اہل کراچی کا تاریخی’’ جینے دو کراچی مارچ‘‘،حافظ نعیم الرحمن کا 14فروری کو سندھ اسمبلی پر دھرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے سندھ حکومت کی مجرمانہ غفلت و بے حسی ، کراچی کے ساڑھے تین کروڑ عوام کی حق تلفی ، سنگین مسائل اور شہر کی ابتر حالت کے خلاف اتوار کو شاہراہ فیصل پر عظیم الشان اور تاریخی ’’جینے دو کراچی مارچ‘‘ میں شریک لاکھوں مردو و خواتین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم وزیر اعلیٰ اور قابض میئر سے کہتے ہیں کہ وہ خود عوام کی جان چھوڑیں گے یا پھر جنریشن زی کے ہاتھوں بے دخل ہوں گے ، اب قبضے کا نظام نہیں چلے گا ، 14فروری کو ہم سندھ اسمبلی پر ایک دھرنا دیں گے اور اہل کراچی کا حق اور اختیار لے کر اٹھیں گے ، پہلے کے دھرنے میں ہم سے جو وعدہ کیے تھے وہ پورے نہیں کیے، سندھ سالٹ ویسٹ مینجمنٹ اور واٹر کارپوریشن سمیت شہری ادارے با اختیار شہری حکومت کے حوالے کرنا ہوں گے ،ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کراچی پر نہ وفاق نہ صوبے کا قبضہ چلے گا اس شہر کو آئین کے تحت با اختیار شہری حکومت دی جائے جس میں سارے ادارے اس کے ماتحت ہوں اور اس شہری حکومت کو تمام مالی و انتظامی اختیارات ہوں ،ملک کے عوام بادشاہی نظام اور شہزادوں کا راج نہیں چاہتے ، پورے ملک میں تمام صوبوں کو بلدیاتی اداروں کو با اختیار بنانا ہوگا ، ن لیگ اور پیپلز پارٹی خاندانوں ، وراثت اور وصیت کے نام پر چلنے والی پارٹیاں ہیں اور ان کا جمہوریت سے کوئی دور دور تک تعلق نہیں ، ان غیر جمہوری اور غیر سیاسی قابض لوگوں کو اپنے سروں سے ہٹانا ہوگا ،سانحہ گل پلازہ پر ہائی کورٹ کے سینئر جج کی سربراہی میں جوڈیشنل کمیشن بنایا جائے ،آج تک زرداری اور بلاول گل پلازہ نہیں پہنچے ، کراچی 42 فیصد ٹیکس دیتا ہے ،54فیصد ریونیو ایکسپورٹ کرتا ہے لیکن شہباز شریف بھی آج تک گل پلازہ نہیں آئے، عوام کو بتایا جائے کہ ہزاروں غیر قانونی تعمیرات اور عمارتیں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی مرضی کے بغیر آخر کس طرح بن گئی ، یہ سارانظام اور سلسلہ زرداری تک جاتا ہے ، ہم ان لوگوں سے بھی سوال کرتے ہیں کہ جنہوں نے سندھ سے سسٹم کو ختم کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن اس سسٹم کو تو اسلام آباد میں لے جا کر بیٹھا دیا ہے، شہر کے لوگوں نے جماعت اسلامی کو ووٹ دیا تھا کہ میئر جماعت اسلامی کا ہوگا حالات تبدیل ہو جائیں گے اور اس شہر کا نقشہ بدل جائے گا لوگوں کو لوگوں کو ان کا حق ملے گا اچھی ٹرانسپورٹ ملے گی اچھی سڑکیں ملیں گی، پانی بجلی کا نظام ٹھیک ہوگا لیکن ان کو یہ قبول نہیں تھا انہیں نعمت اللہ خان کا دور نہیں دہرانا انہیں چور اور ڈاکو چاہیے ہوتے ہیں جن کا سوئچ کھولو چل پڑتے ہیں بند کرو بند ہو جاتے ہیں اسی لیے سیٹیں بھی ان کو دے دیتے ہیں میئر شپ بھی ان کو دے دیتے ہیں لیکن اب یہ نہیں چلے گا ،امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے کہا کہ آج شاہراہ فیصل پر لاکھوں مردو خواتین اعلان کرتے ہیں کہ اہل کراچی کے حق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے ، اپنا حق لے کر رہیں گے ، قابض میئر اہل کراچی کی جان چھوڑیں ، سانحہ گل پلازہ کی عدالتی تحقیقات کرائی جائے ، اہل کراچی کے ساتھ دھوکے بازی ختم کروا کر کراچی کو با اختیار شہری حکومت دو ،اہل کراچی نے ثابت کیا ہے کہ وہ زندہ و بیدار ہیں اور آج لاکھوں مردو خواتین شاہراہ فیصل پر کراچی کا مقدمہ لڑ رہے ہیں اور جینے کا حق مانگ رہے ہیں، جینے دو کراچی مارچ سے امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان ، اپوزیشن لیڈر کے ایم سی و نا ئب امیر کراچی سیف الدین ایڈووکیٹ، جماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق، نائب امیر و سی ای او الخدمت کراچی نوید علی بیگ، کراچی تاجر اتحاد کے رہنما عتیق میر، جماعت اسلامی کراچی منارٹی ونگ صدر یونس سوہن ایڈووکیٹ ودیگر نے بھی خطاب کیا جبکہ نظامت کے فرائض سیکرٹری کراچی توفیق الدین صدیقی نے ادا کیے، مارچ میں مرد و خواتین، نوجوانوں ، بزرگ، بچے، ڈاکٹرز، انجینئرز، وکلا، علما کرام، اساتذہ کرام ، طلبہ و طالبات ، صحافی ، مزدورو تاجروں سمیت مختلف طبقات اور شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراد نے اہل کراچی کے حق اور مسائل کے حل کے لیے جوق در جوق شرکت کی، شاہراہ فیصل پر ’’جینے دو کراچی کو، نہ وفاق نہ صوبہ حل صرف با اختیار کراچی سٹی حکومت، وزیر اعلیٰ استعفا دو، قابض میئر کرسی چھوڑو‘‘ کے نعروں سے گونج اُٹھی ، مارچ کراچی کے مسائل اور ایشوز پر اہل کراچی کا ترجمان ثابت ہوا، حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہا کہ لاکھوں افراد کا مطالبہ ہے کہ با اختیار شہری حکومت کا نظام دیا جائے ، ٹائون اور یوسی کے نمائندے کو پانی و سیوریج اور گٹر کے ڈھکن لگانے کا اختیار ہو ، انہوں نے عوام سے سوال کیا کہ آج اگر سندھ اسمبلی کی طرف مارچ اور طویل دھرنے کی کال دی جائے تو کیا آپ تیار ہیں تو لاکھوں افراد نے ہاتھ اُٹھا کر ان کی تائید کی ،انہوں نے کہا کہ آج کا جینے دو کراچی مارچ اہل کراچی کی امیدوں کا مرکز بن کر سامنے آیا ہے اور اہل کراچی کے احساسات و جذبات سے نہ صرف کراچی پورے ملک کو امید ہے ، یہ شہر ملک کے ہر علاقے اور زبان بولنے والوں کا شہر ہے ، نوجوان تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں ، روزگار چاہتے ہیں لیکن حکومت نے ان کی تعلیم ، روزگار اور جینے کا حق بھی چھین لیا ہے ، گل پلازہ میں آگ لگی تو قابض میئر 23گھنٹے بعد پہنچے ، وزیر اعلیٰ تو اس کے بھی بعد میں آئے ،چند وڈیروں اور خاندانوں نے اختیارات و وسائل پر قبضہ کر رکھا ہے ،شہر میں ماس ٹرانزٹ اور لائٹ ٹرین کا نظام ہو لیکن ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی نے مل کر اس شہر کو تباہ و برباد کیا ، خواتین ، بچے ، بزرگ ، چنگ چی رکشوں پر سفر کرنے پر مجبور ہیں ، آدھا شہر پانی سے محروم ہے ، بہتر سڑکیں اوربسیں موجود نہیں ، شہر کا یہ حال کرنے میںان لوگوں کی ذمہ داری ہے جنہوں نے اس شہر سے اس کا میئر چھینا اور فارم 47کے ذریعے مسترد کر دیا ،حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جب عوام کا حق مارا جاتا ہے تو عوام کے اندر غم و غصہ پیدا ہوتا ہے ، دہشت گردی کی ہم مذمت کرتے ہیں لیکن دہشت گردوں کی فیکٹریاں بنانے والوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی پالیسیاں بدلیں ، کے پی کے اور بلوچستان کے عوام کو تعلیم ، روزگار اور ان کا حق دیا جائے ،ہم واضح اعلان کرتے ہیں کہ کوئی فوج غزہ نہیں جائے گی ، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دھلان کی طرف سفر کر رہے ہیں ان کے ساتھ چلنے والے ان کا ساتھ دینا چھوڑ دیں ،رمضان المبارک ، جہاد اور جدو جہد کا مہینہ ہے اور ظلم کے خلاف جدو جہد اس ماہ مبارک میں بھی جاری اورتیز کریں گے ، دھرنے میں نماز تراویح بھی پڑھیں گے ، اہل کراچی کے حق کے لیے بھی آواز اٹھائیں گے ، اہل کراچی کا حق لے کر رہیں گے ، منعم ظفر خان نے کہا کہ کراچی ایسا شہر ہے کہ جب کوئی سانحہ ہو جائے تو کوئی حکومت نام کی چیز نظر نہیں آتی ، سانحہ گل پلاز ہ حکومت کی مجرمانہ غفلت ہے ، لوگ اپنے پیاروں کو جلتا دیکھتے رہے اور اپنا کاروبار تباہ ہوتا دیکھتے رہے ، کہاں گئے وزیر اعلیٰ ،کہاں گئے قابض میئر جو 23 گھنٹے بعد وہاں پہنچے، کراچی صوبے کو 95 فیصد دیتا ہے اور سندھ حکومت اس شہر کے ساتھ دھوکے بازی کرتی ہے ، حکومتی ادارے بتائیں کہ آخر کیوں گل پلازہ میں 88سے زائد انسان جل کر مر گئے اور املاک تباہ ہو گئیں ، محکمہ فائر بریگیڈ کی گاڑیوں میں پانی اور ڈیزل نہیں ہوتا آخر کیوں ؟ اس کا جواب کون دے گا ، 1122، پی ڈی ایم اے کہاں تھے ، کیوں کراچی کے لوگوں کو زندہ جلنے کے لیے چھوڑ دیا گیا ، مسلم لیگ ن ، ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی نے مل کر شہر کی آبادی کو آدھا کر دیا ، کراچی کی ساڑھے تین کروڑ آبادی کو ان حکمران پارٹیوں اور ان کی حکومتوں نے کیا دیا ؟ آج بھی آدھا شہر پانی سے محروم ،10,10سال سے منصوبے چل رہے ہیں اور مکمل نہیں ہوتے ، عوام لوڈشیڈنگ کا شکار ہیں ، ٹرانسپورٹ نہیں ہے ، سڑکیں ٹوٹی پھوٹی اور پورا انفرا اسٹرکچر تباہ و برباد ہو چکا ہے اور صرف اعلانات اور جھوٹے دعوے کیے جا رہے ہیں ، گرانٹ کے اعلانات تو بہت کیے جاتے ہیں لیکن عوام کو کچھ دیا نہیں جاتا ، عوام کو خونی ڈمپر اور قاتل ٹینکروں ، چوروں و ڈاکوئوں کے حوالے کر دیا گیا ہے ، 5ڈبل ڈیکر اور400بسیں دے کر کیا اہل کراچی کے ٹرانسپورٹ کا مسئلہ آخر کس طرح حل کیا جاسکتا ہے ، ایم کیو ایم ، پیپلز پارٹی ایک دوسرے کی سہولت کار ی کرتی ہیں ، زرداری کو صدر بنانے میں ایم کیو ایم کا بھی ہاتھ ہے ، کراچی کے عوام کو بے وقوف بنانے کے لیے صرف نورا کشی کرتی ہیں ، سیف الدین ایڈووکیٹ نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے 18سالہ بدترین کارکردگی اور حکمرانی نے یہ حال کر دیا ہے کہ اب عوام جینے کا حق مانگتے ہیں ، آگ لگ جائے تو کم از کم بجھایا تو جا سکے ، عوام پینے کا پانی مانگتے ہیں ، سڑکیں ، بجلی مانگتے ہیں ، عوام کہتے ہیں کہ جو ٹیکس لیتے ہو وہ ہم کو پورا نہیں آدھا ہی لوٹا دو اور کراچی کو اور اہل کراچی کو مسائل سے نجات دلا دو ، اہل کراچی اپنا مینڈیٹ مانگتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جن کو ہم نے ووٹ دیئے تھے ان کو ہی حکومت دو، آج حافظ نعیم الرحمن اور منعم ظفر خان کی زیر قیادت پورے شہر میں یہ نعرہ گونج رہا ہے کہ کراچی کو اس کا حق اور جینے دو ، یہ تحریک اور جدو جہد جاری رہے گی اور عوام اپنا حق لے کر رہیں گے ۔ محمد فاروق نے کہا کہ اب تو اہل کراچی کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ بن گیا ہے ، دیگر حقوق اور مسائل تو اب پیچھے رہ گئے ، اہل کراچی تو اب صرف جینے کا حق مانگتے ہیں ، آج شاہراہ فیصل پر لاکھوں افراد کا سمندر اعلان کر رہا ہے کہ اب بس بہت ہو گیا ، اب کراچی کو اس کا حق نہ دیا تو حکمرانوں کا اقتدار بھی نہیں رہے گا ، جماعت اسلامی نے اسمبلی کے اندر اور اسمبلی کے باہر اہل کراچی کا مقدمہ لڑا ہے ، وزیر اعلیٰ سانحہ گل پلازہ پر مستعفی ہوں وہ کسی اور پر ذمہ داری ڈال کر اپنی جان نہیں چھڑا سکتے ، وزیر اعلیٰ کو اب جانا ہوگا ، جماعت اسلامی حکومت کی کسی بھی انکوائری رپورٹ کو مسترد کرتی ہے ، وزیر بلدیات اصل میں وزیر بلیات ہیں جنہوں نے شہر کو بلائوں میں گھیر دیا ہے اور قابض میئر بھی نا اہل ثابت ہوئے ہیں ۔ نوید علی بیگ نے کہا کہ آج کا مارچ سندھ کی حکومت اور حکمران جماعت کو جھنجوڑنے اور عوام کے مسائل حل کروانے کی جانب متوجہ کرنے اور کراچی کا حق لینے کے لیے منعقد کیا گیا ہے ، کراچی کے عوام بجلی ، پانی ، گیس سمیت بے شمار مسائل کا شکار ہیں ، تعلیم و صحت کا شعبہ تباہ حال ہے اور کہتے ہیں کہ یہ شعبے نجی شعبوں کے حوالے کر دیئے جائیں ، ہم حکومت سے کہتے ہیں کہ جب وہ عوام کے مسائل حل نہیں سکتے تو اقتدار کیوں نہیں چھوڑ دیتے ۔ عتیق میر نے کہا کہ ظلم کے خلاف ڈٹ جانا اور نا انصافی کے خلاف اٹھنا اور اہل حق کا ساتھ دینا وقت کی ضرورت ہے ، سانحہ گل پلازہ نے حکومتی نا اہلی کو ایک بار پھر عیاں کر دیا ہے ، شہر کے اندر آگ سے بچائو اور آگ بجھانے کا کوئی انتظام نہیں ہے ، عوام اور تاجر کب تک حکومتی نا اہلی کی سزا بھگتے رہیں گے ، کراچی میں کاروبار تباہ ، معیشت زمین بوس ہو رہی ہے اور اس کی ذمہ داری حکومت اور اس کی پالیسیوں پر عائد ہوتی ہے ، اہل کراچی اور تاجروں کا کوئی پر سان حال نہیں اگر اب بھی ہم نہ اٹھے تو آخر کب اٹھیں گے ؟ میں حق کی آواز اور ملکی سیاست کے سرخیل حافظ نعیم الرحمن کو خراج تحسین کرتا ہوں اور تاجروں کی طرف سے یقین دلاتا ہوں کہ ہم ان کی جدو جہد اور تحریک میں ان کے ساتھ ہیں ۔ یونس سوہن ایڈوکیٹ نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو سندھ میں حکومت کرتے 18سال ہو گئے ہیں اور 18سال میں بچہ بالغ ہوجاتا ہے لیکن سندھ حکومت کو ابھی تک عقل نہیں آئی ہے ، سندھ حکومت نا اہل و نا بالغ حکومت کر رہی ہے ، اس کو اقتدار میں رہنے کا حق نہیں ہے ، قابض میئر بتائیں کے ایم سی میں کوئی کام رشوت کے بغیرنہیں ہوتا ، عوام کے گھروں پر پانی کا بل تو آتا ہے لیکن پانی نہیں آتا ۔
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن ، سندھ حکومت کی مجرمانہ غفلت و بے حسی، کراچی کے ساڑھے تین کروڑ عوام کی حق تلفی، سنگین مسائل اور شہر کی ابتر حالت کے خلاف شاہراہ فیصل پر عظیم الشان اور تاریخی ’’ جینے دو کراچی مارچ‘‘ میں شریک لاکھوں مرد و خواتین سے خطاب کررہے ہیں
اسٹاف رپورٹر
سیف اللہ
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اختیار شہری حکومت جینے دو کراچی مارچ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن شاہراہ فیصل پر سانحہ گل پلازہ اہل کراچی کا اہل کراچی کے پیپلز پارٹی سندھ اسمبلی کہتے ہیں کہ ایم کیو ایم مانگتے ہیں نے کہا کہ ا سندھ حکومت جینے کا حق وزیر اعلی حکومت کی کرتے ہیں کراچی کو لوگوں کو ہیں لیکن عوام کے رہیں گے کے ساتھ رہے ہیں کا نظام کے عوام عوام کو ہیں اور اور اہل ہے اور دیا ہے کے لیے نہیں ا کر دیا نا اہل اور اس
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔