جنگ کی دھمکیوں اور فوجی مشقوں کی گھن گرج کے دوران بالآخر امریکا اور ایران نے مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایک سینئر امریکی اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ مذاکرات رواں ہفتے ہی شروع کے لیے جائیں گے۔

امریکا اور ایران مذاکرات کے لیے ترکیہ، مصر اور قطر ایک اعلیٰ سطح کی ملاقات کے انتظامات بھی کر رہے ہیں۔

جہاں ابتدائی طور پر امریکی صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار ملاقات کریں گے۔

فی الحال اس ملاقات کا ایجنڈا سامنے نہیں آیا اور نہ ہی امریکا یا ایران کی جانب سے اس متوقع مذاکرات کی تصدیق یا تردید سامنے آئی ہے۔

قبل ازیں ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا تھا کہ ہم امریکا کے ساتھ اعتماد کی کمی کے باوجود ایٹمی پروگرام پر مذاکرات کے لیے تیار ہے بشرطِیکہ مذاکرات منصفانہ اور مناسب ہوں۔

تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ ایران اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام یا اپنے حمایت یافتہ گروپوں (جیسے حزب اللہ یا حوثی وغیرہ) سے دستبرداری پر مذاکرات نہیں کرنا چاہتا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے زور دیکر کہا کہ ان مذاکرات میں ایران کا فوکس صرف اور صرف ایٹمی پروگرام پر ہونا چاہیئے۔

ثالثوں کی مدد سے ہونے والے امریکا ایران مذاکرات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب علاقائی تناؤ شدت اختیار کر گیا ہے۔

امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں جنگی بحری بیڑہ بھیجا ہے جس میں جہاز، میزائل اور فوجی ساز و سامان بھی موجود ہے۔

آبنائے ہرمز میں امریکی فضائیہ نے جنگ مشقوں کا اعلان بھی کر رکھا ہے اور صدر ٹرمپ کے بقول ایران کی جانب وینزویلا سے بھی بڑا بحری بیڑہ بھیجا ہے۔

قبل ازیں صدر ٹرمپ یہ دعویٰ بھی کر چکے ہیں کہ انھوں نے ایران کو جوہری مذاکرات کرنے کے لیے خفیہ طور پر ایک ڈیڈ لائن بھی دی ہے۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر ایران نے اس ڈیڈ لائن سے قبل مذاکرات نہ کیے تو اُس پر سب سے بڑا فوجی حملہ کیا جائے گا۔

جس پر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے خبردار کیا تھا کہ اگر امریکا نے حملہ کیا تو ایک وسیع علاقائی جنگ شروع ہوسکتی ہے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی

ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔

پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔

پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔

مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔

خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔

برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل