کراچی کی بڑی شاہراہوں پر دھرنوں اور احتجاج پر سختی کرینگے ‘ وزیر اعلیٰ سندھ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260203-01-22
کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ واضح کیا کہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ شارع فیصل اور دیگر بڑی شاہراہوں پر ٹریفک بند نہیں ہونے دی جائے گی کیونکہ دھرنوں سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے پولیو مہم کے افتتاح کے موقع پر میڈیا سے گفتگو میں جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن کے 14 فروری کو دھرنے کے اعلان پر ردعمل دیتے ہوئے کیا، وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا یہ لوگ جس کو قابض ٹولہ کہتے ہیں وہ عوام کے ووٹوں سے آیا ہے، شہر کی بڑی شاہراہوں پر دھرنوں اور احتجاج پر سختی کریں گے۔ مراد علی شاہ کا کہنا تھا حیرت ہوتی ہے کہ سانحہ گل پلازہ کی تشہیر کی جا رہی ہے، اعتراض ان پر ہے جو اس سانحے کو سیاست کے لئے استعمال کر رہے ہیں، حکومت سانحہ کے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہے ان کا کہنا تھا سانحے کے بعد حکومت سندھ نے متاثرہ افراد کے لواحقین کے لیے ایک کروڑ روپے فی کس امداد کا اعلان کیا تھا، ہم نے 26 گھروں میں جاکر لوگوں چیک دئیے لیکن میڈیا کو ساتھ لیکر نہیں گئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔
میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔
یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔