Islam Times:
2026-07-24@02:24:24 GMT

ٹرمپ کی سرکشی، ایک سلطنت کے زوال کا آخری مرحلہ

اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT

ٹرمپ کی سرکشی، ایک سلطنت کے زوال کا آخری مرحلہ

اسلام ٹائمز: وینزویلا کے خلاف امریکہ کے یکطرفہ اقدامات اس سرکشی کی ایک اور مثال ہیں۔ غیر قانونی حملہ، ملک کے صدر کا اغوا اور حکومت تبدیل کرنے کی کوششوں پر بعض یورپی حکومتوں کی طرف سے منفی ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ تاہم واشنگٹن نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ ممالک کی قومی خودمختاری ایک اضافی تصور ہے جس کی پابندی صرف دوسروں کے لیے ضروری ہے اور وہ خود اس کا پابند نہیں ہے۔ اسی تناظر میں، سیاسی دباؤ کے ایک ہتھکنڈے طور پر غیرقانونی تجارتی ٹیکسز کا وسیع استعمال بھی ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کا مستقل عنصر بن چکا ہے۔ عالمی تجارت کی تنظیم ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے قوانین کی پرواہ کیے بغیر چین، یورپ، میکسیکو اور حتی اپنے روایتی اتحادیوں کی مصنوعات پر ٹیکسوں کے نفاذ نے اس بین الاقوامی تنظیم کو بھی غیر مؤثر کر دیا ہے اور اقتصادی کثیر الجہتی کے اصول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ تحریر: رضا دہقان
 
کینیڈا کے وزیراعظم مارک جوزف کارنی کی ڈیوس سمٹ میں پرجوش تقریر عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے ایک بے مثال انداز میں حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ "بین الاقوامی تعلقات پر قانون کی حکمرانی" کے وہم سے باہر نکل آئیں اور طاقت اور بڑی طاقتوں کی مرضی پر مبنی دنیا کی موجودہ حقیقت کو قبول کریں، اور اگلے مرحلے میں اپنی بدنظمی کے عالم میں اس نظام کا مقابلہ کرنے کے لیے خود کو زیادہ مضبوط کریں۔ انہوں نے کہا کہ بڑی طاقتوں کی مرضی، خواہش اور اردے سے ہٹ کر کوئی قانون نہیں پایا جاتا۔ جوزف کارنی نے ایسے حالات میں موجودہ ورلڈ آرڈر کے خلاف آواز اٹھائی ہے اور اس ورلڈ آرڈر پر مبنی بین الاقوامی اداروں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے جب ٹرمپ کی قیادت میں امریکی حکومت نے اپنی سرکشی اور سامراجی منطق کا دائرہ حتی اپنے اتحادیوں تک بڑھا دیا ہے اور گرین لینڈ پر قبضے کے خواب دیکھ رہی ہے۔
 
اس وقت دنیا جن حالات سے روبرو ہے انہیں امریکی سامراجیت کی حقیقت اور منطق کی عالمی تفہیم میں ایک تاریخی موڑ قرار دیا جا سکتا ہے۔ لہٰذا ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری بار وائٹ ہاؤس میں واپسی صرف امریکہ کے سیاسی ڈھانچے میں اقتدار میں تبدیلی نہیں تھی بلکہ اس ورلڈ آرڈر کے بتدریج خاتمے کے عمل میں ایک اہم موڑ تھا جسے کئی دہائیوں سے دنیا میں "قانون پر مبنی بین الاقوامی نظم" کے عنوان سے ڈھالا گیا تھا۔ ایسا ورلڈ آرڈر جو دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں کی مرکزیت میں تشکیل پایا تھا اور اسے حکومتوں کی جانب سے برہنہ طاقت کے استعمال، جنگی جنون اور آمریت کی منطق کی جگہ لینی تھی۔ لیکن اب اس نے ہر وقت سے بڑھ کر اپنی اصل حقیقت واضح کر دی ہے۔ ٹرمپ حکومت کی گزشتہ ایک سالہ پالیسیوں نے ثابت کر دیا ہے کہ یہ ورلڈ آرڈر درحقیقت بڑی طاقتوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے ایک خوبصورت نقاب تھا۔
 
 امریکہ اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی
غزہ پر تباہ کن جنگ کے دوران امریکہ کی جانب سے اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم کی غیر مشروط حمایت اس طرز عمل کی واضح ترین مثالوں میں سے ایک ہے۔ ایسے حالات میں جب عالمی رائے عامہ، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور حتی بہت سی حکومتیں اسرائیل کے اقدامات کو نسل کشی اور جنگی جرائم کی واضح مثال سمجھتی تھیں، امریکی حکومت نے نہ صرف تل ابیب کو بغیر کسی پابندی کے سیاسی اور فوجی امداد کی فراہمی جاری رکھی بلکہ جب ہیگ میں بین الاقوامی فوجداری عدالت نے بنجمن نیتن یاہو اور یوآو گالنت کو جنگی جرائم کے ملزمین کے طور پر نامزد کیا تو امریکہ نے بین الاقوامی قانون کی پیروی کرنے کی بجائے اس سے براہ راست ٹکر لی اور عدالت کے ججوں کو دھمکیاں تک دیں۔ یہ طرز عمل دنیا کے لیے اس واضح پیغام کا حامل تھا کہ بین الاقوامی انصاف صرف کمزور ممالک کے لیے ہے اور جہاں کوئی امریکی اتحادی ملوث ہوتا ہے وہاں اس کی چھٹی ہو جاتی ہے۔
 
سفارتکاری کے بجائے طاقت پر مبنی سیاست
وینزویلا کے خلاف امریکہ کے یکطرفہ اقدامات اس سرکشی کی ایک اور مثال ہیں۔ غیر قانونی حملہ، ملک کے صدر کا اغوا اور حکومت تبدیل کرنے کی کوششوں پر بعض یورپی حکومتوں کی طرف سے منفی ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ تاہم واشنگٹن نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ ممالک کی قومی خودمختاری ایک اضافی تصور ہے جس کی پابندی صرف دوسروں کے لیے ضروری ہے اور وہ خود اس کا پابند نہیں ہے۔ اسی تناظر میں، سیاسی دباؤ کے ایک ہتھکنڈے طور پر غیرقانونی تجارتی ٹیکسز کا وسیع استعمال بھی ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کا مستقل عنصر بن چکا ہے۔ عالمی تجارت کی تنظیم ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے قوانین کی پرواہ کیے بغیر چین، یورپ، میکسیکو اور حتی اپنے روایتی اتحادیوں کی مصنوعات پر ٹیکسوں کے نفاذ نے اس بین الاقوامی تنظیم کو بھی غیر مؤثر کر دیا ہے اور اقتصادی کثیر الجہتی کے اصول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
 
گرین لینڈ، سامراجی منطق لوٹ آنے کی علامت
اگرچہ گرین لینڈ پر قبضہ کرنے کا حالیہ امریکی دعوی پہلی نظر میں غیر حقیقی یا مبالغہ آمیز دکھائی دیتا ہے لیکن یہ درحقیقت انیسویں صدی کی اسی منطق کی عکاسی کرتا ہے جو طاقت پر مبنی تھی۔ قوموں کو خریدنے، ان پر تسلط قائم کرنے یا ان پر اپنی مرضی مسلط کرنے کی منطق۔ یہ نقطہ نظر ظاہر کرتا ہے کہ واشنگٹن کے پالیسی سازوں کی نظر میں قوموں کا حق خود ارادیت یا علاقائی سالمیت جیسے تصورات ثانوی حیثیت رکھتے ہیں اور انہیں با آسانی نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔
بین الاقوامی اداروں سے دستبرداری
ٹرمپ اپنی "امریکہ فرسٹ" پالیسی جاری رکھتے ہوئے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن سے پیرس موسمیاتی معاہدے تک، درجنوں بین الاقوامی تنظیموں اور معاہدوں سے دستبردار ہو چکا ہے۔
 
اس امریکی اقدام نے نہ صرف صحت اور ماحولیات جیسے اہم شعبوں میں عالمی تعاون کو کمزور کیا ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کیا ہے کہ امریکہ بین الاقوامی اداروں کو اجتماعی تعاون کے ایک ذریعے کے طور پر نہیں بلکہ محض اپنے مفادات کو آگے بڑھانے کے ایک آلہ کار کے طور پر دیکھتا ہے۔ ایک ممتاز نظریہ دان جان مرشائمر کہتے میں: "بڑی طاقتیں اس وقت قوانین کا احترام کرتی ہیں جب یہ قوانین ان کی طاقت مزید بڑھانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں، بصورت دیگر وہ ان قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں میں سب سے آگے ہوں گی۔" دنیا آج ایک اور ورلڈ آرڈر کی جانب گامزن ہے۔ ایسا ورلڈ آرڈر جس کے حتمی خدوخال ابھی تک واضح نہیں ہیں جو چیز واضح ہے وہ یہ کہ گزشتہ ورلڈ آرڈر، اپنے تمام تر نعروں کے ساتھ اپنی ساکھ کھو چکا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: بین الاقوامی قوانین کی ورلڈ آرڈر کرنے کی ٹرمپ کی کر دیا کے لیے ہے اور کے ایک چکا ہے دیا ہے

پڑھیں:

ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔

امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔

تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • آزادکشمیرکے ضلع میرپور میں انٹرنیٹ سروسز مرحلہ وار بحال ہونا شروع
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • پی سی بی نے 27 -2026 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا اعلان کردیا، ورلڈ کپ تیاریوں پر توجہ مرکوز
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران