پنجاب میں بسنت: لاہور کے علاوہ 4 اضلاع کو بھی پتنگ سازی کی اجازت مل گئی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
لاہور میں 6 تا 8 فروری کو ہونے والی بسنت کی تقریبات کے انعقاد کے حوالے سے اہم پیشرفت سامنے آگئی۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں بسنت کا جوش، پتنگوں اور ڈور کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ
محکمہ داخلہ پنجاب کے ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق پنجاب کابینہ نے لاہور کے ساتھ مزید 4 اضلاع میں پتنگ بازی کے سامان کی تیاری کی اجازت دے دی ہے۔
ترجمان کے مطابق فیصل آباد، قصور، شیخوپورہ اور ملتان میں قابل اجازت پتنگ سازی کے مواد کی تیاری کی منظوری دی گئی ہے۔
یہ اجازت حکومت پنجاب کی جانب سے پنجاب ریگولیشن آف کائٹ فلائنگ ایکٹ 2025 کے تحت دی گئی ہے۔
ان چاروں اضلاع میں پتنگ سازی کرنے والے مینوفیکچررز کو متعلقہ ڈپٹی کمشنر کے ساتھ رجسٹریشن کروانا ہو گی جبکہ تمام مینوفیکچررز حکومت پنجاب کے ای بز پورٹل کے ذریعے آن لائن رجسٹریشن کے پابند ہوں گے۔
ترجمان نے واضح کیا کہ رجسٹرڈ مینوفیکچررز صرف کائٹ فلائنگ رولز کے مطابق پتنگ اور ڈور تیار کر سکیں گے اور یہ سامان صرف لاہور میں رجسٹرڈ ٹریڈرز یا سیلرز کو فروخت کیا جا سکے گا۔
مزید پڑھیے: پنجاب میں بسنت کے ضوابط کی خلاف ورزی پر پولیس کی جانب سے کریک ڈاؤن کا اعلان
تیار کردہ پتنگیں اور ڈور صرف لاہور میں 6، 7 اور 8 فروری 2026 کو استعمال کے لیے فروخت کی جا سکیں گی۔ ان 4 اضلاع میں تیار کیا گیا پتنگ بازی کا سامان لاہور کے علاوہ کسی اور ضلعے میں فروخت یا استعمال نہیں ہو گا۔
مزید بتایا گیا کہ فیصل آباد، قصور، شیخوپورہ اور ملتان میں صرف مینوفیکچررز کی رجسٹریشن کی اجازت ہو گی جبکہ ٹریڈر یا سیلر کے طور پر رجسٹریشن کی اجازت نہیں دی گئی۔
چاروں اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو کابینہ کی منظوری کے مطابق انتظامات کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
مزید پڑھیں: لاہور میں بسنت کی تیاریاں عروج پر، چھتوں کا کرایہ 10 لاکھ روپے تک پہنچ گیا
ترجمان نے اس بات پر زور دیا کہ بسنت کی اجازت صرف لاہور کے لیے اور صرف 6، 7 اور 8 فروری کو دی گئی ہے اور مقررہ تاریخوں سے قبل یا پنجاب کے کسی اور ضلع میں پتنگ بازی کی اجازت نہیں ہو گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پتنگ بازی پتنگ سازی لاہور لاہور اور دیگر اضلاع میں پتنگ سازی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پتنگ بازی پتنگ سازی لاہور لاہور میں پتنگ بازی اضلاع میں پتنگ سازی پنجاب کے کے مطابق لاہور کے میں پتنگ کی اجازت
پڑھیں:
مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
لاہور سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں ہونےوالی مون سون کی بارش نے جل تھل ایک کردیا۔لاہور میں مون سون کا سپیل زور شور سے جاری ہے اورعلی الصبح سے ہونے والی موسلا دھار بارش سے نشیبی علاقے زیرآب آگئے ہیں۔واسا لاہور کی جانب سے اب تک ہونے والی بارش کا ریکارڈ جاری کردیاگیاہے جس کے مطابق جیل روڈمیں 28.5، ایئرپورٹ میں 263، ہیڈ آفس گلبرگ میں 52، لکشمی چوک میں 25، اپر مال کے علاقے میں 114.4، مغلپورہ میں 129، تاجپورہ میں 155، نشتر ٹاؤن میں 56.4، چوک ناخدا میں 62، پانی والا تالاب میں 27.2، فرخ آباد میں 23.4، گلشن راوی میں 18، اقبال ٹاؤن میں 54.2، سمن آبادمیں 32، جوہر ٹاؤن میں 81، ڈیفنس روڈ میں 45، شادی پورہ میں 132.4 ، سگیاں میں 22.2اور مناواں میں 106 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی،سب سے زیادہ 263 ملی میٹر بارش ائیر پورٹ پر ریکارڈ کی گئی ہے ۔لاہور میں ہونےوالی موسلادھار بارش سےسیشن کورٹ میں سینئر قانون دان پیر مسعود چشتی سمیت2 وکلاء کے چیمبر گرگئے،پیر مسعود چشتی کا چیمبر کافی عرصے سے خالی پڑاتھا،چیمبر کی چھت بارش کے پانی کا بوجھ برداشت نہ کر سکی اورگرگئی،شدید بارش کی وجہ سے ماتحت عدالتوں میں سائلین نہ پہنچ سکے۔ دوسری طرف آئی جی پنجاب نے پولیس کو حادثات اور ناگہانی صورتحال میں امدادی سرگرمیوں میں شرکت کی ہدایت کرتے ہوئے کہاہے کہ پولیس افسران اور اہلکار بارش سے متاثرہ علاقوں میں انتہائی مستعد ہو کر ڈیوٹی انجام دیں،سپروائزری پولیس افسران بارش زدہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں خود مانیٹر کریں، بارش کے مزید امکانات کے پیش نظر پولیس افسران اور اہلکار الرٹ رہیں،کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری ریسپانڈ کریں۔ملک کے دوسرے حصوں کی طرح ضلع خیبر کے باڑہ اور جمرود کے علاؤہ وادی تیراہ کے پہاڑوں پر بھی ہونے والی بارش سے موسم خوشگوارہوگیا لیکن ندی نالوں میں طغیانی اور دریائے باڑہ میں درمیانے درجے کا سیلاب ہے ،جولائی کے مہینے میں دسمبر جیسے سردی محسوس کی جارہی ہے،پہاڑی علاقوں میں بارش سے ندی نالوں میں طغیانی آگئی ہے،ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو کی جانب سے حفاظتی انتظامات مکمل کرلئے گئے ہیں جبکہ ندی نالوں کے قریب جانے پر پابندی کی خلاف ورزی پر دوافرادکو گرفتار بھی کرلیاگیاہے۔