کراچی؛ بھتہ مافیا گروپ کے 3کارندے مبینہ مقابلے کے بعد زخمی حالت میں گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
کراچی:
رینجرز اور ایس آئی یو کی پولیس پارٹی نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے مبینہ مقابلے کے بعد 3 ملزمان کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا، گرفتار ملزمان کا تعلق جمیل چھانگا گروپ سے ہے۔
تفصیلات کے مطابق سندھ رینجرز اور اسپیشل انویسٹی گیشن کی پولیس پارٹی نے اتوار کو دیر رات گارڈن کے علاقے کشتی مسجد کے قریب سے مبینہ مقابلے کے بعد 3 ڈاکوؤں کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا، زخمی حالت میں گرفتار ملزمان کو چھیپا ایمبولینس کے ذریعے سول اسپتال منتقل کیا گیا۔
ترجمان سندھ رینجرز کے مطابق زخمی حالت میں گرفتار ملزمان کی شناخت 25 سالہ سید باسط حسین عرف شاہ رخ ولد سجاد حسین، 22 سالہ محمد طحہٰ عرف مایا ولد غلام رسول اور 27 سالہ عبدالصمد ولد سکندر علی کے ناموں سے کی گئی۔
گرفتار ملزمان کا تعلق بھتہ مافیا اور منشیات فروش جمیل چھانگا، وصی اللہ لاکھو اور عبدالصمد کاٹھیا واڑی گروپ سے ہے۔
مزید پڑھیںکراچی میں دو پولیس مقابلے، 3 زخمیوں سمیت 4 ڈاکو گرفتار
کراچی میں ایک اور شہری ڈاکوؤں کے ہاتھوں قتل
کراچی، اورنگی ٹاؤن میں مسلح ڈاکوؤں کے خلاف پولیس مقابلہ، 2 گرفتار، ایک فرار
زخمی حالت میں گرفتار ملزمان نجی بلڈرز، میڈیکل اسٹورز، ریسٹورینٹس، کاسمیٹکس شاپس، تاجروں اور دیگر کاروبای و سرمایہ داروں کی ریکی کرکے ان کی معلومات بھتہ مافیا کے سرغنہ کو فراہم کرتے تھے۔ بعدازاں بھتہ مافیا کے سرغنہ دھمکاں دیکر ان سے بھتہ وصول کرتے ہیں۔
گرفتار ملزمان اور ان کے دیگر ساتھی نیو کراچی میں گتا فیکٹری، کاسمیٹکس شاپ اور ناظم آباد کے ریسٹورینٹ سے بھتہ نہ ملنے کی صورت میں فائرنگ کرنے میں بھی ملوث ہیں۔
ملزمان کو سی سی ٹی فوٹیج میں بھی واضح دیکھا گیا ہے۔ گرفتار ملزم سید باسط حسین عادی مجرم ہے اور اس سے قبل بھی گرفتار ہوکر جیل جا چکا ہے، گرفتار ملزمان کے دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: زخمی حالت میں گرفتار گرفتار ملزمان
پڑھیں:
راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔
والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔
پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔