data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد:اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے قومی اسمبلی میں بلوچستان کی تازہ صورت حال پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے کے وسائل پر بلوچوں کا حق یقینی بنایا جائے تاکہ پاکستان ایک مضبوط اور متوازن گلدستہ بن سکے، صرف  پاکستان زندہ باد  کے نعروں سے ملک نہیں بنتا بلکہ حقیقی انصاف اور حقوق کی تقسیم ضروری ہے۔

قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ بلوچستان ہمارے پورے ملک کے لیے ایک بلائنڈ اسپاٹ بن چکا ہے اور گزشتہ دہائیوں میں اس صوبے کی محرومیوں نے لوگوں میں مایوسی پیدا کی ہے۔ انہوں نے گندمک معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ 1970 میں بلوچستان میں بلوچ اور پشتون ایک ساتھ شامل کیے گئے لیکن آج بھی علاقے کے لوگ بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔

اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ گیس بلوچستان کے سوئی سے نکل کر پورے پاکستان تک پہنچ جاتی ہے، مگر وہاں کی خواتین اب بھی لکڑی جل کر کھانا پکاتی ہیں، ایسے حالات میں بلوچوں کی ناراضگی سمجھنا ضروری ہے، وہ دہشت گردی کی حمایت نہیں کرتے، لیکن ان حالات میں بلوچ کیا کریں؟

انہوں نے اسپیکر قومی اسمبلی سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ایوان کو مضبوط کریں تاکہ کوئی پاگل عوام اور ریاست کے خلاف نہ اُٹھے، کل جو مسلح افراد آئے تھے وہ مرنے کے لیے آئے تھے، اور دو گھنٹوں تک ان کے حملے کے باوجود کوئی کارروائی کیوں نہیں ہوئی، اس پر انٹیلی جنس ایجنسیوں کو جواب دینا چاہیے۔

اپوزیشن لیڈر نے اس موقع پر امریکی مداخلت، طالبان کی تربیت اور افغانستان کے سابق جہاد کی مثالیں بھی دی، اور کہا کہ عسکریت پسندی کی بنیادیں ہمارے اپنے اقدامات سے بنی ہیں۔

مزید برآں محمود خان اچکزئی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سابق وزیراعظم عمران خان کا معائنہ دو ماہر ڈاکٹروں کو کرنے دیا جائے تاکہ قیدی کی صحت کا جائزہ لیا جا سکے، اگر ایک قیدی کو اس کے ذاتی ڈاکٹرز چیک کر لیں تو اس میں کوئی قیامت نہیں آئے گی۔

محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں حقائق کو تسلیم کیا جائے اور وسائل کی تقسیم میں انصاف یقینی بنایا جائے، تاکہ صوبے کے لوگ ریاست کے ساتھ مربوط ہوں اور ملک میں ہم آہنگی قائم رہے۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: محمود خان اچکزئی اپوزیشن لیڈر کہا کہ

پڑھیں:

شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام

پاکستان پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما شازیہ مری نے گلگت بلتستان کے الیکشن میں وفاقی حکومت پر اثر و رسوخ اور سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام لگادیا۔

کراچی سے جاری بیان میں شازیہ مری نے کہا کہ گلگت بلتستان میں وفاقی وزراء کی انتخابی مہم میں موجودگی اور سرکاری مشینری کا استعمال تشویشناک ہے۔

دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی ( پی پی پی) بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا گو ہوں کہ جنگ کے خاتمے کےلیے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں۔

انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل میں مداخلت شفافیت اور منصفانہ انتخابات پر سوالیہ نشان ہے، الیکشن کےلیے لیول پلینگ فیلڈ ناگزیز ہے۔

پی پی پی رہنما نے مزید کہا کہ بلاول بھٹو کے فارم 45 اور فارم 47 سے متعلق بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹونے عوام کو یاد دلایا کہ گزشتہ انتخابات میں پیپلز پارٹی کی 9 نشستیں چھینی گئی تھیں، پی پی چیئرمین نے عوام سے کہا تھا کہ اپنے ووٹ اور فارم 45 کی حفاظت کریں۔

شازیہ مری نے یہ بھی کہا کہ درست فارم 45 کی موجودگی میں کسی کو عوامی مینڈیٹ چرانے کا موقع نہیں مل سکتا، فارم 45 انتخابی نتائج کی بنیاد ہے، اسی کے بعد فارم 47 جاری کیا جاتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا