ٹرمپ کی سرکشی، ایک سلطنت کے زوال کا آخری مرحلہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
اسلام ٹائمز: وینزویلا کے خلاف امریکہ کے یکطرفہ اقدامات اس سرکشی کی ایک اور مثال ہیں۔ غیر قانونی حملہ، ملک کے صدر کا اغوا اور حکومت تبدیل کرنے کی کوششوں پر بعض یورپی حکومتوں کی طرف سے منفی ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ تاہم واشنگٹن نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ ممالک کی قومی خودمختاری ایک اضافی تصور ہے جس کی پابندی صرف دوسروں کے لیے ضروری ہے اور وہ خود اس کا پابند نہیں ہے۔ اسی تناظر میں، سیاسی دباؤ کے ایک ہتھکنڈے طور پر غیرقانونی تجارتی ٹیکسز کا وسیع استعمال بھی ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کا مستقل عنصر بن چکا ہے۔ عالمی تجارت کی تنظیم ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے قوانین کی پرواہ کیے بغیر چین، یورپ، میکسیکو اور حتی اپنے روایتی اتحادیوں کی مصنوعات پر ٹیکسوں کے نفاذ نے اس بین الاقوامی تنظیم کو بھی غیر مؤثر کر دیا ہے اور اقتصادی کثیر الجہتی کے اصول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ تحریر: رضا دہقان
کینیڈا کے وزیراعظم مارک جوزف کارنی کی ڈیوس سمٹ میں پرجوش تقریر عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے ایک بے مثال انداز میں حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ "بین الاقوامی تعلقات پر قانون کی حکمرانی" کے وہم سے باہر نکل آئیں اور طاقت اور بڑی طاقتوں کی مرضی پر مبنی دنیا کی موجودہ حقیقت کو قبول کریں، اور اگلے مرحلے میں اپنی بدنظمی کے عالم میں اس نظام کا مقابلہ کرنے کے لیے خود کو زیادہ مضبوط کریں۔ انہوں نے کہا کہ بڑی طاقتوں کی مرضی، خواہش اور اردے سے ہٹ کر کوئی قانون نہیں پایا جاتا۔ جوزف کارنی نے ایسے حالات میں موجودہ ورلڈ آرڈر کے خلاف آواز اٹھائی ہے اور اس ورلڈ آرڈر پر مبنی بین الاقوامی اداروں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے جب ٹرمپ کی قیادت میں امریکی حکومت نے اپنی سرکشی اور سامراجی منطق کا دائرہ حتی اپنے اتحادیوں تک بڑھا دیا ہے اور گرین لینڈ پر قبضے کے خواب دیکھ رہی ہے۔
اس وقت دنیا جن حالات سے روبرو ہے انہیں امریکی سامراجیت کی حقیقت اور منطق کی عالمی تفہیم میں ایک تاریخی موڑ قرار دیا جا سکتا ہے۔ لہٰذا ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری بار وائٹ ہاؤس میں واپسی صرف امریکہ کے سیاسی ڈھانچے میں اقتدار میں تبدیلی نہیں تھی بلکہ اس ورلڈ آرڈر کے بتدریج خاتمے کے عمل میں ایک اہم موڑ تھا جسے کئی دہائیوں سے دنیا میں "قانون پر مبنی بین الاقوامی نظم" کے عنوان سے ڈھالا گیا تھا۔ ایسا ورلڈ آرڈر جو دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں کی مرکزیت میں تشکیل پایا تھا اور اسے حکومتوں کی جانب سے برہنہ طاقت کے استعمال، جنگی جنون اور آمریت کی منطق کی جگہ لینی تھی۔ لیکن اب اس نے ہر وقت سے بڑھ کر اپنی اصل حقیقت واضح کر دی ہے۔ ٹرمپ حکومت کی گزشتہ ایک سالہ پالیسیوں نے ثابت کر دیا ہے کہ یہ ورلڈ آرڈر درحقیقت بڑی طاقتوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے ایک خوبصورت نقاب تھا۔
امریکہ اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی
غزہ پر تباہ کن جنگ کے دوران امریکہ کی جانب سے اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم کی غیر مشروط حمایت اس طرز عمل کی واضح ترین مثالوں میں سے ایک ہے۔ ایسے حالات میں جب عالمی رائے عامہ، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور حتی بہت سی حکومتیں اسرائیل کے اقدامات کو نسل کشی اور جنگی جرائم کی واضح مثال سمجھتی تھیں، امریکی حکومت نے نہ صرف تل ابیب کو بغیر کسی پابندی کے سیاسی اور فوجی امداد کی فراہمی جاری رکھی بلکہ جب ہیگ میں بین الاقوامی فوجداری عدالت نے بنجمن نیتن یاہو اور یوآو گالنت کو جنگی جرائم کے ملزمین کے طور پر نامزد کیا تو امریکہ نے بین الاقوامی قانون کی پیروی کرنے کی بجائے اس سے براہ راست ٹکر لی اور عدالت کے ججوں کو دھمکیاں تک دیں۔ یہ طرز عمل دنیا کے لیے اس واضح پیغام کا حامل تھا کہ بین الاقوامی انصاف صرف کمزور ممالک کے لیے ہے اور جہاں کوئی امریکی اتحادی ملوث ہوتا ہے وہاں اس کی چھٹی ہو جاتی ہے۔
سفارتکاری کے بجائے طاقت پر مبنی سیاست
وینزویلا کے خلاف امریکہ کے یکطرفہ اقدامات اس سرکشی کی ایک اور مثال ہیں۔ غیر قانونی حملہ، ملک کے صدر کا اغوا اور حکومت تبدیل کرنے کی کوششوں پر بعض یورپی حکومتوں کی طرف سے منفی ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ تاہم واشنگٹن نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ ممالک کی قومی خودمختاری ایک اضافی تصور ہے جس کی پابندی صرف دوسروں کے لیے ضروری ہے اور وہ خود اس کا پابند نہیں ہے۔ اسی تناظر میں، سیاسی دباؤ کے ایک ہتھکنڈے طور پر غیرقانونی تجارتی ٹیکسز کا وسیع استعمال بھی ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کا مستقل عنصر بن چکا ہے۔ عالمی تجارت کی تنظیم ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے قوانین کی پرواہ کیے بغیر چین، یورپ، میکسیکو اور حتی اپنے روایتی اتحادیوں کی مصنوعات پر ٹیکسوں کے نفاذ نے اس بین الاقوامی تنظیم کو بھی غیر مؤثر کر دیا ہے اور اقتصادی کثیر الجہتی کے اصول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
گرین لینڈ، سامراجی منطق لوٹ آنے کی علامت
اگرچہ گرین لینڈ پر قبضہ کرنے کا حالیہ امریکی دعوی پہلی نظر میں غیر حقیقی یا مبالغہ آمیز دکھائی دیتا ہے لیکن یہ درحقیقت انیسویں صدی کی اسی منطق کی عکاسی کرتا ہے جو طاقت پر مبنی تھی۔ قوموں کو خریدنے، ان پر تسلط قائم کرنے یا ان پر اپنی مرضی مسلط کرنے کی منطق۔ یہ نقطہ نظر ظاہر کرتا ہے کہ واشنگٹن کے پالیسی سازوں کی نظر میں قوموں کا حق خود ارادیت یا علاقائی سالمیت جیسے تصورات ثانوی حیثیت رکھتے ہیں اور انہیں با آسانی نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔
بین الاقوامی اداروں سے دستبرداری
ٹرمپ اپنی "امریکہ فرسٹ" پالیسی جاری رکھتے ہوئے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن سے پیرس موسمیاتی معاہدے تک، درجنوں بین الاقوامی تنظیموں اور معاہدوں سے دستبردار ہو چکا ہے۔
اس امریکی اقدام نے نہ صرف صحت اور ماحولیات جیسے اہم شعبوں میں عالمی تعاون کو کمزور کیا ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کیا ہے کہ امریکہ بین الاقوامی اداروں کو اجتماعی تعاون کے ایک ذریعے کے طور پر نہیں بلکہ محض اپنے مفادات کو آگے بڑھانے کے ایک آلہ کار کے طور پر دیکھتا ہے۔ ایک ممتاز نظریہ دان جان مرشائمر کہتے میں: "بڑی طاقتیں اس وقت قوانین کا احترام کرتی ہیں جب یہ قوانین ان کی طاقت مزید بڑھانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں، بصورت دیگر وہ ان قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں میں سب سے آگے ہوں گی۔" دنیا آج ایک اور ورلڈ آرڈر کی جانب گامزن ہے۔ ایسا ورلڈ آرڈر جس کے حتمی خدوخال ابھی تک واضح نہیں ہیں جو چیز واضح ہے وہ یہ کہ گزشتہ ورلڈ آرڈر، اپنے تمام تر نعروں کے ساتھ اپنی ساکھ کھو چکا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بین الاقوامی قوانین کی ورلڈ آرڈر کرنے کی ٹرمپ کی کر دیا کے لیے ہے اور کے ایک چکا ہے دیا ہے
پڑھیں:
شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے وکالت شروع کرنے کا اعلان کر دیا۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید کا کہنا تھا کہ 50 سال بعد زندگی گزارنے کے بعد راولپنڈی بار نے میری ممبر شپ بحال کر دی. 50 سال بعد بار کا تاحیات ممبر بن گیا ہوں۔انہوں نے کہا کہ میری کوشش ہو گی کہ سچائی، قانون اور ملک کی بہتری کے لئے کام کروں. غریب آدمی کے لئے قانونی، عملی اور عملی خدمت کروں گا۔
واضح رہے شیخ رشید نے سردار رزاق چیمبر کے ذریعے ڈسٹرکٹ بار روالپنؔڈی میں اپنی رکنیت بحالی کی درخواست دائر کر دی تھی۔