پنجاب میں صنعتی زمین سستی دینےکادور ختم، نئی لیز پالیسی تیار
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
علی رامے: پنجاب میں صنعتی زمین سستے داموں دینے کا دور ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے، جس کے تحت نئی لیز پالیسی تیار کر لی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس پالیسی کا مقصد زمین کی اصل ویلیو کے مطابق قیمتوں کا تعین، سنجیدہ سرمایہ کاری کا فروغ اور برآمدات میں اضافہ ہے۔
نئی پالیسی کے تحت صنعتی اسٹیٹس میں فی ایکڑ لیز ریٹ 43 ہزار روپے سے بڑھا کر 1 لاکھ 25 ہزار روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ لیز ریٹ میں ہر سال 5 فیصد اضافہ ہوگا اور پرانا رعایتی طریقہ کار ختم کر دیا جائے گا۔ اس کے ساتھ سرمایہ کاروں کے لیے دو سال میں فی ایکڑ 15 لاکھ ڈالر سرمایہ کاری کی شرط لازمی قرار دی گئی ہے۔
بھاٹی گیٹ مین ہول حادثہ: ماں بیٹی کی موت کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آ گئی
پالیسی کے مطابق زمین الاٹ ہونے کے 6 ماہ کے اندر تعمیر کا آغاز اور 24 ماہ میں فیکٹری کا فعال ہونا لازم ہوگا۔ برآمدات پر مبنی صنعتوں کے لیے خصوصی مراعات بھی تجویز کی گئی ہیں، جن کے تحت 80 فیصد برآمد کرنے والوں کو خصوصی لیز ریٹ دیا جائے گا، جبکہ 50 فیصد برآمدات پر 40 فیصد رعایت ملے گی، تاہم لیز ریٹ ایک لاکھ روپے فی ایکڑ سے کم نہیں ہوگا۔
ذرائع کے مطابق غیر ملکی سرمایہ کاری اور گرین انڈسٹری کے لیے اضافی رعایتیں دی جائیں گی، جبکہ کم ترقی یافتہ اضلاع میں صنعت لگانے پر 20 فیصد کمی کی تجویز بھی شامل ہے۔ زمین کی الاٹمنٹ “پہلے آئیں، پہلے پائیں” کی بنیاد پر کی جائے گی، جبکہ 20 فیصد پلاٹس سرکاری سطح کی غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے مختص کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔
عالمی و مقامی مارکیٹ میں سونے کی تاریخ کی سب سے بڑی کمی ریکارڈ
حکام کے مطابق نئی پالیسی سے 71 ارب روپے کی فوری اور 251 ارب روپے کی مستقبل میں آمدن متوقع ہے۔ پالیسی کی منظوری کے بعد اسے خصوصی اقتصادی زون (SEZ) قانون کے تحت نافذ کیا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس نئی صنعتی لیز پالیسی سے غیر فعال پلاٹس کا خاتمہ، برآمدات میں اضافہ اور صوبے میں پائیدار صنعتی ترقی ممکن ہو سکے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔