بانی پی ٹی آئی کی بہنیں اپنے بھائی کی رہائی کی جو کوششیں کر رہی ہیں وہ ان کا جمہوری حق ہے جس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ ماضی میں محترمہ نصرت بھٹو اور بے نظیر بھٹو نے بھی بھٹو صاحب کی رہائی کی تحریک چلائی تھی اور دونوں کو مارشل لا دور میں گرفتار بھی کیا گیا تھا اور جنرل پرویز حکومت میں دو تہائی اکثریت کے حامل میاں نواز شریف منتخب وزیر اعظم کی حکومت جہاز اغوا کے جھوٹے الزام میں برطرف کرکے انھیں گرفتار کیا گیا تھا جن کی رہائی کے لیے اسیر نواز شریف کی اہلیہ محترمہ کلثوم نواز نے بھی اپنے شوہر کی رہائی کے لیے ملک بھر میں دورے کرکے تحریک چلائی تھی مگر انھیں گرفتار نہیں کیا گیا تھا اور بعد میں شریف فیملی حکومت سے معاہدہ کرکے سعودی عرب چلی گئی تھی جو بعد میں نہ صرف واپس آئی اور نواز شریف اور شہباز شریف اقتدار میں بھی آئے مگر تیسری بار انھیں اعلیٰ عدلیہ کے ذریعے برطرف کرایا گیا اور چند روز ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگا کر وہ خاموش ہو کر تو بیٹھ گئے تھے مگر انھیں برطرف کرنے والی عدلیہ سے انھیں اور ان کی بیٹی مریم نواز کو سزا بھی دلوائی گئی تھی جو انھوں نے برداشت بھی کی تھی۔
پی ٹی آئی کے وزیر اعظم سیاسی دشمنی میں اس انتہا پر آ گئے تھے کہ جنھوں نے اخلاقی اقدار کا بھی خیال نہیں کیا تھا اور تین بار کے وزیر اعظم نواز شریف کو گرفتار کرا کر بھی وہ مطمئن نہیں تھے جب کہ آج وہ جو سہولیات جیل میں استعمال کر رہے ہیں انھوں نے نواز شریف کی بیرک سے اے سی اتارنے کی بھی دھمکی دی تھی مگر عمل نہیں کرا سکے تھے جو اسیر نواز شریف کو قانونی طور میسر تھا۔ دس سال کے اقتدار کا خواب دیکھنے والے پی ٹی آئی کے بانی نے یہ ضرور کیا تھا کہ نواز شریف کو لندن میں بستر مرگ پر پڑی اہلیہ کلثوم نواز سے آخری بات کرنے بھی نہیں دی تھی اور آج وہ واویلا کر رہے ہیں کہ (ن) لیگ کی حکومت میں انھیں لندن میں موجود اپنے بیٹوں سے فون پر بات نہیں کرنے دی جاتی اور وہ اپنا نواز شریف اور شہباز شریف کے ساتھ اختیار کیا گیا سلوک بھول گئے ہیں۔
سابق وزیر اعظم بھٹو کی پھانسی تین بار کے منتخب وزیر اعظم نواز شریف کی برطرفی سے بڑا سانحہ تھا اور بھٹو صاحب عالمی طور پر بھی اپنی شناخت رکھتے تھے جن کی پھانسی پر پیپلز پارٹی نے نہ صرف گرفتاریاں دی تھیں بلکہ بہت سوں نے خود کو آگ بھی لگائی تھی مگر پیپلز پارٹی کی قیادت نے منفی سیاست نہیں کی تھی اور (ن) لیگ کی قیادت بھی اپنے وزیر اعظم کی بار بار برطرفی پر منفی سیاست سے دور رہی تھی۔ دونوں پارٹیوں کا رویہ اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف انتہا پر نہیں تھا۔ بے نظیر بھٹو کی حکومت سویلین صدور نے دو بار برطرف کی تھی جس کی وجوہات محترمہ جانتی تھیں مگر انھوں نے بھی منفی اور اشتعال انگیز سیاست نہیں کی تھی اور پہلی برطرفی کے بعد محترمہ دوبارہ بھی وزیر اعظم منتخب ہوئی تھیں اور زندہ رہتیں تو انھیں ہی تیسری بار اقتدار ملنا یقینی تھا۔
محترمہ کے منفی سیاست نہ کرنے پر جنرل پرویز مشرف کو دبئی جا کر مجبوری میں ملاقات کرنا پڑی تھی۔ محترمہ کی شہادت کے بعد جب 2008 میں پی پی اور (ن) لیگ نے پہلی بار مل کر حکومت بنائی تو جنرل پرویز کو مستعفی ہونا پڑا تھا ۔ 2013 میں ملک میں پہلی بار وزیر اعظم نواز شریف نے صدر آصف زرداری کی مدت مکمل ہونے پر وزیر اعظم ہاؤس میں الوداعی عشائیہ بھی دیا تھا مگر پی ٹی آئی کے وزیر اعظم نے اپنی منفی سیاست اور مسلم لیگ (ن) کی دشمنی میں (ن) لیگی صدر ممنون حسین کو مدت مکمل ہونے پر انھیں عزت سے رخصت نہیں کیا تھا جب کہ انھوں نے حلف صدر ممنون حسین کی موجودگی میں لیا تھا۔
ایک دوسرے کے سخت سیاسی مخالف نواز شریف اور بے نظیر بھٹو نے لندن میں ہونے والے میثاق جمہوریت کے تحت ایک دوسرے کے خلاف منفی سیاست نہ کرنے کی جو اچھی مثال قائم کی تھی اس کی دھجیاں 2018 میں بالاتروں کے ذریعے اقتدار میں آنے والے پی ٹی آئی کے وزیر اعظم نے خود اپنی منفی سیاست سے اڑا دی تھیں جو مثال اگر برقرار رکھی جاتی تو ملک میں منفی سیاست آج عروج پر نہ ہوتی۔
2022 میں پی ٹی آئی کے وزیر اعظم کو کسی سازش کے ذریعے نہیں بلکہ آئینی طور پر پہلی بار برطرف کیا گیا تھا جس پر اشتعال میں آ کر برطرف وزیر اعظم نے اداروں کے خلاف نامناسب رویہ اختیار کیا اور یہاں تک کہا تھا کہ مجھے ہٹانے سے بہتر تھا کہ پاکستان پر ایٹم بم گرا دیا جاتا۔ برطرف وزیر اعظم نے ملک دشمنی میں اپنی منفی سیاست کا جو پودا لگایا تھا وہ اب قدآور درخت بن چکا ہے اور منفی سیاست اب دشمنی میں تبدیل ہو چکی ہے جسے اب بانی کی بہنیں مزید پروان چڑھا رہی ہیں اور ان کی ایک بہن نے اپنے اقتدار والے صوبے کے پی جا کر اپنے کارکنوں سے کہا ہے کہ وہ آٹھ فروری کو کچھ کرکے دکھائیں اور تربیلا سے ملک میں بجلی کی فراہمی روک دیں۔
سزا یافتہ بانی نے اپنی اسیری کے ڈھائی سالوں میں کسی سیاسی دور اندیشی کا مظاہرہ نہیں کیا ورنہ ممکن تھا کہ وہ قید نہ ہوتے اور اپنی تعمیری سیاست سے 2024 میں ہی پی ٹی آئی کے دوبارہ اقتدار کی راہ ہموار کر لیتے مگر انھوں نے اپنی برطرفی کے بعد الزامات لگا کر منفی سیاست شروع کی تھی وہ اس میں کمی نہیں لا رہے بلکہ مسلسل اضافہ کر چکے ہیں مگر ان پر اب بھی جیل میں وہ حکومتی سختیاں نہیں ہیں جو انھوں نے نواز شریف، آصف زرداری اور دونوں کے پارٹی رہنماؤں پر کرائی تھیں اور جھوٹے مقدمات میں انھیں قید کرایا تھا جو بعد میں عدالتوں کے ذریعے رہائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔
اسیر بانی کی غیر سیاسی بہنیں اب بھائی کی محبت میں انتہا پسندی کی سیاست کر رہی ہیں اور میڈیا میں آنے کے لیے اعتدال کی بجائے خطرناک اور ملک دشمن منفی سیاست کر رہی ہیں جس کا ان کے اسیر بھائی کو ذاتی نقصان ہو رہا ہے اور ان کی مشکلات بڑھا دی گئی ہیں۔ ایک سینئر تجزیہ کار کے مطابق پی ٹی آئی میں سیاسی کارکنوں کی بہت کمی ہے جو قربانیاں دے سکتے ہیں اور صرف 18 سال عمر کے سیاست سے ناواقف بچے ہیں جنھیں حقائق کا علم ہے نہ وہ ملکی مفاد دیکھتے ہیں ان سے شکایت کیسی، شکایات تو بانی کی بہنوں نے اپنی منفی سیاست سے پیدا کی ہیں جنھیں دور اندیشی کا مظاہرہ اور مثبت سیاست پر اپنی کوشش جاری رکھنی چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پی ٹی آئی کے وزیر اعظم اپنی منفی سیاست کیا گیا تھا نواز شریف کے ذریعے کی رہائی سیاست نہ نہیں کیا سیاست سے انھوں نے نے اپنی تھی اور نہیں کی رہی ہیں تھا اور تھا کہ کی تھی نے بھی دی تھی
پڑھیں:
باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔
باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔
کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔
حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔
باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔
دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔
شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔
باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔
اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔
یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔
اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔