Al Qamar Online:
2026-06-02@22:33:25 GMT

بنگلادیش: شیخ حسینہ واجد کو 10 سال کی سزا سنادی گئی

اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT

بنگلادیش: شیخ حسینہ واجد کو 10 سال کی سزا سنادی گئی

بنگلا دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کو 10 سال اور ان کی بھتیجی ٹیولپ صدیقی کو 4 سال قید کی سنادی گئی ہے۔

غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈھاکا میں خصوصی عدالت نے پورباچل پلاٹ فراڈ سے متعلق درج 2 مقدمات میں بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم کو 10 سال قید اور ان کی بھتیجی اور برطانوی رکن پارلیمنٹ ٹیولپ صدیقی کو 4 سال قید کی سزا دی۔

ڈھاکا کی خصوصی عدالت 4 کے جج محمد ربیع العالم نے شیخ حسینہ کی دوسری بھتیجی ازمینہ صدیق اور بھتیجے رادوان مجیب صدیق بابی کو بھی 2 مقدمات میں سے ایک میں 7 سال قید کی سزا سنائی۔

ازمینہ اور بابی سمیت باقی 8 ملزمان پر 1-1 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا، اگر ایسا انھوں نے یہ جرمانہ ادا نہیں کیا تو 6 ماہ مزید جیل میں گزارنے ہونگے۔

فیصلے سے متعلق اے سی سی کے سرکاری وکیل میر احمد علی سلام نے بتایا کہ دوپہر تقریباً 12.

20 بجے عدالت نے انھیں سزا کا فیصلہ سنایا،

سابق وزیراعظم شیخ حسینہ اور ان کے 3 اہلخانہ کے علاوہ عدالت نے 2 مقدمات میں 11 دیگر ملزمان کو 10 سال قید اور ایک ملزم کو 2 سال جیل کی سزا سنائی ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ گزشتہ سال 27 نومبر سے یکم دسمبر کے درمیان، شیخ حسینہ کو 4 بدعنوانی کے مقدمات میں 26 سال کی سزا سنائی گئی تھی۔

شیخ حسینہ کی بیٹی صائمہ واجد اور بیٹے صجیب واجد جوئے، بہن شیخ ریحانہ اور بھتیجی ٹیولپ کو بھی 4-4 مقدمات میں سے ایک میں قصوروار ٹھہرایا گیا تھا، اینٹی کرپشن کمیشن کے دائر ہر مقدمے کی سماعت 15 پیشیوں کے اندر مکمل ہوئی تھی۔

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل مقدمات میں کو 10 سال سال قید کی سزا

پڑھیں:

میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔

درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔

(جاری ہے)

تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔

عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔

متعلقہ مضامین

  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی