عالمی یوم حجاب ‘ ڈھاکا یونیورسٹی کی طالبات میں 1200 حجاب تقسیم
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260203-08-13
ڈھاکا (صباح نیوز) عالمی یوم حجاب کے موقع پر ڈھاکا یونیورسٹی کی طالبات میں 1200 حجاب تقسیم کیے گئے، ایک سیمینار اور انسانی زنجیر کا اہتمام کیا گیا۔ ڈھاکا یونیورسٹی سینٹرل اسٹوڈنٹس یونین کے نائب صدر صادق قائم کی زیر صدارت ہونے والے اس سیمینار میں شمیمہ تسنیم، صدر ساملیت ناری ٹریاس اور شاہ جلال یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی پروفیسر، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی ملائیشیا کی پولیٹیکل سائنٹسٹ اور جینڈر ریسرچ فیلو سمعیہ رابعہ اورسیکرٹری یونیورسٹی روم نے شرکت کی۔ ڈھاکا یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کی سینٹرل ایگزیکٹیو کے ممبران سبی کنہار تمنا اور ام اسوطن رافعہ نے سیمینار کی نظامت کی جبکہ کیریئر ڈیولپمنٹ سیکرٹری مظہر الاسلام اور سینٹرل ایگزیکٹو ممبر ریحان الدین بھی موجود تھے۔ کامن روم، ریڈنگ روم اور کیفے ٹیریا کی سیکرٹری ام سلمیٰ اور یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کی ایگزیکٹو ممبران سبی کنہار تمنا اور ام اسوتون رافعہ کی قیادت میں حجاب ریلی نکالی گئی۔ یہ ریلی یونیورسٹی کے وی سی احاطے سے شروع ہوئی اور ٹی ایس سی احاطے میں واقع راجو مجسمہ کے سامنے اختتام پذیر ہوئی۔ ریلی میں طالبات نے حجاب میرا حق ہے، اسے کون چھین سکتا ہے، دریا سے سمندر تک، فلسطین آزاد ہوگا سمیت مختلف نعرے لگائے۔ بعد ازاں ٹی ایس سی احاطے میں راجو مجسمہ کے سامنے انسانی زنجیر بنائی گئی۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ حجاب صرف لباس کا ٹکڑا نہیں ہے بلکہ یہ ہمارے مذہبی عقائد، ذاتی شناخت اور عزت نفس کا لازمی حصہ ہے، حالیہ دنوں میں حجاب پہننے والی ماؤں اور بہنوں کو مختلف طریقوں سے ہراساں کیا گیا ہے، یہ انتہائی تشویشناک اور قابل مذمت ہے۔ مقررین نے ان واقعات کی منصفانہ تحقیقات اور مجرموں کو عبرتناک سزا دینے کا مطالبہ کیا۔ڈھاکا یونیورسٹی کے آڈیٹوریم میں ’’حجاب، فخر اور آزادی کی علامت‘‘ کے عنوان سے ایک سیمینار میں مقررین میں تربیہ ایجوکیشن نیٹ ورک کے چیئرمین پروفیسر مختار احمد، استاد اور محقق ڈاکٹر نازمون نہار اور اس سہوا انسٹی ٹیوٹ آف نالج کی ڈائریکٹر رئیسہ رفعت زوئن شامل تھیں۔سیمینار کے مقررین نے حجاب کی مذہبی، سماجی اور اخلاقی اہمیت پر روشنی ڈالی اور اس بات کا بھی ذکر کیا کہ حجاب خواتین کے وقار، شناخت اور شخصی آزادی کی علامت ہے۔ اس کے علاوہ مقررین نے معاشرے میں باہمی احترام، رواداری کو فروغ دینے اور مذہبی حقوق کے تحفظ میں حجاب کی بے پناہ اہمیت پر بھی بات کی۔ سیمینار میں یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات کے اساتذہ اور تقریباً 2000 طالبات نے شرکت کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ڈھاکا یونیورسٹی
پڑھیں:
شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ عالمی کشیدگی کے تناظر میں شنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم پر ہونے والی یہ ملاقاتیں خطے میں سفارتی تعاون اور مشترکہ حکمت عملی کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ ایران نے شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس میں یکطرفہ پالیسیوں، بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی اور طاقت کے غیر قانونی استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کثیرالجہتی تعاون کو موجودہ عالمی حالات میں ناگزیر قرار دیا ہے۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کرغزستان کے سیاحتی شہر چولپون آتا میں جاری اجلاس کے موقع پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران شنگھائی تعاون تنظیم اور اس جیسے دیگر کثیرالجہتی فورمز کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں بڑھتی ہوئی یکطرفہ پالیسیاں، ریاستوں کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کی خلاف ورزیاں اور طاقت کا غیر قانونی استعمال بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے منشور اور عالمی قانونی نظام کی بنیادوں کو کمزور کر رہے ہیں۔ اگرچہ اسماعیل بقائی نے کسی ملک کا نام نہیں لیا، تاہم انہوں نے ماضی میں بھی اسی نوعیت کے بیانات میں امریکا کی خارجہ پالیسی اور اس کے اقدامات پر تنقید کی ہے۔ ایران 2023ء میں شنگھائی تعاون تنظیم کا باقاعدہ رکن بنا تھا۔ یہ تنظیم چین اور روس کی قیادت میں قائم ایک اہم یوریشیائی سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی فورم ہے، جس میں پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک شامل ہیں۔ وزرائے خارجہ کا یہ اجلاس تنظیم کے آئندہ سربراہی اجلاس کی تیاریوں کا حصہ ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ سربراہ اجلاس میں علاقائی سلامتی، تجارتی روابط، اقتصادی تعاون اور رکن ممالک کے درمیان شراکت داری کے فروغ جیسے اہم موضوعات پر غور کیا جائے گا۔