پاکستان سے میچ نہ ہونے پر بھارت کو 14000 کروڑ کا بہت بڑا نقصان ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
گزشتہ روز پاکستان کی جانب سے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کے اعلان کے بعد سے بھارت اور دنیائے کرکٹ میں ہلچل مچ گئی ہے، جس کی بڑی وجہ پاکستان بھارت مقابلے سے ہونے والی آمدنی ہے۔
ماڈرن کرکٹ میں کچھ میچز پورے ٹورنامنٹ سے بڑے ہوتے ہیں اور ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاک بھارت میچ صرف ایک میچ نہیں بلکہ ایک انتہائی اہم میچ ہوتا ہے۔
پاکستان کی جانب سے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھارت سے نہ کھیلنے کے فیصلے پر بھارت میں مچنے والے شور کی وجہ اس کا 50 کروڑ ڈالر (140 ارب پاکستانی روپے) کی مالیت کا ہونا ہے جس میں براڈکاسٹ حقوق، ایڈورٹائزنگ پریمیئم، اسپانسرشپ ایکٹیویشن، ٹکٹنگ اور قانونی سٹے بازی سمیت دیگر کمرشل سرگرمیاں شامل ہیں۔
اس میچ کی وجہ سے پورے ٹورنامنٹ میں جان پڑتی ہے، براڈکاسٹر مہنگے داموں حقوق خریدتے ہیں اور آئی سی سی ان بورڈز کی مالی اعانت کرتا ہے جو اس قسم کا ریوینیو نہیں کما سکتے۔
براڈکاسٹرز کے لیے یہ میچ سونے کا انڈہ دینے والی مرغی ہوتا ہے۔ اس میچ میں 10 سیکنڈ کے اشتہار کے نرخ 25 لاکھ سے 40 لاکھ بھارتی روپے (76 لاکھ سے 1 کروڑ 22 لاکھ پاکستانی روپے) ہوتا، جس کے مقابلے بھارت کے دیگر بڑی ٹیموں کے خلاف میچز انہتائی کم قیمت معلوم ہوتے ہیں۔ اس میچ کا نہ ہونا ٹورنامنٹ کے پورے مالی سانچے کا نقشہ بدلنے کے مترادف ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق میچ نہ ہونے کا نقصان سب سے پہلے میچ کے حقوق رکھنے والوں کو برداشت کرنا ہوگا۔ صرف اشتہارات کی مد میں پاک بھارت میچ کے دوران ایک اندازے کے مطابق 3 ارب بھارتی روپے (9.
نقصان کی صورت میں براڈکاسٹر اپنا نقصان آئی سی سی سے پورا کرتا ہے جس کے بعد صرف پاکستان اور بھارت کے ریوینیو میں ہی کٹوتی نہیں ہوگی بلکہ دیگر فُل اور ایسوسی ایٹ بورڈز کی ادائیگیوں میں آئی سی سی کو شدید مشکلات کا سامنا ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: میچ نہ
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :