وزیراعظم سے ملاقات: دہشتگردی کیخلاف تعاون پر بات، بانی کے متعلق گفتگو نہیں ہوئی، سہیل آفریدی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہبازشریف نے مجھے ملاقات کی دعوت دی، ملاقات میں دہشت گردی کے خلاف تعاون پر بات ہوئی، بانی کے متعلق یا کوئی سیاسی بات نہیں ہوئی۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ سب سے پہلے بلوچستان میں دہشتگردی کے واقعات پر مذمت کی، وزیراعظم سے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے تعاون پر گفتگو کی، صوبے کیلئےاین ایف سی،این ایچ پی اوروفاق پر بقایا جات پر بات ہوئی، انہوں نے احسن اقبال کو ذمہ داری سونپ دی ہے۔
سونے کی قیمت میں مزید گراوٹ،21ہزار 500روپے فی تولہ سستا ہو گیا
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم سےدہشتگردی پر مشترکہ لائحہ عمل پر بات ہوئی، خیبرپختونخوا حکومت اپنی جیب سے 26ارب روپے قبائلی اضلاع پر خرچ کرچکی ہے، دہشتگردوں کا کوئی صوبہ ،ملک اورنہ کوئی مذہب ہوتا ہے، دہشتگردی کی ہم سب کو بحیثیت پاکستانی مذمت کرنی چاہئے، ہمیشہ دہشتگردی کی مذمت کرتے رہیں گے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی، وزیراعظم سے کسی سیاسی چیز پر بات نہیں ہوئی، وادی تیراہ اورکرم کے لوگ قربانی دے رہے ہیں اس کے سامنے یہ 4ارب روپے کچھ بھی نہیں، وادی تیراہ اورکرم کے لوگ پاکستان کیلئے قربانی دے رہے ہیں، ایسے بیانات نہیں دینے چاہئیں جن سے ان کی دل آزاری ہو۔
کوئٹہ میں موبائل انٹرنیٹ سروس تیسرے روز بھی معطل، صارفین کو مشکلات
سہیل آفریدی نے یہ بھی کہا کہ وزیراعظم سےآج کی ملاقات بطور وزیراعلیٰ میرے عہدے کا تقاضا تھا، بطور سیاسی ورکرشاید میں نہ بیٹھتا، خیبرپختونخوا اور عوام کے حقوق کیلئے وزیراعظم سے ملاقات ضروری تھی، دہشت گردی کے حوالے سے ایک اور خصوصی ملاقات ہو گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: سہیل ا فریدی نہیں ہوئی پر بات
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔