بلوچوں کو یقین دہانی کرائی جائے صوبے کے وسائل پر آپ ہی کا حق ہے، اچکزئی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ بلوچوں کو یقین دہانی کرائی جائے کہ صوبے کے وسائل پر آپ ہی کا حق ہے، پاکستان ایک بہترین گلدستہ بن جائے گا۔
بلوچستان کی تازہ صورت حال پر قومی اسمبلی میں اظہار خیال میں محمود خان اچکزئی نے شکوہ کیا کہ جناب اسپیکر میں آپ کے پاس نہیں آسکا آپ بھی نہیں آئے، ہمارے درمیان یہ فاصلے کم ہونے چاہئیں۔
انھوں نے کہا کہ بلوچستان ہمارے پورے ملک کے لیے ایک بلائنڈ اسپاٹ بن چکا ہے جس کی تاریخ کافی پرانی ہے۔
اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ گندمک معاہدے کے تحت خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے کچھ علاقے افغانستان سے کاٹے گئے تھے، 1970 میں بلوچستان میں بلوچوں اور پشتونوں کو اکٹھا کیا گیا۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ بلوچستان میں آپ کسی سردار کی مرضی کے خلاف اس کے علاقے میں جلسہ تک نہیں کرسکتے آپ نے ان راجواڑوں کو ہمارے ساتھ شامل کیا۔
اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ گیس بلوچستان کے علاقے سوئی سے نکلتی ہے اور پورے پاکستان تک پہنچ گئی لیکن وہاں کی عورتیں اب بھی لکڑی جلا کر روٹیاں پکاتی ہیں، ان حالات میں کون آپ کو چھوڑے گا؟ میں دہشت گردی کی سپورٹ نہیں کرتا لیکن ان حالات میں بلوچ کیا کرے گا۔
محمود خان اچکزئی نے اسپیکر اسمبلی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ اس ایوان کو مضبوط کریں تو کوئی پاگل نہیں جو جنگ کرنے اور لڑنے مرنے پر آمادہ ہو۔
محمود خان اچکزئی نے مزید کہا کہ صرف پاکستان زندہ باد کے نعروں سے پاکستان نہیں بنے گا۔ پشتون بلوچستان کا پچاس فیصد ہیں، بلوچوں کو یقین دہانی کرائی جائے کہ صوبے کے وسائل پر آپ ہی کا حق ہے۔ پاکستان ایک بہترین گلدستہ بن جائے گا، ان باتوں پر ہمارے جھگڑے ہوچکے ہیں خان آف قلات کو ان باتوں کا اندازہ تھا۔
اپوزیشن لیڈر نے مزید کہا کہ کل جو مسلح افراد آئے تھے وہ مرنے کے لیے آئے تھے انھیں اپنی موت کا پورا یقین تھا پھر بھی آئے تھے۔
محمود خان اچکزئی نے سوال اُٹھایا کہ کیسے مسلح لوگ 15 ضلعوں میں آزادانہ دندناتے رہے دو گھنٹوں تک کچھ بھی نہیں ہوا۔ انٹیلی جنس ایجنسیوں کو کیوں پتہ نہیں چلا کہ کیا ہوا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگر کوئی شریف آدمی ہوتا تو حکومت چھوڑ دیتا اگر قصدا یہ سب کچھ ہوا تو بہت بڑی زیادتی ہوئی۔
اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ بلوچستان میں اتنا بڑا سانحہ ہوا، قیمتی جانیں گئیں لیکن کسی ٹی وی نے کل گانے بند نہیں کیے۔
انھوں نے کہا کہ آج دہشت گردی سے ہم تنگ ہیں کیا اس دہشت گردی کو ہم امریکا کے ساتھ مل کر نہیں لائے؟ کیا ہم نے طالبان کو تربیت نہیں دی؟
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ کیا جنرل ضیا الحق نے افغانستان میں لڑنے والوں کو حریت پسند نہیں کہا تھا۔ کیا کلاشنکوف کلچر افغان جہاد کے بعد نہیں آیا۔
اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا کہ کیا ہماری ریاست نے عسکریت پسندوں کو چھاؤنیوں میں گھسنے مرنے مارنے کی تربیت نہیں دی۔
محمود خان اچکزئی نے اپنی تقریر میں یہ مطالبہ بھی کیا کہ حکومت دو ماہر ڈاکٹروں کو جیل بھیجیں تاکہ عمران خان کا معائنہ کرسکیں۔
انھوں نے مزید کہا میں وزیر اعظم شہباز شریف کو خط لکھوں گا کہ بانی چیئرمین پی ٹی آئی کے ذاتی ڈاکٹرزکو معائنہ کرنے دیا جائے۔ اگر ایک قیدی کو اس کے فیملی ڈاکٹرز چیک کرلیں گے تو کون سی قیامت جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: محمود خان اچکزئی نے کہا اپوزیشن لیڈر نے نے مزید کہا نے کہا کہ انھوں نے
پڑھیں:
باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔
باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔
کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔
حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔
باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔
دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔
شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔
باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔
اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔
یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔
اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔