انسداد دہشتگردی عدالت سے علیمہ خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری، گرفتاری کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی نے 26 نومبر کو تھانہ صادق آباد میں درج احتجاجی مقدمے میں علیمہ خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے انہیں گرفتار کرکے عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
نجی ٹی و ٹی وی کے مطابق مقدمے کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے کی، جہاں استغاثہ کے گواہان بھی عدالت میں موجود تھے ۔
سماعت کے دوران علیمہ خان کی جانب سے ان کے وکیل فیصل ملک عدالت میں پیش ہوئے اور ملزمہ کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی۔ وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ جب تک علیمہ خان کے بینک اکاؤنٹس اور قومی شناختی کارڈ ڈی فریز نہیں کیے جاتے، وہ عدالت میں پیش نہیں ہوں گی۔
اسپیشل پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی ملزم عدالت کو شرائط نہیں بتا سکتا اور نہ ہی عدالتی عمل کو یرغمال بنا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مقدمہ طویل عرصے سے زیر التوا ہے، عدالت روزانہ کی بنیاد پر ٹرائل کے احکامات دے چکی ہے، مگر اس کے باوجود ملزمہ کا رویہ ابتدا سے غیر ذمہ دارانہ رہا ہے۔
استغاثہ کے مطابق جب ملزمہ خود عدالت میں پیش نہیں ہو رہیں تو شناختی کارڈ یا بینک اکاؤنٹس ڈی فریز کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
عدالت نے فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد علیمہ خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد کردی۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے ایس پی راولپنڈی کو ہدایت کی کہ علیمہ خان کو گرفتار کرکے اگلے روز عدالت میں پیش کیا جائے۔
عدالت نے واضح کیا کہ جب تک ملزمہ عدالت میں پیش نہیں ہوتیں، ان کے بینک اکاؤنٹس اور شناختی کارڈ بلاک ہی رہیں گے۔ عدالت نے علیمہ خان کے ضامن کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے انہیں آئندہ سماعت پر طلب کرلیا۔ مقدمے کی سماعت اگلے روز تک ملتوی کردی گئی۔
واضح رہے کہ عدالتی ریکارڈ کے مطابق اس مقدمے میں مجموعی طور پر 10 گواہان پر جرح مکمل ہوچکی ہے جب کہ آج مزید گواہان کو جرح کے لیے طلب کیا گیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: عدالت میں پیش علیمہ خان کے عدالت نے
پڑھیں:
کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
— فائل فوٹوسندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے لواحقین کے واجبات کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔
عدالت کے آئینی بینچ نے کے ڈی اے کے مرحوم افسر کے واجبات کی لواحقین کو عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت کی۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے ڈی اے نے واجبات تسلیم کرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی۔
عدالت کے استفسار پر کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ کے ڈی اے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرچکا ہے، ادائیگی میں تاخیر مالی مشکلات کے باعث ہوئی۔
کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ سندھ حکومت سے 5 ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے۔
کراچی سندھ ہائی کورٹ نے ایکسائز افسر کے خلاف 4 من سے...
جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق مرحوم افسر کے واجبات ان کی زندگی میں ادا نہیں کیے گئے، درخواست گزار قانونی وارث ہونے کے باعث واجبات کی حق دار ہیں، پینشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کسی ادارے کی صوابدید نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ واجبات کی بر وقت ادائیگی ریاستی اداروں کی آئینی ذمے داری ہے، ادارے کی مالی مشکلات ملازمین کو تسلیم شدہ حقوق سے محروم رکھنے کا جواز نہیں بن سکتیں، سرکاری ادارے مالی اور انتظامی امور بہتر انداز میں چلانے کے پابند ہیں، کے ڈی اے درخواست گزار کو واجبات کی مد میں 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرے اور عمل درآمد رپورٹ رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو پیش کی جائے۔