لاہور میں بسنت فیسٹیول کے لیے جامع حفاظتی اقدامات
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر لاہور ڈپٹی کمشنر نے 6 تا 8 فروری 2026 کو ہونے والے بسنت پتنگ بازی فیسٹیول کے لیے جامع ضابطہ اخلاق جاری کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں:
ضلعی انتظامیہ، پولیس اور متعلقہ محکموں کو حفاظتی گائیڈ لائنز پر سختی سے عملدرآمد کا حکم دیا گیا ہے۔
ضابطہ اخلاق اور قانونی کارروائیلاہور بھر کے تمام مقامات، بشمول عمارتوں اور چھتوں، پر ضابطہ اخلاق کا اطلاق ہوگا۔ پتنگ بازی ایکٹ اور سیفٹی رولز کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ ضلعی افسران اور پولیس کو چھتوں اور دیگر مقامات کے معائنے کا اختیار بھی دیا گیا ہے۔
شہری حفاظت کے لیے 12 نکاتی اقداماتڈپٹی کمشنر لاہور کے مطابق فیسٹیول کے دوران شہریوں کے تحفظ کے لیے درج ذیل اقدامات کیے جائیں گے۔
خطرناک ڈور اور ہوائی فائرنگ کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔
دھاتی، کیمیائی اور نیلون ڈور کا استعمال سختی سے ممنوع ہوگا۔
مزید پڑھیے: لاہور میں بسنت کا جوش، پتنگوں اور ڈور کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ
لاہور میں موٹر سائیکلوں پر سیفٹی راڈز کی تنصیب لازمی ہوگی۔
ہوائی فائرنگ اور عوامی سکون میں خلل ڈالنے والے ساؤنڈ سسٹمز پر پابندی ہوگی۔
ایئرپورٹ اور حساس تنصیبات کے قریب پتنگ بازی کی ہرگز اجازت نہیں ہوگی۔
چھتوں کے مالکان حفاظتی انتظامات کے ذمہ دار ہوں گے اور کسی بھی حادثے کی ذاتی ذمہ داری قبول کریں گے۔
غیر محفوظ چھتوں پر پتنگ بازی کی سختی سے پابندی ہوگی۔
خطرناک ڈور کی خرید و فروخت پر سختی سے عمل کروایا جائے گا۔
قانون شکن عناصر کے خلاف فوری ایف آئی آر اور سخت کارروائی ہوگی۔
والدین اپنے بچوں کی حفاظت کے لیے نگرانی یقینی بنائیں۔
فیسٹیول کے دوران شہر بھر میں مانیٹرنگ کا سخت نظام قائم رہے گا۔
مزید پڑھیں: پنجاب میں بسنت کے ضوابط کی خلاف ورزی پر پولیس کی جانب سے کریک ڈاؤن کا اعلان
شہریوں سے درخواست ہے کہ وہ پرامن اور محفوظ ماحول میں بسنت منانے کے لیے تعاون کریں۔
ڈپٹی کمشنر کا پیغامڈپٹی کمشنر لاہور نے کہا ہے کہ ثقافتی تہوار کو محفوظ بنانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے تاکہ شہری خوش اسلوبی اور تحفظ کے ساتھ بسنت منا سکیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بسنت بسنت ضاطہ اخلاق ڈپٹی کمشنر لاہور.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بسنت ضاطہ اخلاق ڈپٹی کمشنر لاہور ڈپٹی کمشنر فیسٹیول کے پتنگ بازی سختی سے کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔
امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔
تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔