جس کے ہاتھ میں ڈور اور پتنگ ہے، بڑی ذمہ داری اسی کی ہے، اسپیکر پنجاب اسمبلی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان کا کہنا ہے کہ ان کا بسنت کے ساتھ ایک رومانس اور صدیوں پرانا رشتہ ہے اور یہ تہوار لاہور اور پنجاب کی تہذیبی اساس کی علامت ہے۔
بسنت کے تہوار کے موقع پر پنجاب اسمبلی کے احاطے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ بسنت کی رونق اور خوشی ان کے دل کو لبھاتی ہے۔
تاہم غیر محتاط رویوں اور خطرناک سرگرمیوں سے انہیں شدید خدشات لاحق رہتے ہیں، خصوصاً ایسی ڈوروں کے استعمال سے جو انسانی جانوں کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں بسنت کا جوش، پتنگوں اور ڈور کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ
ان کا کہنا تھا کہ اگر خدا نخواستہ کوئی شخص کسی مہلک ڈور میں پھنس کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تو یہ بسنت کی خوشیوں کو گہنا دیتا ہے۔
اسپیکر پنجاب اسمبلی نے بتایا کہ حکومت بسنت کو محفوظ اور مثبت انداز میں منانے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہے۔
اشتہاری مہمات اور سیاسی آگاہی کے ذریعے عوام کو یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ بسنت کو محض ایک تہوار کی حیثیت سے منایا جائے اور اسے ہر قسم کی ہلاکت خیزی اور منفی اثرات سے پاک رکھا جائے۔
مزید پڑھیں: بسنت 2026 کو محفوظ اور پرامن بنانے کے لیے لاہور میں سخت حفاظتی انتظامات
ملک محمد احمد خان نے زور دیا کہ بسنت پر کوئی ایسا رنگ غالب نہیں آنا چاہیے جو انسانی جانوں یا انفرا اسٹرکچر کے نقصان کا سبب بنے.
’چاہے وہ دھاتی ڈور کا استعمال ہو یا کوئی اور خطرناک عمل۔‘
انہوں نے کہا کہ سادہ سی بات ہے کہ جس کے ہاتھ میں پتنگ اور ڈور ہے، سب سے بڑی ذمہ داری اسی کی ہے۔
اگر کسی نقصان کے بعد بسنت اپنی اصل خوشیوں سے محروم ہو جائے تو یہ ہم سب کے لیے افسوسناک ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اساس اسپیکر بسنت پنجاب اسمبلی تہوار دھاتی ڈور رومانس سیاسی آگاہی لاہور ملک احمد خان ہلاکت خیزی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسپیکر پنجاب اسمبلی تہوار دھاتی ڈور سیاسی آگاہی لاہور ملک احمد خان ہلاکت خیزی اسپیکر پنجاب اسمبلی کے لیے
پڑھیں:
موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
لاہور میں رات گئے شروع ہونے والی موسلادھار بارش کے بعد اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی، جس کے باعث متعدد رہائشی علاقوں اور اہم شاہراہوں پر کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا جبکہ نشیبی علاقوں میں گھروں میں پانی داخل ہونے، ٹریفک جام اور سیوریج نظام مفلوج ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔شہر میں رات گئے شروع ہونے والی بارش وقفے وقفے سے جاری ہے، جس کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ کینٹ، ڈیفنس اور والٹن سمیت متعدد علاقوں میں سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں جبکہ کئی مقامات پر گھروں میں بھی پانی داخل ہوگیا۔لاہور کینٹ میں موسلادھار بارش کے باعث سیوریج سسٹم جواب دے گیا، جس سے علی ویو گارڈنز، علی پارک، نادرا آباد اور دیگر علاقوں میں کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا۔ مقامی افراد کے مطابق بیشتر علاقے ندی نالوں کا منظر پیش کر رہے ہیں۔دوسری جانب ڈیفنس فیز تھری کے اے، بی اور سی بلاکس میں بھی بارش کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا جبکہ والٹن روڈ اور کیولری گراؤنڈ میں سڑکیں مکمل طور پر زیر آب آگئیں۔ کیولری گراؤنڈ کی مرکزی شاہراہ بھی پانی میں ڈوب گئی، جس کے باعث آمدورفت شدید متاثر رہی۔بارش کے بعد مین ڈیفنس روڈ پر بھی پانی جمع ہونے سے سڑک دریا کا منظر پیش کرنے لگی جبکہ ڈیفنس انڈر پاس بھی پانی سے بھر گیا۔ شہر کے مختلف حصوں میں پانی کھڑا ہونے کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی، گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں اور شہریوں کو گھنٹوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔مسلسل بارش کے باعث لاہور کی بیشتر شاہراہیں جل تھل ہوگئیں جبکہ روزمرہ زندگی بری طرح متاثر رہی۔ شہریوں نے متعلقہ اداروں سے نکاسی آب کے مؤثر انتظامات اور فوری ریلیف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق آج دن پر وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہے گا، مون سون کی بارشوں کے باعث لاہور میں حبس اور گرمی کی شدت میں کمی آگئی ہے۔لاہور میں کم سے کم درجہ حرارت 27 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ زیادہ سے زیادہ 29 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے۔لاہور میں سب سے زیادہ بارش ایئرپورٹ پر 262 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ مناواں میں 200، تاجپور میں 151، کاہنہ میں 142، شادی پورہ میں 129 اور مغل پورہ میں 127 اور اپر مال پر 111 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔جوہر ٹاؤن میں 80، چوک ناخدا میں 60، نشتر ٹاؤن میں 54، اقبال ٹاؤن میں 51، گلبرگ میں 49، ڈیفنس روڈ 45، سمن آباد میں 29، جیل روڈ اور پانی والا تالاب 26، لکشمی چوک اور فرخ آباد میں 24، سگیاں میں 21 اور گلشن راوی میں 17 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ایم ڈی واسا لاہور غفران احمد نکاسی آب آپریشن کی مسلسل مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں شدید بارش کا سلسلہ جاری ہے جس کے سبب اندرون اور بیرون ملک جانے اور آنے والی پروازیں متاثر ہوگئیں۔لاہور سے کراچی، دبئی، جدہ، ابو ظہبی، استنبول جانے اور آنے والی 6 پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں۔ شدید بارش سے پروازوں کی آمد و رفت میں تاخیر ہوئی۔ایئرپورٹ حکام نے مسافروں کو اپنی پروازوں کے بارے میں معلومات لیکر آنے کی ہدایت کی ہے۔