف کے حصول کے لیے ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ قریبی ہم آہنگی کے ساتھ ساتھ نجی وسائل کے موثر استعمال میں اضافہ ناگزیر ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی سرکاری دورے پر کمبوڈیا پہنچ گئے چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی سرکاری دورے پر کمبوڈیا پہنچ گئے فارن فنڈنگ کیس میں عمران خان کے لیے نئی مشکل تیار سعد رضوی اور انس رضوی کی بازیابی سے متعلق کیس میں اہم پیشرفت وفاقی سرکاری تعلیمی اداروں میں سائیکلنگ کے فروغ کیلیے بڑا اقدام خیبرپختونخوا حکومت انسداد دہشت گردی کیلئے صوبائی ادارے مضبوط کرے: وزیراعظم پاکستان میں سونا سستا، آج بھی ہزاروں روپے کی بڑی کمی ہوگئی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: عالمی بینک گروپ کی

پڑھیں:

پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی

پاکستان کے سابق سفیر عمران علی کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب نے خواہش ظاہر کی کہ پاکستان اپنی بحریہ کے ذریعے حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے تو پاکستان بھی اس پر پورا اترتے ہوئے ویسا ہی کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘

وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی ریڈلائن ہے اور دونوں ممالک کے مابین دفاعی معاہدے کا یہ مطلب نہیں کہ صرف ان کی سرزمین پر حملے کی صورت میں دفاعی تعاون ہوگا بلکہ پاکستان اس سلسلے میں سعودی عرب کی خواہشات پر پورا اترے گا۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی مستقل ’ریڈ لائن‘ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون محض معاہدوں تک محدود نہیں بلکہ تاریخی اور برادرانہ تعلقات پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب کو پاکستان سے کسی بھی نوعیت کے تعاون کی ضرورت پیش آئی تو اسلام آباد اس کی توقعات پر پورا اترے گا۔

ایمبیسیڈر عمران علی نے وزیراعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان حالیہ رابطے کو اہم سفارتی پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان اس معاملے میں سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔

مزید پڑھیے: وی ایکسکلوسیو: پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کو متحد کرسکتا ہے، وفاقی وزیر سردار یوسف

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے اشتعال انگیزی کے باوجود انتہائی متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے اور پاکستان بھی یہی چاہتا ہے کہ مسلم دنیا مزید تقسیم نہ ہو۔ ان کے مطابق اگرچہ ایران کو اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنی چاہیے تاہم امریکا کی بعض کارروائیاں بھی کشیدگی میں اضافے کا باعث بنی ہیں۔

ایران کے پاس 2 ہفتوں کی مہلت

ان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس کشیدگی کم کرنے کے لیے صرف 2 ہفتوں کی مہلت ہے اور اگر تہران آبنائے ہرمز سے متعلق سخت مؤقف ترک کرکے دوبارہ مذاکراتی عمل کی طرف آ جائے اور پاکستان کی ثالثی کو موقع دے تو خطے میں جاری بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

عمران علی نے کہا کہ پاکستان پہلے بھی ایران اور امریکا کے درمیان ایک قابل قبول مفاہمتی دستاویز تیار کرا چکا ہے اس لیے اب بھی اسلام آباد مؤثر ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو جذباتی فیصلوں کے بجائے وسیع تر علاقائی اور عالمی تناظر میں حکمت عملی اپنانا ہوگی۔

ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق ایران کی موجودہ پالیسی کا مقصد عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر دباؤ ڈال کر دنیا کو غزہ کے مسئلے پر متوجہ کرنا ہے تاہم یہ حکمت عملی اب الٹا اثر دکھا رہی ہے۔ ان کے بقول ریڈ سی اور باب المندب میں کشیدگی سے عالمی تجارت اور مسلم ممالک کو زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ اسرائیل اور امریکہ پر مطلوبہ دباؤ نہیں پڑ رہا۔

عالمی جنگ کے امکانات نہیں

عالمی جنگ کے خدشات پر انہوں نے کہا کہ تیسری عالمی جنگ کے امکانات کم ہیں کیونکہ روس اور چین براہ راست اس تنازع میں شامل ہونے سے گریز کریں گے تاہم خلیجی خطے میں محدود علاقائی جنگ کا خطرہ موجود ہے خاص طور پر اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو یورپ سمیت دنیا کی توانائی منڈی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: پاک سعودی دفاعی معاہدہ، آج یوم تشکر منایا گیا

ایران کے اندر ممکنہ رجیم چینج سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اس کا امکان کم ہے کیونکہ ریاستی کنٹرول مضبوط ہے، البتہ ایران کو جنگی کامیابی کے بیانیے کے بجائے امن اور سفارت کاری کو ترجیح دینی چاہیے۔

پاکستان امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرے

پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ ثالثی کی کوششوں سے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص ابھرا ہے تاہم اس سفارتی کامیابی کو معاشی فوائد میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو اپنی سب سے بڑی معاشی ضرورت یعنی مالی خسارے کے لیے امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اب تک کتنے معاشی معاہدے اور اُن پر کیا پیشرفت ہوئی؟

ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق پاکستان کو اسلحے سے زیادہ معاشی استحکام کی ضرورت ہے اور حالیہ سفارتی کردار کو اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاک سعودی دفاعی معاہدہ حوثی باغی سابق سفیر عمران علی سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن سعودی عرب کی خواہش

متعلقہ مضامین

  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • کلچر کب تہذیب بنتا ہے
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو