بنگلادیش: شیخ حسینہ واجد کو 10 سال کی سزا سنادی گئی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
بنگلا دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کو 10 سال اور ان کی بھتیجی ٹیولپ صدیقی کو 4 سال قید کی سنادی گئی ہے۔
غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈھاکا میں خصوصی عدالت نے پورباچل پلاٹ فراڈ سے متعلق درج 2 مقدمات میں بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم کو 10 سال قید اور ان کی بھتیجی اور برطانوی رکن پارلیمنٹ ٹیولپ صدیقی کو 4 سال قید کی سزا دی۔
ڈھاکا کی خصوصی عدالت 4 کے جج محمد ربیع العالم نے شیخ حسینہ کی دوسری بھتیجی ازمینہ صدیق اور بھتیجے رادوان مجیب صدیق بابی کو بھی 2 مقدمات میں سے ایک میں 7 سال قید کی سزا سنائی۔
ازمینہ اور بابی سمیت باقی 8 ملزمان پر 1-1 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا، اگر ایسا انھوں نے یہ جرمانہ ادا نہیں کیا تو 6 ماہ مزید جیل میں گزارنے ہونگے۔
فیصلے سے متعلق اے سی سی کے سرکاری وکیل میر احمد علی سلام نے بتایا کہ دوپہر تقریباً 12.
سابق وزیراعظم شیخ حسینہ اور ان کے 3 اہلخانہ کے علاوہ عدالت نے 2 مقدمات میں 11 دیگر ملزمان کو 10 سال قید اور ایک ملزم کو 2 سال جیل کی سزا سنائی ہے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ گزشتہ سال 27 نومبر سے یکم دسمبر کے درمیان، شیخ حسینہ کو 4 بدعنوانی کے مقدمات میں 26 سال کی سزا سنائی گئی تھی۔
شیخ حسینہ کی بیٹی صائمہ واجد اور بیٹے صجیب واجد جوئے، بہن شیخ ریحانہ اور بھتیجی ٹیولپ کو بھی 4-4 مقدمات میں سے ایک میں قصوروار ٹھہرایا گیا تھا، اینٹی کرپشن کمیشن کے دائر ہر مقدمے کی سماعت 15 پیشیوں کے اندر مکمل ہوئی تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل مقدمات میں کو 10 سال سال قید کی سزا
پڑھیں:
سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد:عدالت عظمیٰ نے بڑا فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں ہے۔
سپریم کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلیں اور ضمانت کی درخواستیں وفاقی آئینی عدالت سنے گی ۔ نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اختیار سماعت ہی نہیں ہے۔
فیصلے میں قرار دیا گیا کہ نیب کے کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھے جائیں گے۔
واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا اور رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کی تھی۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اب بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی۔