تیراہ متاثرین کا تصدیقی عمل ایک ہفتے میں مکملکیا جائے، وزیراعلیٰ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
پشاور: (نیوزڈیسک) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے تیراہ متاثرین کو امدادی رقوم کی جلد ادائیگی یقینی بنانے کے لیے ایک ہفتے میں ویریفکیشن کا عمل مکمل کرنے کی ہدایت کر دی۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت اجلاس میں تیراہ ، کرم اور باجوڑ کے متاثرین کو معاوضوں کی ادائیگی سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا۔
محمد سہیل آفریدی نے متاثرین کو ادائیگیوں کا ڈیجیٹل ریکارڈ مرتب کرنے کی بھی ہدایت کی اور کہا کہ متاثرین کی معاونت کے لیے جاری فنڈز کی ایک ایک پائی کا حساب رکھا جائے۔
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی، صوبائی حکومت متاثرین کی معاونت کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے گی۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ وفاق کے ذمے بقایا متاثرین کے پیسوں کی ادائیگی کے لیے خطوط لکھے جائیں، وزیر اعلیٰ کی قدرتی آفات و آپریشنز سے متاثرہ لوگوں کی بحالی و معاونت کے لیے خصوصی فنڈ قائم کرنے کی بھی ہدایت کی۔
اجلاس میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو بریفنگ دی گئی کہ متاثرین کی معاونت کے لیے مختص 4 ارب روپے میں سے اب تک 90 کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔
سہیل آفریدی کو بتایا گیا کہ وادی تیراہ کے متاثرہ 17 ہزار گھرانوں کی رجسٹریشن مکمل کر لی گئی ہے، روزانہ کی بنیاد پر تیراہ کے ایک ہزار گھرانوں کو پیسوں کی ادائیگی یقینی بنائی جائے گی۔
وزیراعلیٰ کو بریفنگ دی گئی کہ متاثرین کو ادائیگیوں کے لیے ڈیجیٹل ڈیش بورڈ قائم کیا جا رہا ہے، بکاخیل کیمپ میں مقیم متاثرین کو ماہانہ کی بنیاد پر رقوم کی ادائیگی کی جا رہی ہے۔
کابینہ اراکین عاقب اللہ ، مزمل اسلم، متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز، متعلقہ کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز اجلاس میں شریک ہوئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔(جاری ہے)
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔