پشاور: (نیوزڈیسک) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے تیراہ متاثرین کو امدادی رقوم کی جلد ادائیگی یقینی بنانے کے لیے ایک ہفتے میں ویریفکیشن کا عمل مکمل کرنے کی ہدایت کر دی۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت اجلاس میں تیراہ ، کرم اور باجوڑ کے متاثرین کو معاوضوں کی ادائیگی سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا۔

محمد سہیل آفریدی نے متاثرین کو ادائیگیوں کا ڈیجیٹل ریکارڈ مرتب کرنے کی بھی ہدایت کی اور کہا کہ متاثرین کی معاونت کے لیے جاری فنڈز کی ایک ایک پائی کا حساب رکھا جائے۔

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی، صوبائی حکومت متاثرین کی معاونت کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے گی۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ وفاق کے ذمے بقایا متاثرین کے پیسوں کی ادائیگی کے لیے خطوط لکھے جائیں، وزیر اعلیٰ کی قدرتی آفات و آپریشنز سے متاثرہ لوگوں کی بحالی و معاونت کے لیے خصوصی فنڈ قائم کرنے کی بھی ہدایت کی۔

اجلاس میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو بریفنگ دی گئی کہ متاثرین کی معاونت کے لیے مختص 4 ارب روپے میں سے اب تک 90 کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔

سہیل آفریدی کو بتایا گیا کہ وادی تیراہ کے متاثرہ 17 ہزار گھرانوں کی رجسٹریشن مکمل کر لی گئی ہے، روزانہ کی بنیاد پر تیراہ کے ایک ہزار گھرانوں کو پیسوں کی ادائیگی یقینی بنائی جائے گی۔

وزیراعلیٰ کو بریفنگ دی گئی کہ متاثرین کو ادائیگیوں کے لیے ڈیجیٹل ڈیش بورڈ قائم کیا جا رہا ہے، بکاخیل کیمپ میں مقیم متاثرین کو ماہانہ کی بنیاد پر رقوم کی ادائیگی کی جا رہی ہے۔

کابینہ اراکین عاقب اللہ ، مزمل اسلم، متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز، متعلقہ کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز اجلاس میں شریک ہوئے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا